امریکہ ، فٹ بال اور ہم جماعت

Wednesday,21 June 2006
از :  
زمرات : کھیل, پاکستان, میری زندگی

میرین اکیڈمی میں ہمارا ایک ہم جماعت تھا جسے کرکٹ کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق تھا مگر اس جنون کے باوجود اس کا کھیل کوئی قابل ذکر نہیں تھا، خاص طور پر ہماری سینئر ٹرم کے دوران جونیئر اس کی جنون کے ہاتھوں کافی تنگ ہوں گے(یہ میرا اندازہ ہے) کیونکہ جونیئر سے کون پوچھتا ہے وہ یوں کہ ہفتہ اتوار کو جب عام روٹین بند ہوتی تھی اور ہر کوئی آرام کر رہا ہوتا تھا اور آپ غلطی سے پریڈ گراونڈ میں نظر دوڑاتے تو ہمارا ہم جماعت کوئی ۱۵ جونیئرز کو فیلڈنگ میں کھڑا کر کے بیٹنگ کر رہا ہوتا تھا اور یہ شغل صبح نو بجے سے اکثر شام چھ سات بجے تک جاری رہتا
ہماری اکیڈمی میں تین ڈویژن تھیں، جن کے آپس میں کھیلوں کے مقابلے ہوتے تھے اور جوش و خروش بھی ایسا کہ جیسے ورلڈ کپ ہو رہا ہو، ایک ایک پوائنٹ کے لئے جھگڑے وغیرہ وغیرہ، ہماری سینئر ٹرم میں کرکٹ کے لئے ہماری ڈویژن فیورٹ تھی اور حسب توقع ہم لوگ جیت بھی گئے تھے، میری ڈویژن کا نام فورٹاپ تھا، دوسری ڈویژن مین ٹاپ اور جس میں ہمارا کرکٹ کا شیدائی ہم جماعت تھا اس کا نام کوارٹر ڈیک تھا، فور ٹاپ اور مین ٹاپ دونوں نے کوارٹر ڈیک کے خلاف اپنا میچ جیت لیا، مگر سب اس وقت حیران ہوئے جب ہمارے دوست کاپی ہاتھ میں پکڑے آئے اور ایک نیا سوششہ چھوڑ دیا کہ فور ٹاپ اور میں ٹاپ کے میچ میں اگر مین ٹاپ جیتے تو دوسری پوزیشن کوارٹر ڈیک کی ہو گی اور یوں وہ سپورٹس ٹرافی کے لئے سب سے آگے آ جائے گی کیونکہ سپورٹس ٹرافی کے لئے فور ٹاپ اور کوارٹر ڈیک کے پوائنٹس برابر تھے، سب نے حیرانی سے اسے دیکھا تو جناب انہوں نے کوئی کوئی ایوریج اور یہ اور وہ بنا کر اپنی ٹیم کو جتوا رہے تھے جو کوئی میچ سرے سے جیتی ہی نہیں ہوئی تھی،
ایسے ہی آج کل امریکہ میں چل رہا ہے کہ اگر اٹلی چیک ریپبلک کو ہرا دے تو امریکہ فٹ بال کے دوسرے راوانڈ میں چلا جائے گا اور تمام ٹی وی مبصرین اپنی اپنی کاپیاں سنبھال کر بیٹھے ہوتے ہیں، امریکہ اگر دوسرے راونڈ میں چلا جائے تو خوشی کی بات ہے مگر کم سے کم کچھ کر کے تو جانا چاہیے ہیں نہ کہ دوسری ٹیموں پر انحصار کیا جائے، خیر ابھی آگے آگے دیکھیئے کیا ہوتا ہے، ویسے تو باسکٹ بال کے پلے آف اور بیس بال کے سیزن کے دوران فٹ بال کو امریکی اتنی اہمیت نہیں دیتے مگر ورلڈ کپ اور وہ بھی فٹ بال کا اس کا شور بھی کم نہیں ہے۔

تبصرہ جات

“امریکہ ، فٹ بال اور ہم جماعت” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. میرا پاکستان says:

    ہميں بھي ياد آيا کہ جيسے ہر محلے ميں کوئي نہ کوئي بدمعاش لڑکا ہوا کرتا تھا۔ کھيل کا ميدان ہو يا سکول وہ ہر ايک کو آگے لگاۓ رکھتا تھا۔ اسي طرح ہمارا بھي ايک ہم عصر اقبال بٹ ہوتا تھا۔ جب بھي ہم نے اس کے ساتھ ہاکي کا ميچ کھيلا کرنا اس نے تب تک ميچ جاري رکھا کرنا جب تک جيت نہ جانا۔ اس طرح کئ دفعہ ميچ گرميوں کي چھٹيوں ميں سارا سارا دن چلا کرتا تھا۔

  2. shoiab safdar says:

    ارے بھائی کہتے ہیں
    football by force
    اب آپ بتاؤ طاقت کس کے پاس ہے؟؟ مذاق!!!!
    اگر کسی کی ناکامی یا بہتری آپ کے حق میں جائے تو اس سے فائدہ اٹھانے میں کیا ہرج ہے بشرطیکہ آپ کا یہ عمل کسی کے لئے نقصاندہ نہ ہو!!!

  3. بدتمیز says:

    salam
    wanted to talk to u i wonder if u cud let me have ur email address plz. ?
    or u can send an email to me at
    thegame [at] live.com

  4. Anonymous says:

    tum waise abb ouss larkay sai jaltay thea….abb koi kiya kah sakta hai..:p

    waise abb tou phir france hi jeetey ga…inshallah..:P

    Lalah

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔