ہڑتال ٢٠٠٥

Wednesday,21 December 2005
از :  
زمرات : نیو یارک, میری زندگی, سیاست

پچھلے دو ہفتے سے نيو يارک ميں سب سے اہم سوال جو ہر شخص کی زبان پر تھا کہ آيا TWU کی جانب سے ہڑتال کی دھمکی صرف ايک دھمکی ہی ہے يا واقعی ايسی کوئی ہڑتال ہو سکتی ہے؟۔۔
کل سے نيو يارک ميں عوامی ٹرانسپورٹ کی ہڑتال شروع ہو چکی ہے، اور اس کا اثر ہر جگہ پر ديکھا جا سکتا ہے Manhattan ميں صبح پانچ بجےسے گيارہ بجے تک کوئی گاڑی چار لوگوں کےبغير ٩٦ سٹريٹ سے نيچے اور ٢٣ سٹريٹ سے اوپر شہر ميں داخل نہيں ہو سکتی ہے اور پانچواں اينونيو اور ميڈيسن ايونيو پر ہر قسم کی ٹريفک بند کر دی گی ہے جن کو صرف ہنگامی استعمال ہونے والی گاڑيوں کے لئے مختص کر ديا گيا ہے۔
ايک اندازے کے مطابق نيو يارک ميں ہر روز دس لاکھ سے زائد افراد سب وے اور بسوں کا استعمال کرتے ہيں، اور خاص اس مہينے ميں يہ تعداد تقريبا دوبنا ہو جاتی ہے کيونکہ نا صرف نيويارکر بلکے کرسمس اور نئے سال کی آمد پر لاکھوں کی تعداد ميں لوگ پورے امريکہ اور دنيا سے چھٹياں منانے نيويارک آتے ہيں خاص طور پر نئے سال کے لئے ٹائمز سکوئر جہاں سے گيند کو نيچے پھينکا جاتا ہے ميں شموليت کے لئے لوگ ہر جگہ سے آتے ہيں۔
ہڑتال کی صورت ميں تمام لوگوں کو اپنی گاڑياں يا ٹيکسياں استعمال کرنا پڑيں گی جس سے ٹريفک ميں اتنا اضافہ ہو گيا ہے کہ ل Manhattan سے اپنے گھر آتے مجھے ڈيڑھ گھنٹا لگا جو کہ ٢٠ منٹ کا فاصلہ ہے، ليکن اس وقت ہڑتال کی شروعات تھيں بعد ميں مجھے اپنے ايک دوست سہيل کو اسکی جاب پر چھوڑنا جانا پڑا تو ايک ايک سگنل پر ١٥-٢٠ منٹ لگ رہے تھے، ايک اور دوست علی کل اپنی جاب پر تين گھنٹے ميں پہنچے وہ بھی ايسے کہ پہلے ايک ٹيکسی لی جو ٹريفک ميں چيونٹی کی رفتار سے چلتی رہی حالات کا اندازہ کر کے وہ ٹيکسی سے نکل کردوسرے لوگوں کی طرح پيدل ہی اپنی جاب پر پہنچ گئے۔۔۔ اور ان تمام حالات کو ديکھ کر آج ميں تو جاب پر نہيں گيا۔۔
سب سے بُری طرح متاثر ہونے والوں ميں نيوجرسی کے رہائشی ہيں، نيو يارک اور نيو جرسی کو جرسی سٹی سے Holland tunnel ملاتی ہے اُسکے بعد دوسرا قريب ترين راستہ Lincoln Tunnel ہے جو کہ جرسی کے ايک ٹاؤن Hoboken کو نيو يارک سے ملاتا ہے يہ دونوں راستے صرف وہ لوگ استعمال کر سکيں گے جن کی گاڑی ميں چار لوگ ہيں، باقی سب ٹريفک کو پيچھے دھکيلا جا رہا ہے، ليکن اگر پھر بھی کوئی نيو جرسی سے نيو يارک آنا چاہتا ہے تو پہلے جرسی سٹی سے George Washington Bridge تک آئے اسکے بعد وہاں سے دوبارہ نيويارک ڈاؤن ٹاؤن اپنی جاب پر يا اپنے بزنس پر پہنچے گا۔ Holland Tunnel سے نيو جرسی سے نيو يارک ١٠ منٹ ميں پہنچا جا سکتا ہے مگر اگر GW Bridge سے ان حالات ميں آيا جائے تو ٣-٥ گھنٹے لگ سکتے ہيں۔
ميں نے اپنی پرانی پوسٹ ميں يونين کے حق ميں لکھا تھا، مگر اب ميں MTA کے ساتھ ہوں، اُسکی وجہ يہ ہے کہ اس سارے معاملے کے دوران جو دو ہفتے سے جاری ہے MTA نے تين بار اپنی ترجيحات اور contract کو بدلا ہے اور جو آخری contract جاری کيا گيا ہے وہ يونين کے مطلوبہ contract کے قريب تر ہے مگر يونين نے اپنے رويے ميں کسی لچک کا مظاہرہ نہيں کيا اور آخری contract جو ہڑتال کی کال سے دو گھنٹے پہلے پيش کيا گيا تھا کو ديکھا تک بھی نہيں۔
نيو يارک کے مئير جناب مائيکل بلومبرگ کل صبح بروکلين سے بروکلين برج Brooklyne Bridge سے پيدل چل کر سٹی ہال ميں آئے تھے اور انہوں نے ہڑتال ميں حصہ لينے والے ہر MTA کے ملازم سے فی يوم دو دن کی تنخواہ کاٹنے کا اعلان کيا ہے، پہلے جو ہڑتال تين دن کے لئے تھی اُسکو غير معينہ مدت تک کے لئے بڑھا ديا گيا ہے۔
اور يہ آج ميری ١٠٠ ويں پوسٹ ہے اور ميرے بلاگ کو تقريبا ايک سال ہو گيا ہے ايک سال سے ايک مہينہ کم 🙂

تبصرہ جات

“ہڑتال ٢٠٠٥” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Abdul Qadir says:

    مبارکاں مبارکاں

    میں نے آپ کو دو عدد ای میلز بھیجی تھیں جواب نہیں آیا،
    خیریت؟

  2. saad says:

    Is main koi shak nahin k inhi nangi taaron ki wajehse se hi aaj yeh masla hai k is kism k haadsaat ruunma hotay hain. Kher yeh tau billi ki apni khud hi ki kaarwaai thee. Islamabd main zer-e-zameen taarain bichaai gayeen theen mager yeh mansuuba kaamyaab naa ho saka.

    Bahar haal kissa mukhtasir yehi duaa kerta huun k New York main jo aanay jaanay ka filwakt masla hai woh hal ho jaaye k jin takaleef se log guzar rehay hain woh mazeed berhne ki bejaayae khatam hon.

  3. شعیب صفدر says:

    100
    پوسٹ پر مبارک !!!! جناب

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔