سرائے خانہ سے گھر واپسی ۔

آج میرے والدین پاکستان میں تقریباً ساڑھے چھ ماہ کا عرصہ گزار کر واپس آ رہے ہیں۔ اللہ اُنہیں بخیریت پُہنچائے۔ والدین اگر ساتھ نہیں ہوں تب اُن کی کمی محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر والدہ کی۔ یہاں جانے سے پہلے ہی میری امی ہمارے لئے پریشان رہنا شروع ہو گئی تھیں۔ عموماً  لوگ جب جا رہے ہوتے ہیں تو چھوٹوں کو نصیحتیں کی جاتی ہیں کہ بڑوں کو تنگ نہیں کرنا، لیکن ہمارے ہاں چونکہ کافی رواج اُلٹ چلتے ہیں تو مجھے ہر روز یہ ہدایات سُننا پڑتی تھیں " پِچھوں وِیر نوں تنگ نہ کریں، ساری  رات ایس ڈبے(کمپیوٹر) اَگے نہ بیٹھا رہیں" ۔ تو خیر جانے سے پہلے ہماری والدہ کو وہی برصیغیر والی پریشانی تھی، جِس کے تحت والدین سمجھتے ہیں کہ اُن کے بچے ابھی بچے ہیں اور دُنیا کے حالات کا اُنہیں پتہ ہی نہیں چاہے وہ بچے عُمرِ دراز کے چار مانگے دِنوں میں سے دو گُزار چُکے ہوں ۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں پاکستان کی نوجوان نسل کو نکما ہی والدین نے بنایا ہوا ہے، اُنہیں اِس طرح زمانے کی تپبتی ہوا سے بچا کر رکھتے ہیں کہ انہیں دُنیا کا پتہ نہیں اور ہمارے جیسے بچے بھی اتنے ڈھیٹ کہ اِس کا اُلٹا فائدہ اُٹھا کر جب تک والد میں ہمت ہوتی ہے مجال ہے جو کام کرنے کی طرف مائل ہو جائیں، جب وہی بچے جنہیں زمانے سے بچا بچا کر رکھا جاتا ہے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں جہاں زمانہ ہی زمانہ ہوتا ہے بَس والدین نہیں ہوتے تو تب وہ سہارے ڈھونڈتے ہیں کیونکہ اُنہیں والدین نے اِس کی عادت ڈال دی ہوتی ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔  میں لکھنے کیا آیا تھا اور جا کدھر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔

خیر تو ہم نے اپنے والدین سے کہا کہ آپ بے فکر ہو کر جائیں، ہم کوئی بچے تھوڑی ہیں جو آپ کی اُنگلی پکڑ کر چلتے ہیں، لیکن یقین کریں اُس کے بعد جو ہمارا یہاں رہنے کا حُلیہ بنا، اللہ کی پناہ ۔ ہر روز یہی دُعا ہوتی تھی کہ جلد سے جلد وہ لوگ واپس آ جائیں۔ اُن کی روانگی سے پہلے ہمیں یہ ایک قِسم کا زُعم تھا کہ میرے دوست بھی تو رہتے ہیں،  ہم بھی رہ لیں گے۔ لیکن یہ خیال نہیں کیا کہ وہ دوست کتنے عرصے سے ایسے رہ رہے ہیں،  ہمیں تو ویسا رہنے کی عادت ہی نہیں تھی، ہمیں تو  عادت تھی گھر آؤ تو سب کچھ تیار مِل رہا ہے۔ اور اب  حالت تھی کہ روز صرف یہی سوچنا کہ آج کیا کھایا جائے، یہ بھی ایک بہت بڑا مسلہ تھا، کہ روز ہی کم از کم دو وقت سوچنا پڑتا تھا کہ کیا کھایا جائے۔

جاتے وقت میری امی کوئی ایک ماہ کے لئے سالن وغیرہ تیار کر گئی تھیں، جو ہم نے دو ہفتے میں ختم کر دیے تھے۔ ۔  میری ایک تایا زاد بہن ہم سے قریب ہی رہتی ہیں، تو اُن کے گھر ہفتے والے دِن مِلنے کا بہانہ کر کے چلا جانا، بہانہ اِس لئے کہ وہاں سے تیار کھانے مِل جاتے تھے۔ علاوہ ازیں ہمارے گھر سے ۱۵ منٹ کی ڈرائیو پر دیسی ہوٹل بھی ہے جہاں دیسی کھابے مِل جاتے ہیں، اِن سب باتوں کے بعد بھی جب میں آپ کو کہوں کہ درمیان میں میں مسلسل دو دو دِن کھایا ہی کچھ نہیں، تو میں کتنا سُست ہوں اِس کا اندازہ تو ہو جانا چاہیے ہے اب۔
سب سے بڑا مسلہ جو اس عرصہ ہم بھائیوں کے مابین درپیش رہا وہ تھا، برتن کوئے دھوئے گا، سرد جنگ کیا ہوتی ہے اِس کا اِس عرصہ میں بخوبی اندازہ ہوا، ہوتا یوں تھا کہ اب ہم کھانا کھا لیتے تھے برتن دھونے والی جگہ پڑے ہوئے ہیں، پھر کھا لینا پھر برتن اُدھر، اور یوں کرتے کرتے ہم گھر میں پڑے تمام دستیاب برتن ختم کر لیتے تھے اور ساتھ ساتھ روز ایک دُوسرے کو یوں دیکھتے تھے کہ نہیں وہ دھوئے گا، حتی کہ سب برتن ختم ہونے کے بعد جب آپ کو کھانے کے کچھ نہیں ملتا تھا تو اُس کو برتن دھونا پڑ جاتے تھے، ابھی اُوپر میں نے یہ بھی بتایا ہے کہ میں دو دو دِن کھانا نہیں کھاتا تھا، اب تو سمجھ لیں کیوں نہیں کھاتا تھا، کیونکہ مجھے برتن دھونے سے چِڑ ہے ۔

 بے ترتیبی سے چھ مہینے رہنے کے بعد اب ہمیں ڈر ہے کہ دوبارہ ترتیب کی زندگی گزارنے میں مُشکلات کا سامنا نہیں ہو ۔ خیر ہم بہت خوش ہیں کیونکہ پچھلے اِس عرصہ میں گھر گھر نہیں ایک سرائے خانہ زیادہ لگتا تھا، جہاں آئے آرام کیا اور چلے گئے ۔ والدین کی واپسی کے ساتھ ہمیں گھر دوبارہ آنے کی خوشی بھی ہو رہی ہے ۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔