پاکستان قونصليٹ نيو يارک

Tuesday,8 March 2005
از :  
زمرات : پاکستان, نیو یارک, میری زندگی

اسلام و عليکم

يہاں رہتے ہوے ٢ بار پاکستان قونصليٹ جانا ہواايک دفعہ اپنے پاسپورٹ کی مياد بڑھانے کے ليے اور ايک دفعہ اپنے چچا زاد کا پاکستان کا ويزہ لگوانے اور اپنے اوريجن کارڈ بنوانے۔ مگر دونوں دفعہ ہی کچھ بری باتيں محسوس کی جس کے ليے يہاں لکھنا پڑ رہا ہے۔

سب سے پہلے جو افراد وہاں ملازم ہيں انکے بارے ميں جو ايک عمومی تاثر ہے کہ وہ تنگ کرتے ہيں اور کام کو لٹکاتے ہيں اس ميں مجھے کوئی صداقت محسوس نہيں ہوئی ويسے بھی ہم پاکستانيوں ميں اپنے آپکو يا اپنے اداروں کو تنقيد براے تنقيد کی بری عادت پڑ چکی ہے۔ کيونکہ ميں نے قونصليٹ ميں اپنی آنکھوں سے ديکھا ہے اگر آپ سب شرائط پوری کرتے ہيں تو کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہيں ہے۔

اب ميں وہاں مسائل جو ميں نے محسوس کيے ہيں انکا تذکرہ کرتا ہوں۔ سب سے بڑا مسلہ کہ يہاں امريکہ ميں سب کو قطار کا عادی کر ديا ہے آپکو کوئی بھی کام ہو آپکو قطار ميں انتظار کرنا ہو گا اپنی باری کا اور يہ بہت اچھی بات ہے۔ ہمارے ہم وطن بھی اسکی پابندی کرتے ہيں ہر جگہ مگر قونصليٹ ميں آ کر وہی بھگدڑ کا منظر ہوتا ہے۔ يہ کيسے ہو سکتا ہے کہ جو لوگ ہر جگہ قطار بناے کھڑے ہوتے ہيں پاکستانی قونصليٹ ميں آ کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہيں اور بعد ميں ايسے ہی لوگ شکايات کرتے نظر آتے ہيں۔۔ اس سلسلے ميں قونصليٹ کی انتظاميہ کو سختی کرنا چاہيے اور ايک مشين کا انتظام جہاں سے اپنا نمبر لے کر باری کا انتظار کريں سب لوگ جيسا کہ ہر جگہ رواج ہے۔

دوسری بات کہ قونصليٹ ميں دوسری قريبی رياستوں سے بھی لوگ آتے ہيں مگر ايک تو انتظار گاہ کی جگہ ناکافی ہے اور دفاتر کے ليے کافی سے زيادہ کشادہ جگہ ہے اور انتظار گاہ ميں بيٹھے کی گنجائش تو بالکل بھی نہيں ہے۔ اسکے بارے ميں انتظاميہ کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا وہاں باتھ روم نہيں ہے اور کافی لوگوں کو سنٹرل پارک ميں گوشے تلاش کرنا پڑتے ہيں۔ ليکن خواتين کے ليے کافی مسلہ ہے۔

اب ذرا لوگوں کے رويے کی بات کرتے ہيں۔ دو واقعات جو ميں نے ديکھے ايک تو ايک صاحب اپنا پاسپورٹ کی مياد بڑھانے آے تھے جس کی فيس مبلغ ٤٦ ڈالر ہے مگر انکے پاس کم پيسے تھے اور جو افسر وہاں تھے انہوں نے ٢٠ ڈالر اپنی جيب سے ديے اور باقی ميں نے ادا کيے تو کہنا ھہی تھا کہ جب ہم جا رہے ہوتے ہيں تو سب شرائط کو پورا کر لينا چاہيے۔

دوسرا افسوس ناک واقع جو ديکھنے ميں آيا کہ ايک لڑکی جو اتنی امريکن بن گئ ہيں کہ تميز نام کا بھی اب تو شايد انکو پتا نہيں ہو۔ وہ ےہاں شادی کر کے آئی تھيں اور ابھی طلاق لے رہی تھيں تو جو ملازم وہاں تھے انہوں نے کہا کہ بی بی آپکا نکاح پاکستان ميں ہوا تھا آپکو طلاق کے ليے وہاں رجوع کرنا ہو گا اس سلسے ميں آپکو قونصليٹ آنے کی ضرورت نہيں ہے۔ تو محترمہ آگے سے انگلش ميں گالياں دينے لگيں اور جن کو دی رہی تھی وہ انکے والد کی عمر کے تھے۔ اور جو محترمہ کے ساتھ ايک ہسپانوی دوست آيا ہوا تھا وہ بھی کارِخير ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔ اللہ سبکو راہِ راست پر رہنے کی توفيق دے

فی امان اللہ

تبصرہ جات

“پاکستان قونصليٹ نيو يارک” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. سا ئر ہ عنبر ین says:

    جہا نزیب آپ نے ا یک تو جہ طلب مسئلہ پر رو شنی ڈا لی ہے۔اور ان سب مسا ئل کے سد با ب کی اشد ضرو رت ہے۔
    اور یہ وا قعی ایک حقیقت ہے کہ آپ تنہا جس جگہ بھی ہوں وہا ں آپ اجتما عی طور پر اپنے تہذیب و تمد ن کی عکا سی کر رہے ہو تے ہیں۔ اور صر ف کچھ لو گو ں کی نا اہلی کی وجہ سے ایک قو م کے با رے میں بر ا تا ثر قا ئم ہو جا تا ہے۔ جبکہ اس کے بر عکس ایسا کچھ ہو تا نہیں۔

  2. Xeesh says:

    jee or is kee zinda misaal main hoon kiya achha image dai raha hoon Pakistan ka 😀

  3. Anonymous says:

    Jahnzaib bhai app beray nuktay pekertay hain.App bhi embassy main yioon hi kertay hain

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔