ایک سوال

Sunday,20 April 2008
از :  
زمرات : میری زندگی, مذہب

ایک سوال ہے جو گھوم پھر کر کسی نہ کسی صورت، کہیں نہ کہیں مجھ سے پوچھ لیا جاتا ہے ۔ میرا نہیں خیال کہ یہ صرف حالت صرف مجھ اکیلے کی ہے، آپ لوگ بھی یقیناً ایسی صورتحال دیکھ چکے ہوں گے ۔
میرا پھوپھو زاد بھائی آج کل امریکہ یاترا کو آیا ہے، ایک ماہ کے کے لئے ۔ جب اس طرح لوگ امریکہ گھومنے پھرنے آتے ہیں تو ساتھ ایک عدد فہرست بھی لاتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مقامات دیکھ سکیں ۔ اُس کو بھی کسی نے کہا تھا کہ اگر نیویارک جاؤ تو اٹلانٹک سٹی دیکھے بغیر نہیں آنا ۔
ہم آٹھ سال سے امریکہ مقیم ہیں، اور میں اس عرصہ میں کبھی اٹلانٹک سٹی نہیں گیا، حالانکہ میرے دوست جاتے رہتے ہیں، وجہ یہ نہیں کہ مجھے گھومنے پھرنے کا شوق نہیں ہے، بلکہ اس سے زیادہ یہ ہے کہ مجھے ایسی جگہوں پر کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی ۔ اگر گھومنے جانا ہو تو میری زیادہ تر کوشش ہوتی ہے کہ قدرتی نظاروں والی جگہ پر جایا جائے ۔
اٹلانٹک سٹی میں کیسنو ہیں، اور یہی اس کی شہرت کا باعث ہیں۔ لوگ امیر ہونے کے خواب لے کر جاتے ہیں اور جو کچھ لے کر جاتے ہیں، وہیں خرچ کر واپس آ جاتے ہیں ۔ میں نے ازراہ مذاق اپنے کزن کو کہا کہ میں جوا خانے نہ جاتا ہوں نہ لے کر جاتا ہوں ۔ تب اُس نے آگے سے یہ بات کہہ دی کہ تم جیسے پانچ وقت کے نمازی ہو، جو اب بڑے مسلمان بن رہے ہو ۔
ایسی صورت میں آپ کا کیا جواب ہو گا؟ میرا جواب تو یہی تھا کہ جو کام میں نہیں کرتا، اُس پر مجھے افسوس ہے لیکن جن کاموں سے میں بچ سکتا ہوں، اُن سے ضرور بچتا ہوں ۔

تبصرہ جات

“ایک سوال” پر 8 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. زیک says:

    میں 5 سال نیو جرسی رہا مگر اٹلانٹک سٹی نہیں گیا. البتہ 2 دفعہ لاس ویگاس جا چکا ہوں. اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ اٹلانٹک سٹی میں کیسینوز کے علاوہ کچھ خاص کشش نہیں.

    ویسے کیسینو میں پیسے لٹانے کا تعلق عقل سے ہے نہ کہ مذہب سے.

  2. زکریا میرے خیال میں مذہب کا تعلق بھی عقل سے ہی ہے .

  3. بدتمیز says:

    میں نے بھی کیسینو جانا ہے. 😛 ضروری نہیں‌ بندہ جوا کھیلنے ہی جائے مجھے تو گھومنے کا شوق ہے کہ دیکھوں لوگوں‌ کو کیسے کیسے لوٹا جاتا ہے.

  4. ابھی سردیوں میں میں نے داڑھی رکھی تو ہر بندہ کہنے لگا نماز پڑھتا نہیں اور داڑھی دیکھو .

    میرا سوال ہے کہ اگر بندہ ایک کام غلط کر رہا ہو تو کیا باقی درست کام بھی چھوڑ دے؟

    • عمیر says:

      بات تو یہی ہے کہ لوگوں میں دین کا شعور بہت ہی کم ہو گیا ہے۔۔ اگر چہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ لیکن مسلسل سچے مسلمانوں، دین دار لوگوں اور دینی علم سے دور رہنے کی وجہ سے ہمارے دل میں دین کے محبت مدہم پڑ گئی ہے۔ اور کیونکہ ہم سارا دن دنیاوی کاموں اور دنیاوی ماحول میں مشغول رہتے ہیں۔تو اسی وجہ سے ہمیں دنیا کی محبت اور مختلف کاموں نے ایسا گھیرے میں لے لیا ہے۔ کہ ہم اپنے اصل مقصد کو بھول گئے ہیں۔ کہ ہمارا اصل مقصد دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنا ہے۔۔۔۔
      ہم داڑھی کو دیکھ کر بعض اوقات یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سے فلاں کی خوبصورتی میں کمی واقع ہوئی ہے اور وہ اب ہزاروں کے ہجوم میں اوپرا سا لگے گا۔ اور یہی ہمارے ایمان کی کمی، دین سے دوری، دنیا سے محبت اور دین کے علم کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
      ہم یہ نہیں سوچتے کہ داڑھی کی نسبت کس سے ہو رہی ہے۔؟۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کہ داڑھی کی نسبت اس عظیم ہستی سے ہے جو ہر مسلمان کیلئے زندگی کے ہر شعبے میں نمونہ ہے۔۔۔۔

      بس آخر میں افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے۔ کہ ایسی بات کہنا پیارے نبی سے محبت کی حد درجہ تک کمی کی بھی نشانی ہے۔۔۔

      اللہ ہم سب کو سچا ایمان اور نفع بخش علم نصیب فرمائے۔۔۔
      آمین

  5. قدیر یہی تو میرا سوال ہے .

  6. راہبر says:

    یہ ایک غلط رویہ ہے اور اس کا اکثر نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ جو ایک صحیح کام کررہا ہوتا ہے، اسے بھی چھوڑ دیتا ہے.

  7. یہ پاکستانیوں کی جہالت کا نتیجہ ہے میرا نہیں خیال کہ پاکستانیوں کے علاوہ بھی کوی ایسی باتیں کرتا ہو گا ۔۔۔۔ مجھے تو اس پر بہت غصہ آتا ہے شاید اسی لیے کہ مجھے روز ہی اس قسم کی باتیں سننے کو ملتی ہیں ۔۔۔۔ ہمارے لوگ کسی کے نیک کام کو سراہنے کی بجاے اسکی برای پر تبصرہ شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ شاید ہمارے لوگوں کے پاس کسی کی اچھی بات دیکھنے والی آنکھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ایسی صورت میں میرا جواب یہ ہی ہو گا کہ اگر کو شخص ایک برا کام کر رہا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ دوسرا نیک کام جو وہ کر رہا ہے اسکو بھی چھوڑ دے ۔۔۔۔ میرے خیال سے ہمارے لوگ ایسی باتیں اپنی خفت کو چھپانے کہ لیے ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔