ظالم لوک

Tuesday,24 February 2009
از :  
زمرات : میری زندگی

ہمارے گاؤں میں ایک گھر ہے، جن کے دو بیٹے ذہنی معذور عرف عام میں پاگل تھے ۔ بڑا لڑکا کچھ کم جبکہ چھوٹا لڑکا نسبتاً اِس معذوری کا زیادہ شکار تھا ۔ اس کا اصل نام تھا خالد لیکن گاؤں بھر میں “خالو جھلا” کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ مجھ سے تقریباً کوئی دس پندرہ سال عمر میں بڑا تھا ۔ سارا دِن خالو جھلا گاؤں کی مختلف گلیوں میں بچوں کی “انٹرٹینمنٹ” کا سامان بنا رہتا تھا، نوجوان لڑکے اسے بچوں کی طرح تنگ تو نہیں کرتے تھے، لیکن اُس سے ٹھٹھے لگاتے تھے، کوئی گزر رہا ہوتا تو اُسے کہتے خالو اِسے یہ کہو، اور خالو جھلا وہ کہہ دیتا، جس پر قہقہے لگائے جاتے ۔
خاص طور پر بچوں کی مشق ستم، جس میں وہ اُسے تنگ کرتے اور جب وہ گالیاں دیتا تو دور کھڑے دانت نکالتے رہتے ۔یا اُسے تنگ کر کے بھاگتے تو وہ ان کے پیچھے گلیوں میں دوڑیں لگاتا رہتا ۔ البتہ پاگل ہونے کے باوجود خالو پانچ وقت مسجد میں نماز ضرور پڑھتا تھا، اور میاں صاحب(پنجاب میں مسجد امام کو میانڑا اور گھرانے کو میانڑے کہا جاتا ہے ) نے اس کے مسجد آنے پر بھی اعتراض جڑ دیا، لیکن لوگوں نے ان کی بات پر خاص کان نہیں دھرے ۔
اب کی بار پاکستان جانے پر گاؤں میں خالو جھلا کہیں نظر نہیں آیا، نہ اُس کی اتنی اہمیت تھی کہ کسی سے اُس کا پوچھا جاتا ۔ ہمارے یہاں موجودگی کے دوران میرے ایک چچا کی وفات ہو گئی تھی، اُن کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لئے قبرستان کا رُخ کیا تو قبرستان میں ایک قبر کے گِرد احاطہ کر کے جھونپڑی نما عمارت بنی ہوئی تھی، جس پر مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے ہوئے تھے اور وہاں کچھ خواتین و حضرات قبر پر دُعا (منتیں) مانگ رہے تھے ۔ چچا زاد سے پوچھا یہ کِس کی قبر ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ یہ خالد کی قبر ہے، لوگ یہاں آ کر منتیں مانگتے ہیں اور دو سال سے چھوٹا سا عُرس بھی مناتے ہیں ۔
اور میں سوچ رہا تھا کیسی قوم ہیں ہم، زندہ لوگوں کو پتھر مارتے ہیں، اور مر جانے پر انہیں پیر بنا لیتے ہیں ۔

تبصرہ جات

“ظالم لوک” پر 8 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. ڈفر says:

    ہم ، ہم ایویں تو نہیں

  2. فیصل says:

    مجھے اپنے مرحوم خالو کی ایک بات یاد آ گئی. کئی برس پہلے اسی کی دھائی میں غالبا علامہ اقبال کی برسی تھی اور کئی دنوں سے ٹی وی پر گانے، شاعری وغیرہ وغیرہ چل رہے تھے، ایک دن خالو مرحوم جل کر بولے “یار یہ پاکستانی بھی بس، مرے کے … پر مکھن تھوپتے ہیں. یہ الفاظ انھوں نے سرائیکی میں کہے اور سنسر شدہ لفظ کا اندازہ آپ خود لگا لیں. مجھے یہ بات آج تک نہیں بھولی بلکہ آپکا بلاگ دیکھ کر تازہ ہو گئی.
    🙂

  3. فیصل says:

    میرے تبصرے میں لفظ دہائی ہے دھائی نہیں، معذرت.

  4. یہ کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں کہ ہماری قوم کی اکثریت مُردہ پرست ہے ۔ کسی زمانہ میں ایک شخص کا گدھا مر گیا تو اُس نے اُسے نوشہرہ اور پشاور کے درمیان جی ٹی روڈ کے کنارے دفن کر دیا ۔ کچھ عرصہ بعد لوگ وہاں چڑھاوے چڑھانے لگے ۔ خی ٹی روڈ پر ہی چوہڑ اور کشمیر روڈ انتر سیکشن کے درمیان 1963ء میں کچھ پتھر اکٹھے کر کے قبر سی بنا دی ۔ آجکل وہاں باقاعدہ مقبر بنا ہوا ہے اور لوگ چڑھاوے چڑھاتے اور منتیں مانگتے ہیں ۔

  5. دوست says:

    ہنسوں یا روؤں سمجھ نہیں آرہی.

  6. یہ ظلم صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ سننے اور دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بچوں کے سروں پر لوہے کی ٹوپیاں پہنا کر انہیں حال کا ذہنی معذور اور مستقبل کا پیر بنانے کا ناپاک عمل بھی جاری ہے.

    نوٹ. کچھ الفاظ کے ساتھ ہاتھی والی ‘ہ’ دو چشمی ‘ھ’ میں تبدیل ہورہی ہے .. جیسا کے “ذہنی” میں. غالبا فانٹس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے.

  7. عمر says:

    Thank u Jehanzaib
    Really bari afsos ka moqam hai keh zenda logon ko patron se martay hain our murda logon k samney haat pelatay hai jo khod apney lie tu kuch nahi ker saktay dusron k lie kia karingay.
    duston samjney ki kosh karo kahi aisa na ho keh aagy jakey peechay mornay ka moqa na melay.
    ek tamater ki garnti hai liken insan ki garanti nahi keh kal wo zenda hoga keh nahi.

  8. اس میں کونسی بڑی بات ہے پاکستان میں تو کتے کی قبر پر بھی لوگ منتیں ماننے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔ اللہ ہدایت دے

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔