نيويارک اور ٹريفک

Saturday,3 December 2005
از :  
زمرات : نیو یارک, میری زندگی

کل مجھے زندگی کا پہلا ٹريفک ٹکٹ ملا ہے، نہيں تو اس سے پہلے ميں اپنے بھائی کو جو اکثر ميری گاڑی چلانے پر مختلف اعتراضات کرتا رہتا ہے کو يہ بات جتاتا تھا کہ مجھے آج تک کوئی ٹکٹ نہيں ملی ہے۔ مگر اب ميں ايک عجيب مخصمے ميں ہوں کہ آيا ميں اس چالان کو تسليم کر لوں يا اس پر دعوی کروں کہ ميری غلطی نہيں ہے، کيونکہ واقعی ميری غلطی نہيں تھی۔ اگر ميں چپ کر کے غلطی تسليم کر لوں تو مبلغ تين سو ڈالر جرمانہ کے ساتھ ساتھ دو پوائنٹ لائسنس پر بھی آ جائيں گے اور اگر ميں دعوی کروں کہ غلطی ميری نہيں تھی تو عدالت ميں جا کر اپنا نقطہ نظر بيان کرنا ہو گا جس کے لئے ايک عدد وکيل کی ضرورت ہو گی، اور اگر جج ميرے نقطہ نظر سے متفق نا ہوا تو دو سو ڈالر وکيل کے باقی وہی تين سو ڈالر جرمانہ اور پوائنٹ اور جو وقت عدالت ميں جانے کا لگے گا وہ الگ۔
اصل ميں ہوا يوں تھا کہ ميں ايک سڑک پر جا رہا تھا اور مجھے تيسرے ايونيو پر دائيں طرف مڑنا تھا جس کے لئے ايک الگ لين بنائی گئی ہوئی تھی مگر اس لين پر ايک ڈليوری ٹرک کھڑا تھا ، اور مجھے لين بدل کر درميانی لين ميں آنا پڑا، ليکن اس ٹرک کے بعد دائيں طرف والی لين ميں جگہ نہيں تھی اور دائيں طرف مڑنے کا اشارہ بند تھا مطلب ميں اُس لين ميں گھس ہی نہيں سکتا تھا جبکہ سيدھا جانے کے لئے اشارہ کھل گيا تھا اور ميں درميانی لين کو بلاک کر کے کھڑا بھی نہيں رہ سکتا تھا تو ميں نے درميانی لين سے ہی دائيں طرف گاڑی موڑ لی اور ميرے گاڑی موڑتے ہی مجھے پوليس نے آ دبوچا ميں نے اس کو سب دکھايا مگر اس کا اصرار تھا کہ مجھے انتظار کرنا چاہيے تھا، ميں نے کہا اگر ميں انتظار کرتا تو ميرے پيچھے والی سب ٹريفک رُکی رہتی تو کہتا ہے اس صورت ميں مجھے سامنے کی طرف ہی چلا جانا چاہيے تھا اور کسی اگلے ايونيو پر دائيں طرف مڑ جانا چاہيے تھا۔
اب نيويارک سٹی ميں دو طرح کی سڑکيں ہيں ايک جسے ہم تھرو سٹريٹ (throu street ) کہتے ہيں اور اُن سڑکوں پر آپ مڑ نہيں سکتے ہيں۔ ميں جس سڑک پر کھڑا تھا (E 60th street) وہ تيسرے ايونيو کے بعد تھرو سٹريٹ بن جاتی ہے اور اس پر مجھے دائيں طرف مڑنے کے لئے تب مزيد دو اور ايونيو پار کر کے پارک ايونيو پر دائيں طرف مڑ سکتا تھا، خير اب ميں سوچ رہا ہوں ايک چانس لے لينا چاہيے شايد جج اس چالان کو منسوخ کر دے اور ميری بچت ہو جائے کيونکہ واقعی ميں ميری غلطی نہيں ہے۔

نيويارک ميں سڑکوں کا جو نظام ہے ميرے خيال ميں دنيا ميں بہترين نظاموں ميں سے ہے ميں نے اتنی چوڑی سڑکيں جن پر ٹريفک صرف ايک رُخ پر چلتی ہو کہيں اور نہيں ديکھی ہيں مگر اس سب کے بعد بھی ٹريفک جام رہتا ہے۔ خاص طور پر ان دنوں ميں اگر آپ نيويارک کے درميانی علاقے(Midtown) ميں ساتويں، آٹھويں، براڈوے(Broadway) ميں چاليسويں سڑک اور باون سڑک کےدرميان کسی جگہ پر ہيں تو صرف ايک بلاک طے کرنے ميں آپ کو پندرہ سے بيس منٹ لگ سکتے ہيں جو عموما ايک منٹ سے بھی کم وقت ميں طے ہو سکتا ہے۔
ميں نے اس پر بہت غور کيا ہے کہ آخر کار اس بات کی وجہ کيا ہے جو اتنے اصولوں کے باوجود ٹريفک رک جاتی ہے تو سب سے بڑی وجہ ايسے ڈرائيور ہيں جو منھيٹن(Manhattan) ميں کبھی کبھار آتے ہيں اور انہيں اس بات کا اندازہ نہيں ہوتا کہ کونسی سڑک کس طرف کو جا رہی ہو گی اور اس بات کو ديکھنے کے لئے وہ گاڑی انتہائی سُست رفتار ميں چلاتے ہيں اور اپنے پيچھے ٹريفک بلاک کر ديتے ہيں، اس کے علاوہ ايسے ڈرائيور جو عموما نيويارک کے دوسرے حصوں سے آتے ہيں يا نيوجرسی سے يا کنکٹيکٹ جہاں آپ ايک تو گاڑی کو دہرا پارک کرنے کے عادی ہو جاتے ہيں بالکل اسی طرح جب ايسے ڈرائيور ڈاؤں ٹاؤن ميں آتے ہيں تو اپنی پسند کی جگہ گاڑی کو دہرا پارک کر کے اندر بيٹھ جاتے ہيں اور اس طرح ايک لين بلاک کر ديتے ہيں۔
دوسری بات جو ہر کسی نے جو نيو يارک آتا ہے اور منھيٹن ميں گاڑی چلاتا ہے نے محسوس کی ہو گی وہ پيلی ٹيکسياں (yellow cabs) ہيں۔ نيويارک ميں ٢٤،٠٠٠ پيلی ٹيکسياں چلتی ہيں اور اگر آپ نيويارک ميں گھومنے آئے ہيں تو ايسا لگے گا کہ پيلی ٹيکسيوں کے علاوہ شايد يہاں کچھ اور ہے ہی نہيں ہے۔ پيلی ٹيکسياں چلانے والوں کی اکثريت پاکستانی يا بھارتی پنجابی ہيں اور وہ جارحانہ انداز ميں گاڑی کو چلاتے ہيں کيونکہ اگر وہ ايسا نہيں کريں تو اپنی گاڑی کی قسطيں بھی پوری نہيں کر سکيں۔ يوتا يوں ہے کہ ايک پيلی ٹيکسی سڑک پر جا رہی ہے اور اس کے اوپر لگی بتی جل رہی ہے تو ميرا مشورہ سب کو جو نيويارک ميں گاڑی لے کر آئيں يہی ہے کہ ان سے بچ کر رہيں ۔ کيونکہ دو طرح کی بات آپ ان ٹيکسی والوں ميں ديکھيں گے، پہلی تو يہ کہ اگر آپ گاڑی چلا رہے ہيں اور آپکی گاڑی اور آپ سے اگلی گاڑی کے درميان اگر تين فٹ کا بھی فاصلہ ہے تو آپ کے اطراف کے ٹيکسی والے اس تين فٹ جگہ ميں بھی اپنی گاڑی کو لے آئيں گے اور اگر آپ نے اس کو ٹکر مار دی تو چونکہ ٹکر پيچھے سے ماری گئی ہو گی تو آپ قصور وار ہيں، اور اس قانون کا سب سے زيادہ فائدہ پيلی ٹيکسيوں والے اُٹھاتے ہيں۔
دوسری جو سب سے خطرناک بات ہوگی کہ اگر ايک ٹيکسی والا سڑک کے دائيں طرف جا رہا ہے اور ايک مسافر سڑک کے بائيں طرف کھڑا ہے اب اس نے نہيں ديکھنا کہ اس کے پيچھے کتنی ٹريفک ہے وہ چار لين کو پلک جپھکتے کراس کرے گا کيونکہ اگر وہ ايک دو سيکنڈ بھی انتظار کرے کہ ٹريفک گزر جائے تو دس اور ٹيکسياں اس مسافر کو اٹھانے کے لئے موجود ہوں گی۔ اور اگر آپ کے خيال ميں ٹيکسی والے صرف سڑک کے دائيں اور بائيں طرف کھڑے لوگوں کو ہی اٹھاتے ہيں تو آپ کو محتاط رہنا ہو گا کيونکہ وہ سڑک کے عين بيچ کھڑا ہو کر بھی مسافر کو اٹھانے ميں کوتاہی نہيں کرتے اور آپ اس کے پيچھے پيچ و تاب کھا کر رہ جاتے ہيں، جبکہ وہ سکون سے مسافر کو اٹھائے گا۔
اور تيسری بات جو ٹريفک کے تعطل کا باعث ہے وہ ڈليوری ٹرک اور بسيں ہيں، ڈليوری ٹرک لازما کھڑے ہو کر ڈليوری کريں گے اور ان کو قانونا اس بات کی اجازت بھی ہے اور بسيں جن کے لئے مخصوص لين ہوتی ہے اس ميں چلتی نہيں ہيں۔
اب پيدل چلنے والے آپ جب نيويارک آئيں اور ٹريفک کا اشارہ بند ہو تو ہزاروں لوگ سڑک کو پار کرتے ہيں مگر اس دوران ميں گاڑيوں کو دائيں يا بائيں بھی مڑنا ہوتا ہے مگر اس طرف پيدل لوگ موجود ہوتے ہيں جس کی وجہ سے گاڑيوں کو سڑک کے بيچ ميں کھڑے رہ کر ان کے جانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور اسی دوران اشارہ سبز ہو جاتا ہے اور ايک دفعہ تھوڑی دير کے لئے سہی ٹريفک تعطل کا شکار ہو جاتی ہے۔ اگر ايک جگہ سے دس گاڑياں دائيں يا بائيں مڑ سکتی ہيں تو ان دنوں ميں اسی مقام سے صرف ايک يا دو گاڑياں ہی رش کی وجہ سے مڑ پاتی ہيں۔
باقی ايک مسلہ اور بھی ہے جو کہ ساتھ کی دوسری رياستوں سے ڈرائيور آتے ہيں انہيں اتنی ٹريفک ميں گاڑی چلاتے اور ان سب باتوں کا دھيان رکھتے ہوئے گاڑی چلاتے ڈر لگتا ہے خاص طور پر نيويارکر، نيوجرسی کے ڈرائيور حضرات کو اچھا ڈرائيور نہيں سمجھتے ہيں اور اگر کسی کی گاڑی کے سامنے نيوجرسی کی نبمر پليٹ والا ڈرائيور آ جائے تو نيويارک کے ڈرائيور اچھے خاصے زچ ہو جاتے ہيں جبکہ نيو جرسی والا قانون کے مطابق گاڑی چلا رہا ہوتا ہے مگر نيويارک ميں ٹريفک کا اپنا قانون ہے اور عام نيويارکر جارحانہ طرز پر گاڑی چلانے کا عادی ہو جاتا ہے۔

تبصرہ جات

“نيويارک اور ٹريفک” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. میرا پاکستان says:

    ہم بھي چونکہ نيويارک ميں پانچ سال رہے ہيں اور ان پانچ سالوں ميں کوئي دس ٹريفک ٹکٹيں بھکتا چکے ہيں۔ اسلۓ تجربے کي بنياد پو مشورہ دے رہے ہيں کہ آپ کورٹ ضرور جائيں مگر وکيل کرتے ہوۓ کسي ٹيکسي ڈرائيور بھائي سے اچھے سے وکيل کا نام پتہ ضرور لے ليجۓ گا۔ ہميں معلوم ہے کہ کچھ وکيل ججوں کے جاننے والے ہوتے ہيں اور اپنے اسرورسوخ سے ٹکٹ معاف کرا ليتے ہيں۔ وکيل ٹکٹ کا کيس بھي بڑي مہارت سے لڑتے ہيں اور ترفء پوليس کو جرح ميں کافي سخت وقت ديتے ہيں۔ ہم نے آج تک جتنے ٹکٹ عدالت ميں لڑے ان کو معاف کرانے ميں اچھے وکيل کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا تھا۔
    ايک بات ياد رکھيں کہ سيدھي طرح آپ يہ ٹکٹ معاف نہيں کروا سکيں گے۔ آپ کو اپنا بيان درست کرنا ہوگا۔ کبھي کبھار ايسا بھي ہوتا ہے کہ ٹکٹ دينے والا سپاہي حاضر نہيں ہوتا اور اگر وہ دو دفعہ نہ آۓ تو ٹکٹ معاف ہوجاتي ہے۔ اگر آپ کسي ہوشيار وکيل کا بندوبست نہيں کرپاۓ تو پھر عدالت ميں جانے کا کوئي فائدہ نہيں ہو گا۔

  2. اجمل says:

    میرا خیال تھا آپ اب بہار کے پھولوں کے ساتھ ہی نظر آئیں گے لیکن آپ نے سردیوں میں آ کر خوشگوار احساس دیا ۔
    جہاں تک آپ کے ٹریفک ٹکٹ کا تعلق ہے مقدمہ کچھ بھی ہو وکیل نہ صرف ہوشیار بلکہ بارسوخ بھی ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ عدالتیں انسان کے بناۓ ہوۓ قانوں سے انسان ہی چلاتے ہیں اور انسان ہوشیاری اور رسوخ سے مار کھاتا ہے بشرطیکہ وہ فنا فی الاللہ نہ ہو ۔

  3. Jawwad says:

    واپسی مبارک ہو

  4. Nabeel says:

    السلام علیکم جہانزیب، تم توقع کے خلاف جلدی دوبارہ دکھائی دے گئے۔ بہت خوشی ہوئی تمہیں دیکھ کر۔ لگتا ہے تم گاڑی کو بھی اب بحری جہاز کی مانند چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بتاؤ، کب تک ہو یہاں؟

  5. Abdul Qadir says:

    آپ کی تحریر پاکر خوشگوار احساس ہوا ۔ میں نے تو سنا تھا کہ آپ جہاز پر چلے گئے ہیں ، واپس کیوں آگئے ، کچھ مچھلیاں بھی پکڑیں یا خالی ہاتھ ہی آگئے۔

    آپ کو تو خوش ہونا چاہیے ، ٹکٹ مل گئی ہے تو جا کر شو دیکھیں یا کریں عدالت میں ؛)

  6. شعیب صفدر says:

    پہلے تو آپ کی واپسی پر خوشی ہوئی۔۔۔۔ گئے کہاں تھے۔۔۔۔
    دوسرا مجھے نہیں معلوم تھا نیویارک میں بھی وکیل اور جج کی علیک سلیک پر کام ہو جاتا ہے۔۔۔۔ جیسا تبصرے میں بیان ہے۔۔۔

  7. جہانزيب says:

    ميرا پاکستان۔ جی ميں نے ايک دوست سے پوچہا تھا اور اس نے ايک وکيل کا بتايا ہے اب ديکھيں کيا بنتا ہے۔
    جواد اور انکل اجمل آپ لوگوں کا شکريہ۔
    نبيل بہائی تہوڑا وقت قسمت سے ملا تو ميں نے فورا ہی بلاگ ميں ايک عدد پوسٹ لکہ ماری مگر يہ ابھی مکمل واپسی نہيں ہے۔
    قدير مياں اب کيا کہيں اب مچھلياں اتنی بھی آسانی سے نہيں پکڑی جاتی ہيں کہ ميرے ہاتھ لگ جاتیں۔
    شعيب بہت شکريہ اور ميں نے جانا کدھر تھا بس وہ سنا ہے آپ نے
    دلفريب ہيں غم روزگار کے 😉

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔