ايک دو لوگوں نے پوچھا ہے کہ بلاگ کا جو پہلا پيش لفظ تھا پرديس ميں نکما اسکو کيا ہوا ہے۔ مطلب اب نکمے نہيں رہے يا پرديس کو ديس بنا ليا ہے۔ يہ بات نہيں ہے اصل ميں کسی نے ايک بات کہی تھی اور بات ميں وزن تھا حالانکہ بات کرنے والے کا اپنا وزن اتنا نہيں ہے۔ بات اچھی تھی دلکو لگی تو ميں نے بھی مان ليا اس کہنے والے نے حديث کا حوالہ دے کر کہا کہ ايک دوسرے کو اچھے القاب سے پکارا کرو۔ تو جيسے مجھ پر اسکا اثر ہوا ہے شايد کسی اور پڑھنے والے کو بھی احساس ہو جائے اور لوگوں کو اچھے القاب سے پکارنا شروع کر دے۔ اچھی بات کہيں سے بھی سيکھی جا سکتی ہے تو ميرا بلاگ کيوں نہيں؟
فی امان اللہ
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





جمعتہ المبارک,3 جون 2005
hmmmmmm good
ہفتہ,4 جون 2005
اچھا کیا نام بدل کر۔ کچھ جچتا نہیں تھا۔ اور ہاں۔ حدیث تو اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہی۔ البتہ قرآن الحکیم کی سورۃ 49 الحجرات کی آیت 11 میں ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ نہ مرد دسرے مرد کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔
ہفتہ,4 جون 2005
umm good
miss mughal
ہفتہ,4 جون 2005
سائرہ۔ ہمم ہمم
مس مغل۔ آہاں ہممم
انکل اجمل۔ جی بالکل اگر ہم دين کے رستے پر چلنا شروع کر ديں تو دنيا ہی جنت کا نمونہ بن جائے۔
اللہ حافظ
ہفتہ,4 جون 2005
acchi baat hai…
ہفتہ,11 جون 2005
achha agar sab achhi baat keh rahe hain tu achhi hee baat hui phir :p