پرديس ميں نکما کدھر گيا

Friday,3 June 2005
از :  
زمرات : میری زندگی

ايک دو لوگوں نے پوچھا ہے کہ بلاگ کا جو پہلا پيش لفظ تھا پرديس ميں نکما اسکو کيا ہوا ہے۔ مطلب اب نکمے نہيں رہے يا پرديس کو ديس بنا ليا ہے۔ يہ بات نہيں ہے اصل ميں کسی نے ايک بات کہی تھی اور بات ميں وزن تھا حالانکہ بات کرنے والے کا اپنا وزن اتنا نہيں ہے۔ بات اچھی تھی دلکو لگی تو ميں نے بھی مان ليا اس کہنے والے نے حديث کا حوالہ دے کر کہا کہ ايک دوسرے کو اچھے القاب سے پکارا کرو۔ تو جيسے مجھ پر اسکا اثر ہوا ہے شايد کسی اور پڑھنے والے کو بھی احساس ہو جائے اور لوگوں کو اچھے القاب سے پکارنا شروع کر دے۔ اچھی بات کہيں سے بھی سيکھی جا سکتی ہے تو ميرا بلاگ کيوں نہيں؟
فی امان اللہ

تبصرہ جات

“پرديس ميں نکما کدھر گيا” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. سا ئر ہ عنبر ین says:

    hmmmmmm good 🙂

  2. Hypocrisy Thy Name says:

    اچھا کیا نام بدل کر۔ کچھ جچتا نہیں تھا۔ اور ہاں۔ حدیث تو اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہی۔ البتہ قرآن الحکیم کی سورۃ 49 الحجرات کی آیت 11 میں ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ نہ مرد دسرے مرد کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔

  3. Anonymous says:

    umm good

    miss mughal

  4. جہانزيب says:

    سائرہ۔ ہمم ہمم
    مس مغل۔ آہاں ہممم
    انکل اجمل۔ جی بالکل اگر ہم دين کے رستے پر چلنا شروع کر ديں تو دنيا ہی جنت کا نمونہ بن جائے۔
    اللہ حافظ

  5. Zeeast says:

    acchi baat hai…

  6. Xeesh says:

    achha agar sab achhi baat keh rahe hain tu achhi hee baat hui phir :p

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔