ٹیکس

Wednesday,4 April 2007
از :  
زمرات : نیو یارک, میری زندگی, امریکہ

میں انتہائی سُست انسان ہوں، ہمیشہ ہی ہر کام کو آنے والے کل پر ٹال دیتا ہوں اور یوں ٹالتے ٹالتے وہ وقت آ جاتا ہے کہ یا تو کرو نہیں تو نتائج بُھگتو۔ امریکہ میں رہنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ سب سے کھیل سکتے ہیں مگر جو کھیل سب سے مہنگا پڑتا ہے وہ آئی آر ایس کے ساتھ کھیلنا ہے۔ بد تمیز کی پوسٹ پڑھ کر مجھے اپنا ٹیکس جمع یاد کروانا آ گیا اور جو میں پچھلے ایک مہینے سے بات کل پر ٹال رہا تھا وہ آج کرنا ہی پڑا۔

عموما بلکہ عموما کیا ہر دفعہ میں اپنا ٹیکس خود فائل کرتا تھا، لیکن چونکہ اِس دفعہ مجھے اپنی بیگم کو سپانسر کرنا ہے اور سپانسر کرنے کے لئے کتنی رقم آمدن کی مَد میں دکھانی پڑے گی اُس کے بارے میں کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ جتنے منہ اُتنی ہی باتیں ہیں۔ آج سے پہلے تک میں w2 فارم ہی جو ملتا ہے اُسی پر اپنا ٹیکس فائل بلکہ ٹیکس ریٹرن حاصل کرتا تھا اور جِس جگہ میں جاب کرتا تھا وہاں مالک اپنا ٹیکس بچانے کے لئے اپنی آمدن کم دکھاتا تھا تو جب اپنی آمدن کم دکھائی جاتی تھی تو ملازمین کی آمدن بھی آن دی ریکارڈ کم دکھائی جاتی ہے۔

اب چونکہ سارا کام دو نمبر ہے emoticon  پلس میرے w2 فارم پر دکھائی گئی آمدن سے میں اپنی بیگم کیا اپنے آپ کو افورڈ نہیں کر سکتا ہوں۔ تو  اب مجھے کتنی آمدن دکھانے پڑے گی اُس کے پہلے ایک وکیل صاحب سے رابطہ کیا گیا، انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر بتا کر اپنا مشاعرہ وصول کیا، اور جب اُن کی بتائی ہوئی آمدن پر جا کر اکاوٹینٹ سے ٹیکس جمع کروانے کا فارم بھرا تو میرے تو چودہ طبق روشن ہو گئے کہ اتنا ٹیکس دینا پڑے گا emoticon۔

اب مجھے سمجھ آئی ہے کہ اپنی کمائی میں سے کچھ دینا کتنا مشکل ہوتا ہے ۔ اللہ خیر کرے  

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔