نیویارک نیا ٹول ٹیکس

Tuesday,24 April 2007
از :  
زمرات : نیو یارک, میری زندگی

نیویارک کے مئیر جناب مائیکل بلومبرگ ایک مشکل وقت پر شہر کے مئیر منتخب ہوئے تھے ، ۹۔۱۱ کے حملوں کے بعد انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا اور اب دوسری دفعہ مئیر منتخب ہوئے ہیں ۔ بلومبرگ جب مئیر بنے تو نیویارک کے پاس فنڈز بہت کم تھے اور تعمیراتی کام کرنے والا بہت زیادہ تھا جِس کی وجہ سے انہوں نے بہت سے فیصلے ایسے کئے جو کہ شہر کی آمدن میں اضافے کا باعث بنے، لیکن وہیں عوام کو اُنہی فیصلوں سے بہت مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بلومبرگ اپنے فیصلوں پر اٹل رہے اور کہا کہ وسیع تر اور دور رس نتائج کے حامل ہیں جن کا ادراک عوام کو بعد میں ہو گا، اور واقعی بعد میں نیویارک سے وہ نہ صرف دوبارہ مئیر منتخب ہوئے بلکہ نیو یارک میں آپ کو بلومبرگ فار پریذیڈنٹ کے نشان بھی نظر آتے رہتے ہیں۔ اپنی پہلی مدت میں مئیر کے مندرجہ ذیل فیصلے متنازع رہے ۔

آتے ہی سگریٹ کے نِرخوں پر اضافی ٹیکس، جِس سے سگریٹ کی قیمتیں نیویارک میں ساڑھے تین ڈالر سے ساڑھے سات ڈالر اورآٹھ ڈالر کی حد تک پُہنچ گئے، اُس پر یہ کہ کسی بھی عوامی جگہہ پر، بزنس پر ، جاب پر سگریٹ نہیں پی سکتے، اگر کسی کو پینا ہو تو باہر سڑک پر آئے، اِس کی وجہ نیویارک میں سگریٹ نوشی کی دلشکنی کرنا تھا، بہت سے لوگ ہفتہ وار چھٹی پر کلبوں میں جا کر سگریٹ نوشی کرتے تھے اور انہوں نے اِس پر بہت اختجاج کیا، اور اختجاجاً نیویارک کی بجائے نیوجرسی کے کلبوں کا رُخ کیا، کلبوں میں موجود خفاظتی عملے کے ساتھ لوگوں کے ہاتھا پائی کے واقعات رُونما ہوئے اور ایک باؤنسر کی موت بھی واقع ہو گئ جِس پر بلومبرگ کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا، اور اب پانچ سال بعد لوگ نہ صرف بلومبرگ کی اِس بات کی تعریف کرتے ہیں بلکہ بہت سی دوسری ریاستوؒ اور شہروں میں بھی سگریٹ نوشوں کی دلشکنی کی جا رہی ہے۔
پارکنگ کا جتنا مسلہ نیویارک میں ہے شائد ہی دُنیا میں کہیں اور ہو۔ عموماً صبح چھ سے رات بارہ بجے تک نیویارک میں پارکنگ کے پیسے دینے پڑتے ہیں، صرف ہفتہ اور اتوار کو اِس میں وقفہ ہوتا تھا، لیکن بلومبرگ نے اِن دو دِنوں کی چھوٹ بھی ختم کر دی، جو تین سال بعد، پچھلے سال ایک دِن کی چھوٹ مطلب صرف اتوار والے دِن کر دی گئی، نیویارک شہر پارکنگ کی مَد میں بجٹ کا چالیس فیصد بناتا ہے۔

پہلے ٹریفک کا چالان ، غلط پارکنگ پر چالیس ڈالر جرمانہ تھا جو بلومبرگ نے بڑھا کر ۱۱۰ ڈالر کر دیا، یہاں یہ خیال رہے کہ زیادہ تر نیویارکر دو سے تین دن میں ۱۱۰ ڈالر بناتے ہیں، اور صرف پارکنگ کی وجہ سے اتنے پیسے دینا ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا۔

اِس کے علاوہ لوگوں کے ایسے ایسے چالان شروع کئے گئے جن کا پہلے کسی نے سوچا نہیں تھا، جیسے کبوتروں کو دانا کھلانا، باہر سڑک پربیٹھنا وغیرہ جِس کو اخبارات نے بلومبرگ ٹکٹنگ بلٹز کا نام دیا، اور شائد اِس پر میں نے بلاگ پر ایک پوسٹ بھی لکھی تھی تب۔

اِس کے علاوہ شہر میں ایک اولمپک سٹیڈیم کی تعمیر تھا، جِس پر اتنی مضالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ بالاخر مئیر کو یہ فیصلہ مؤخر کرنا پڑا۔

یہ سب تو پُرانا ہے مگر پچھلے ہفتے سے مائیکل بلومبرگ ایک دفعہ پھر سے متنازعہ بن گئے ہیں ۔ تفصیلات نیچے پڑھیں ۔

نیویارک کے پانچ علاقے ہیں، جِن کو مِلا کر نیویارک سٹی بنتا ہے، اِن پانچوں علاقوں برانکس، بروکلین ، کوئینز، کونی آئی لینڈ اسٹیٹن آئی لینڈ اور مینہیٹن میں سے صرف برونکس ایک ایسا علاقہ ہے جو کہ زمینی لحاظ سے باقی امریکہ سے جُڑا ہے، باقی چاروں علاقے جزیرے ہیں، جِن کو پُلوں اور سُرنگوں کے ذریعے ایک دُوسرے سے جوڑا گیا ہے۔ اِن پُلوں میں تمام بڑے پُلوں پر ٹول ٹیکس دینا پڑتا ہے جو نیویارک کے آپسی علاقوں کے لئے ساڑھے چار ڈالر ہے، اور کونی آئی لینڈ اسٹیٹن آئی لینڈ جاتے ہوئے نو ڈالر ہے، جرسی سے آتے ہوئے یہ ٹول چھ ڈالر ہے۔

اِس سب کے علاوہ شہر میں ٹریفک کا ہجوم بہت زیادہ ہے، جِس کو کم کرنے کے لئے اب شہر نے ایک اضافی ٹول کی تجویز دی ہے، کہ ایسی تمام گاڑیاں جو نیویارک مِڈٹاؤن میں داخل ہوں گیں، اُنہیں اضافی آٹھ ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ تمام ٹیکسیاں اس مد سے خارج ہوں گی، اور جن لوگوں کی رہائش مڈٹاؤن میں ہے اُنہیں بھی اِس میں چھوٹ دی جائے گی۔

جب کہ شہری گورنمنٹ کا کہنا یہ ہے کہ اگلے بیس سال میں نیویارک کی آبادی میں دس لاکھ افراد کا اضافہ ہو جائے گا ، اور جو ٹریفک جام اب ایک گھنٹے تک مُحیط ہو جاتا ہے وہ بڑھ کر ۴۔۵ گھنٹے ہو جائے گا، اور چونکہ منہیٹن ایک جزیرہ ہے جس کا ایک انچ بھی خالی نہیں ہے تو نئی سڑکیں بنانا نا ممکن ہے، لیکن اِس طریقے سے ہم شہر میں ٹریفک کا زور توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اِس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔

میرے ذاتی خیال میں اِس نئے ٹیکس لگانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ میں پہلے ہی اِس بات کا گرویدہ ہوں کہ اگر مینہیٹن جانا ہے تو ریل کا استعمال کرنا چاہیے۔

تبصرہ جات

“نیویارک نیا ٹول ٹیکس” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. زکریا says:

    لندن والا طریقہ کار مینہیٹن میں بھی ضروری ہے.

    اور یہ سٹیٹن آئیلینڈ کو کونی آئیلینڈ بنا دیا آپ نے؟؟

  2. بدتمیز says:

    میرا خیال ہے شروع شروع میں میرے بہت چالان ہونگے.
    کن سڑکوں پر بیٹھنا منع ہے؟ ہائی ویز پر یا ریزیڈینشل ائیریاز میں بھی

  3. زکریا. کیا لندن میں بھی اسی طرح ٹول دینا پڑتا ہے؟ اور لکھتا میں کچھ ہوں لکھا کچھ اور جاتا ہے، دوبارہ پڑھنے کی غلطی نہیں کرتا، شکریہ نشاندہی کا.

    بدتمیز : ہائی ویز پر کہاں بیٹھنے کی اجازت ہے؟ اور مڈٹاؤن سے مراد مینہیٹن لیتے ہیں یہاں.

  4. طلال فاروقی says:

    جناب میرے خیال میں ایسا کرنا بہت ضروری ہے اگر ایسا نہیں کیا تو اگلے پانچ سات سال میں میہیٹن کے اندر داخل ہونے کیلے بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا میں بلومبرگ کی اس تجویز کے حق میں ھوں

  5. شکریہ شکریہ طلال بھائی، ویسے یہ بتائیں کتنی دیر لگا کر آپ نے یہ تبصرہ لکھا ہے 😛

  6. زکریا says:

    لندن میں شاید 4 سال سے سینٹرل لندن کا ٹول ہے جو آجکل 8 پونڈ ہے.

  7. ویسے میرے خیال میں تو ٹول کی بجائے ورکنگ آوورز میں نجی گاڑیوں کا مڈ ٹاؤن میں داخلہ ہی بند کر دینا چاہیے.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔