آپ اس وقت تعاقب۔ پڑھ رہے ہیں ۔ یہ تحریر مورخہ منگل,28 فروري 2006 کو جہانزیب نے میری زندگی نیو یارک کے زمرہ میں ارسال کی تھی ۔
اس تحریر پر ہونے والے تبصروں سے آگاہ رہنے کے لئے Comments RSS کو اپنے فیڈ ریڈر میں بُک مارک کر لیں ۔
اس تحریر سے اپنی تحریر منسلک کرنے کے لئے ٹریک بیک پتہ ذیل میں دیا گیا ہے
Trackback URL
نيويارک ميں پيلی ٹيکسيوں والے کس طرح گاڑي چلاتے ہيں، اسکا ذکر ميں اپني ايک پہلي پوسٹ ميں کر چکا ہوں کہ جس جگہ گاڑي داخل کرنے کي بھي جگہ نہيں ہوتي وہاں وہ آپ کے سامنے گاڑي لے آتے ہيں اور چلتے چلتے ايک دم سے درمياني قطار ميں کھڑے ہو کر مسافر کو چڑھانے يا اتارنے لگ جاتے ہيں اور ان کے پچھلي گاڑي والا پيچ و تاب کھا کر رہ جاتا ہے کيونکہ اتني ٹريفک ميں قطار بدلنا اتنا آسان نہيں ہوتا ہے اور مجبورا اس پيلي ٹيکسي کے چلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔۔
پرسوں ميں آ رہا تھا اور جس قطار ميں جا رہا تھا اُسے تعميري کاموں کے لئے بند کيا ہوا تھا اور ٹريفک انتہائي زيادہ تھي، پہلے ميں انتظار کرتا رہا کہ شايد کوئي مجھے راستہ دے دے اور ميں قطار بدل لوں، ليکن جب کچھ بن نہيں پڑا ميں نے بھي پيلي ٹيکسي والوں کي طرح گاڑی دوسري قطار ميں اچانک کر لي اور ميرے پيچھے ايک پيلي ٹيکسي والا ہي تھا جس نے يقينا کافي پيچ و تاب کھايا ہو گا، اب اس کے بعد کوئي پندرہ بيس بلاک کا فاصلہ طے کر کے ميں ايک سرخ بتي پر کھڑا تھا کہ ايک پيلي ٹيکسي ميرے بغل ميں آ کر کھڑي ہوئي اور اس ميں ايک باريش ديسي انکل بيٹھے ہوئے تھے، اس نے ہارن بجا کر ميري توجہ اپني طرف کروائي جب ميں نے ديکھا تو اشارے سے کہا کہ کھڑکي کا شيشہ نيچے کرو، ميں سوچ رہا تھا پتا نہيں کيا پوچھنا ہے؟ جب ميں نے شيشيہ نيچے کيا تو پنجابي ميں مجھے کہتے ہيں ” يار تينوں کي اگ لگي اے پچھے مينوں گڈی مار کے آؤنڑ لگا سيں” (يار تمہيں کيا آگ لگي ہے پيچھے مجھے گاڑي مار کے آنے لگے تھے) ميں نے پوچھا کدھر؟ تو کہتے ہيں “جدوں توں لائن بدلي اے اوس ويلے، ميں اوس ويلے دا تيرا پيچھا کر ريا آں” (جب تم نے لائن بدلي اس وقت اور ميں تب سے تمہارا پيچھا کر رہا ہوں) يہ سُن کر مجھے اتني ہنسي آئي کہ بيان سے باہر ہے، ميں نے کہا انکل آپ پيچھا چھوڑيں اور جا کر کے اپنا کام کريں، مجھے يقين ہي نہيں آ رہا تھا کہ ايک بندہ اپنا کام چھوڑ چھاڑ اتني ٹريفک ميں پيچھا کر رہا ہو گا، اور دن کے آخر ميں کہہ رہے ہوں گے “اج کَم بڑا سلو ہيگا سِی”
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں
جمعرات,2 مارچ 2006
پاء جی لگدا ہے او بندا تہاڈی جان ویکھ کے ڈر گیا سی ، ورنہ ایتھے تاں وڈیاں وڈیاں لڑائیاں ہو جاندیاں ہیں (میری پنجابی کافی کمزور ہیگی میری طرح)
ہور سناؤ کی حال ہے تہاڈا بال بچے ٹھیک ہیگے? تہاڈی چھٹیاں ختم نہیں ہوئیاں?
پير,6 مارچ 2006
جناب میں صرف یہ دیکھ رہا ہوں کہ بلاگ سپاٹ کھلتا ہے یا نہیں ۔ میں نے براہِ راست کھولا اور کھُل گیا ۔
منگل,7 مارچ 2006
first of all thanks, sir blog..kiun k app ek week sai open nahi ho rahay thea..ajj taras aa giya .
khair!
lolz!sahee kahta tha weo shaks tum jahan punjabi dhektay ho peechay lag jatay ho…:pkiun nip
lalah