پاکستان کا سفر

پاکستان روانگی سے قبل میرا خیال تھا واپسی پر اِس بارے میں تفصیل سے لکھوں گا۔ مگر مصروفیات کی وجہ سے ،دوسرے اپنی سُستی کی وجہ سے یہ کام مؤخر ہوتا رہا۔ آج تین دن کے ارادے کے بعد بالاخر میں اِس سفر کی روداد لکھنے بیٹھ ہی گیا ہوں ۔
نیویارک میں رہنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی براہِ راست فلائٹ دستیاب ہے، ہمیشہ کی طرح اِس دفعہ بھی ہم نے قومی ائر لائن کا انتخاب کیا، اِس انتخاب کی وجوہات حُبِ وطن سے زیادہ یہ تھہیں ایک تو ارزاں نِرخ اور دُوسرا صرف پی آئی اے ہی براہ راست پاکستان جاتی ہے، دُوسری تمام ائر لائنز میں آپ کو کہیں نہ کہیں دُوسرے جہاز میں منتقل ہونا پڑتا ہے، اِس جنجھٹ سے بچنے کے لئے ہم ہمیشہ پی آئی اے ہی کو منتخب کرتے ہیں ۔
اِس دفعہ کا سفر بھی نہایت خوشگوار رہا، ایک تو ہم شادی کرنے جا رہے تھے ، علاوہ ازیں ہمارے ہمسفر جِن کا تعلق ویسٹ ورجینیا سے تھا کافی باتونی واقع ہوئے تھے، عموماً دورانِ سفر میں بے خوابی کا شکار رہتا ہوں، جتنی مرضی کوشش کر لوں نیند ہے کہ آنے کا نام نہیں لیتی اور میرے ہمسفر بھی کچھ ایسے ہی تھے چنانچہ تمام راستہ باتیں کرتے وقت گُزرنے کا احساس نہیں ہوا ۔ پی آئی اے پر سفر کرتے وقت سب سے زیادہ کوفت جو مجھے ہوتی ہے وہ مانچسٹر میں دو گھنٹے کا قیام ہے، اور اگر میں پی آئی اے پر نہیں جاؤں تو اِس میں سو فیصد ہاتھ اِس قیام کا ہے۔
مانچسٹر میں جہاز اُترتے ہی ہر مُسافر کو اپنے دستی سامان سمیت جہاز سے باہر لازمی جانا ہوتا ہے، یعنی آپ اگر چاہیں بھی تو جہاز میں نہیں رُک سکتے۔ لیکن اِس کے بعد جو انسان پر بیتتی ہے اُس کی مجھے تو کم از کم سمجھ نہیں آتی کہ مُسافروں کو اِتنا پریشان کیوں کیا جاتا ہے۔ جہاز سے اُترتے ہی پہلے آپ کو ٹرانزٹ کارڈ تھما دئے جاتے ہیں، اُس کے بعد صرف ایک کاؤنٹر پر آپ کی لائن لگوا دی جاتی ہے جہاں آپ کے سامان کی تلاشی لی جاتی ہے ۔ جی ہاں آپ کو انگلستان میں رُکنا نہیں ہے، آپ امریکہ میں سامان چیک کروا کر جہاز میں داخل ہوئے تھے لیکن اصلی گوروں نے پھر بھی تلاشی لینا ہی لینا ہے کہ مبادا آپ نے جہاز میں کچھ ڈیلیوری نہ کروا لی ہو۔ اور جو دو گھنٹے کا قیام ہوتا ہے وہ آپ کا اُسی قطار میں کھڑے کھڑے گُزر جاتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے وہاں دو گھنٹے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد جیسے ہی فارغ ہوں، فوراً جہاز میں سوار ہو جاؤ۔ اِس دفعہ میں اتنا تنگ آ گیا تھا کہ میں اپنی باری پر اُن سے اُلجھ ہی پڑا تھا کہ اِس سب کا مقصد کیا ہے؟ اگر مانچسٹر میں اُن کو یہ سب کرنا ہی ہوتا ہے تو ایک سے زائد کاؤنٹر کیوں نہیں بنا دئے جاتے ہیں؟
خیر خدا خدا کر کے لاہور پُہنچے تو پتہ چلا کہ موسم کی خرابی کے باعث لاہور میں جہاز اُتر نہیں سکتا، چنانچہ جہاز کو کراچی لے جایا جا رہا ہے جہاں سے دو گھنٹے بعد واپس لاہور روانگی ہو گی، خیر یہ دو گھنٹے بعد میں پُوری رات کے قیام میں بدل گئے۔ جناح ٹرمینل پر میری تیسری فلائٹ تھی، اِس سے پہلے جب میں کراچی میں رہتا تھا تو دو دفعہ آنا جانا ہوا تھا، البتہ میرا بھائی پہلی دفعہ کراچی آ رہا تھا اور اُس کی فرمائش کہ مجھے کراچی دکھانا ہے۔ کراچی میں پی آئی اے نے ہوٹل مہران میں مُسافروں کی رہائش کا انتظام کیا ہوا تھا جہاں جناح ٹرمینل سے بسوں پر مسافروں کو ہوٹل پہنچایا گیا۔ لیکن ائر پورٹ پر اُترنے کے بعد ایسا کوئی انتظام نہیں تھا کہ مسافروں کو پتہ چل سکے کہ کہاں سے بس میں سوار ہونا ہے، اور ایک دوسرے سے پُوچھ پُوچھ کر بسوں کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے، کوئی آدھے گھنٹے بعد پی آئی اے کے ملازمین نے آ کر بسوں کی راہ دکھائی۔
ائر پورٹ سے نکل کر ہماری پہلی پریشانی گھر والوں سے رابطہ تھا، چنانچہ ٹرمینل سے باہر نکلتے ہی موبائل فون کا نشان نظر آیا وہاں گئے، سِم پوچھی تو کہا ۱۵۰ روپے میں شائد ۱۰۰ روپے بیلنس کے ساتھ، ہم نے کہا اچھا دو، کہنے لگے شناختی کارڈ کی کاپی دیں، اب ہمارا شناختی کارڈ دس روپے میں فوٹو سٹیٹ کیا گیا، اور جب سِم لینے لگے تو پانچ سو روپے مانگ لئے گئے۔ میرا بھائی کہتا ہے ابھی تو اِس نے ۱۵۰ روپے کہا تھا، جب ہم نے کہا تھوڑی دیر پہلے تم ۱۵۰ روپے کہہ رہے تھے تو حضرت گویا ہوئے کہ سر وہ میں نے کہا تھا ۱۵۰ روپے کا بیلنس ہے بیچ میں، ہمیں ضرورت تھی ہم بحث کرنے کی حالت میں بھی نہیں تھے پیسے دئے اور سِم لے کر گھر والوں سے بات کی کہ اب انشااللہ کل لاہور پُہنچیں گے۔ بعد میں وہی سِم سرگودھا جا کر ہم نے سو سو روپے میں خریدیں۔
پھر وہاں سے ہم بسوں میں سوار ہو کر ہوٹل مہران چلے گئے اور اپنا کمرہ حاصل کیا، کاؤنٹر پر ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے کھانے کا انتظام ڈائنِگ ھال میں ہے، چنانچہ ہم کمرے میں سامان رکھ کر نہا کر کھانا کھانے نیچے ڈائنِگ ھال میں پُہنچ گئے جہاں ہمارے جہاز کے دیگر ہم سفر بھی مُوجود تھے، کچھ لوگوں سے بات چیت کی اور کھانا کھانے میں مشغول ہو گئے ۔ لیکن جب کھانا کھاتے دیکھا تو پانی ندارد ایک میزبان کو بُلا کر اِستفسار کیا کہ جناب پانی مِلے گا، ہمیں پانی فراہم کر دیا گیا۔ جب اُٹھنے لگے تو ۱۲۰ روپے کا بِل لا کر ہاتھ میں تھما دیا گیا، پوچھنے پر جواب مِلا کہ
PIA has paid for every thing but water, every one has to pay for his own water.
اِس بات پر ہمیں اتنا غصہ آیا
how come PIA is not paying for water but for the meal? or you guys are trying to make some extra money here?
خیر ہم نے ایک آنہ بھی پانی کی مَد میں ادا نہیں کیا اور کہا کہ آپ اِس بارے میں پی آئی اے سے ہی بات کریں ہم سے نہیں، یعنی اِس بات کی کوئی تُک بنتی ہے کہ پی آئی اے سب چیزوں کا معاوضہ ادا کر رہا ہے لیکن پانی کا نہیں؟ خیر اِس کے بعد ہم صدر چلے گئے زیب النساء سٹریٹ سے میری بڑی یادیں وابستہ ہیں وہاں اُن کو تازہ کیا اور واپس ہوٹل آ کر سو گئے۔ صبح ناشتے کے بعد واپس بسوں میں ائر پورٹ پُہنچے اور لاہور کا رُخ کیا۔ وہاں جانے سے پہلے ہوٹل مہران کے پاس جو چورنگی ہے جہاں سے کینٹ سٹیشن کی طرف سڑک نکلتی ہے وہاں عجیب تماشا دیکھا کہ سُرخ بتی پر رُکنا تو درکنار کوئی یہ تک دیکھے بغیر کہ دوسری طرف سے ٹریفک تو نہیں آ رہی گُزرے جا رہا تھا۔ شائد صبح اور آدھی رات کے بعد قانون جُزوی طور پر معطل ہو جاتا ہو ۔

لاہور پُہنچنے پر وہاں بے انتہا ہجوم تھا، اتنا زیادہ کہ تِل دھرنے کی جگہ بھی نہیں تھی، اُسکی وجہ وہی پچھلے دو دِن سے مؤخر شدہ پروازیں تھیں جو مختلف جگہوں سے ایک ہی دِن لاہور پُہنچی تھیں ۔یہاں پُہنچ کر ہم کِسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہو ہی گئے، جب وہاں سے ہم سامان دھکیل کر پارکنگ میں جا رہے تھے تو ہمارے ساتھ ایک لڑکا نتھی ہو گیا، کہ سامان تو میں دھکیل رہا تھا اور وہ ساتھ اُس پر ہاتھ رکھے جا رہا تھا، میں نے اُسے دَس مرتبہ کہا کہ ہمیں ضرورت نہیں ہے، جب وہ ٹَس سے مَس نہیں ہوا تو میں نے سامان چھوڑ دیا اور وہ دھکیلنے لگا بعد میں اُس کے ساتھ ایک اور ساتھی شامل ہو گیا۔ جب ہم نے سامان گاڑی میں رکھ لیا تو اُس کو ۵۰۰ روپے دیے لیکن وہ پھر وہی کا وہی کھڑا کہ صاحب یہ کم ہیں۔ کم ہیں؟ ۵۰۰ روپے ۵۰۰ فٹ سامان لے جانے کے لئے کم ہیں؟ جبکہ سامان لے جانے کی خواہش بھی اُس کی تھی ہماری نہیں۔ جبکہ اُس کا کہنا تھا کہ آپ ۲۰ ڈالر دے دیں آپ کے لئے ۲۰ ڈالر کچھ بھی نہیں ہیں۔ ایک تو پتہ نہیں پاکستان میں رہنے والوں کو کیوں لگتا ہے بیس ڈالر کچھ کیسے نہیں ہیں؟یہاں لوگ ۲۰ ڈالر کیسے بناتے ہیں اس کا کسی کو اندازہ نہیں ۔ ساتھ ہی وہاں زبردستی بھیک مانگنے والیاں بھی تھیں، زبردستی مطلب جو آپ کی قمیص پکڑ کر کھنچیں اور کہیں اللہ دے ناں تے کُج دے جا، اور بغیر پیسے دیے آپ کی جان چُھوٹی نہیں اور ہم جیسے لوگ اُن سے سختی سے بھی پیش نہیں آتے کہیں اللہ ناراض نہ ہو جائے۔
لاہور سے ہم سرگودھا گئے اور سرگودھا میں زیادہ وقت اپنے گاؤں میں گزارا، اس دوران بہت سی نئی باتیں سُننے اور دیکھنے کو مِلی جِن کے بارے میں انشاللہ بعد میں تحریر کروں گا۔ ابھی فی الحال یہ نیو یارک سے اپنے گاؤں پُہنچنے کی داستان تھی ۔

تبصرہ جات

“پاکستان کا سفر” پر 9 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. نعمان says:

    بہت دلچسپ.

  2. بدتمیز says:

    سلام
    دوسرے جہاز میں منتقل تو ہونا پڑتا ہے لیکن وہ ان کے ملک سے پاکستان تک کے سفر کے لئے۔ لیکن کرائے میں اچھی خاصی بچت ہو جاتی ہے جیسے پی آئی اے اور کویت ائر لائن کے فئیر میں پانچ چھ ہزار کا ڈیفرنس ہے۔
    ویسے پی آئی اے میں فلائٹ لیٹ ہونے پر آپ کو جو رولا جاتا ہے اس سے کہیں بہتر جہاز کی تبدیلی ہے۔ میرے ماموں ہم سے ہفتہ لیٹ آئے ان کے ساتھ جو نیویارک میں بیتی یقین نہیں آتا۔
    ویسے پی آئی اے کی نشستیں بس کی نشستوں کی طرح قریب قریب نہیں؟‌
    ویسے میرے علم میں یہی تھا کہ واپسی پر آپ سیدھے اپنے ملک کو سدھارتے ہیں۔ ابو کے ساتھ تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔ پی آئی اے سے محبت کی بنا پر اس کو روک لیا جاتا ہو گا
    دس روپے میں فوٹو اسٹیٹ۔ یہ ائر پورٹ پر ہی ہوگا باہر تو 2 روپے میں ہو جاتا ہے۔ ساتھ میں اس نے شناختی کارڈ دیکھتے ہی سم پانچ سو کی کر دی۔ لاہور میں شناختی کارڈ گھر میں رکھ کر سارے لاہور کی خاک چھانتا پھرتا تھا سم لینے گیا تو اس کو کہہ دیا شناختی کارڈ تو ہے ہی نہیں کہتا اچھا پھر اپنے پاس سے شناختی کارڈ کی کاپی لگا دی اور مجھے سم دے دی
    پاکستان میں آپ کو سختی سے کہنا ہوتا ہے۔ امریکہ میں ایک دفعہ کہنا کافی ہوتا ہے لیکن وہاں کہنا کافی نہیں ہوتا۔ ویسے بھی جانے کا سب سے اچھا وقت رات کا ہے کہ آپ کی فلائٹ رات کو پہنچے۔ کم از کم میری فیملی میں یہی ہوتا ہے۔ نتیجتا کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ہاں یہ حج عمرے والی پارٹیاں ہمیشہ ایسے لوگوں سے ٹکراتی ہیں۔
    یہ خواتین کی سٹریٹ سے نہ جانے کونسی یادیں ہیں۔ آہم آہم

  3. نعمان : تحریر پر رائے دینے اور بلاگ پر آنے کا شکریہ .

    عرفان رشید : پہلے ہمیں بتایا گیا تھا کہ اب یہاں سے واپسی پر نہیں روکا جاتا لیکن پاکستان سے آتے وقت روکا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ساتھ یہ مہربانی آتے اور جاتے وقت دونوں دفعہ کی گئی . اور ہم پچھلے چھ سال سے آ جا رہے ہیں پی آئی اے میں ، ہمیں سفر میں کبھی تاخیر نہیں ہوئی، ہاں البتہ نشستوں کا مسلہ صرف پی آئی اے ہی نہیں بلکہ سب ہوائی کمپنیوں میں درپیش ہے اگر کوئی اوسط درجہ کی اکانومی کلاس میں تنگی محسوس کرتا ہے تو اُس سے بہتر اکانومی پلس، اُس سے بہتر فرسٹ کلاس اور سب سے بہتر بزنس کلاس بھی موجود ہے. لیکن نرخ بھی بڑھتے جاتے ہیں، ویسے اکانومی پلس اتنی بُری بھی نہیں ہوتی.

  4. بدتمیز says:

    بھیا نام انکل اجمل کے لئے تجویز کروانا تھا. باقیوں کے لئے میں بدتمیز ہی ہوں.
    ویسے مجھے اتنی کلاسوں‌ کا علم نہیں. دو کلاسیں پاس ہوں لہذا مجھے تو چہاز کی بھی دو ہی کلاسیں پتہ ہے ایک وا

  5. ہاہاہاہا لیکن مجھے بھی یہ نام بے حد پسند آیا ہے ، اور تم اپنے تبصرے پہلے کسی ایڈیٹر میں لکھ لیا کرو ، یا اپنا براؤزر تبدیل کر لو . فائر فاکس میں مجھے کوئی مسلہ درپیش نہیں ہے اس ایڈیٹر کے ساتھ .

  6. اپنے ملک کے سفرنامے میں جو چیز سب سے نمایاں ہوتی ہے، وہ اپنوں کی بے ایمانیاں اور لالچ….. کیوں؟

  7. نعمان says:

    امید ہے اگلی قسط جلد پڑھنے کو ملے گی.

  8. عبداللہ says:

    شعیب اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ملک سے دور ہوتے ہیں تو اس کی ساری برائیاں بھول جاتے ہیں اور پھر دوسرے ملکوں میں رہتے رہتے وہاں کی اچھائیوں کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ جب ملک لوٹ کر ان برائیوں سے سابقہ پڑتا ہے تو جھٹکے پر جھٹکے لگنا شروع ہو تے ہیں کہ ارے یہ سب تو ویسا کا ویسا ہے بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوگیا ہے،سو نہ چاہتے ہوئے بھی ذکر آہی جاتا ہے

  9. نہیں شعیب صرف برائیاں نہیں اللہ کا بہت شکر ہے کہ بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ جو صرف پاکستان میں ہی ملتی ہیں اور دنیا میں عنقاء ہیں، لیکن انسان کو عادت ہے شکایت کرنے کی، تو بس اسے یونہی سمجھ لیں .

    نعمان، جیسے ہی موقع ملا انشاللہ مختصرا باقی روداد بھی لکھ دوں گا .

    عبداللہ: میں آپ کی بات سے متفق ہوں، لوگ اپنے ذہن میں ہمیشہ اپنی جنم بھومی کے بارے اچھی رائے رکھتے ہیں، لیکن جب پلٹ کر جاتے ہیں تو حقیت اور خیالات میں فرق کی وجہ سے کچھ باتیں زیادہ ہی محسوس ہوتی ہیں .

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔