سہوليات اور انسان

Tuesday,1 November 2005
از :  
زمرات : پاکستان, میری زندگی, متفرق

انسان زندگی ميں سہوليات کا کتنا جلدی عادی ہو جاتا ہے، اور اگر اس سے ان سہوليات کے پہلے والے زندگی ميں جو وہ گزار چکا ہوتا ہے ميں رہنا پڑ جائے تو اسے ايک مصيبت دکھائی ديتی ہے، فی زمانہ جيسے ميں خود ہوں، اگر مجھے کہا جائے کہ ميں کمپيوٹر کے اور انٹرنيٹ کے بغير رہ لوں تو ميرا تو چہرہ اُتر جاتا ہے ۔
اسی طرح جب ميرے بچپن کے دن تھے تو ميرے ننھيال والے گاؤں ميں بجلی نہيں ہوتی تھی اور سب لوگ گرميوں ميں صحن ميں چارپايوں پر آرام سکون سے سو جايا کرتے تھے، اُس وقت ٹريکٹر کی بيٹری سے ہم لوگ ٹی وی چلا کر ديکھا کرتے تھے، آپ ميں سے کتنے لوگوں نے ٹريکٹر کی بيٹری سے ٹی وی چلا کر ديکھا ہوا ہے؟ اور دن کے وقت درختوں کی چھاؤں ميں کافی سکون مل جايا کرتا تھا، وہاں ہمارے ننھيال کے پاس ايک ريلوے سٹيشن ہے چھوٹا سا جو گاؤں سے تقريبا ٣ کلوميٹر کے فاصلے پر ہے وہ ہم بچوں کی پسنديدہ جگہ ہوتی تھی ، وہاں بہت گھنے درخت تھے جن پر ہم بندروں کی طرح پکڑن پکڑائی کھيلا کرتے تھے اور شرط ہوتی تھی کہ درخت سے نيچے نہيں اُتر سکتے ہيں تو ايک درخت کی ٹہنيوں سے دوسرے پر کبھی اوپر کبھی نيچے مگر درختوں سے اُترنا نہيں اور نا ہی پکڑے جانا ہے، اس سے زيادہ دلچسپ کھيل ميں نے کوئی اور نہيں کھيلا ہے۔ پھر ہم لوگ پانچ پيسے اور دس پيسے کے سکے لے کر ريل کی پٹڑی پر رکھ ديتے تھے اور خيال ہوتا تھا کہ اگر اس پر سے سات دفعہ ريل گاڑی گزر گئی تو يہ مقناطيس ميں تبديل ہو جائے گا، مگر ہم کبھی سات گاڑياں گزارنے ميں کامياب نہيں ہوئے اس سے پہلے ہی سکہ کھو جاتا تھا۔ پتہ نہيں اب بھی شائد بچے يہ سب کھيل کھيلتے ہوں گے۔ ہاں تو اُس کے بعد ميرے گاؤں ميں بجلی آئی ہے ميرے گاؤں ميں بجلی آئی ہے کا گانا پی ٹی وی پر آنا شروع ہوا اور واقعی ميرے ننھيال والے گاؤں ميں بجلی آ گئی (ميری ددھيال ميں ميری پيدائش سے پہلے کی بجلی تھی) اُسکے بعد جب ميں ننھيال گيا تو جو لوگ سب مل کر درختوں کے نيچے بيٹھا کرتے تھے اب اپنے اپنے گھروں ميں اپنے کمروں تک کافی حد تک محدود ہو گئے تھے اور جو گرميوں ميں پہلے گرمی کی شکايت نہيں کرتے تھے لوڈ شيڈنگ پر گرمی گرمی پکار اُٹھتے ہيں۔

تبصرہ جات

“سہوليات اور انسان” پر 9 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. سا ئر ہ عنبر ین says:

    wow kitni interesting life hai 🙂

    or yeh aik fact hai kai joon joon insan taraqi karta hai us ki life fitrati khoobsoorti sai dor hoti jati hai.

  2. شعیب صفدر says:

    بس!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان آرام پسند ہوتا جاتا ہے۔۔۔۔سہولتیں ملنے پر۔۔۔۔

  3. SHAPER says:

    یہ تو حقیقت ہے کہ اگر انسان کو کوئی آسائیش مل جائے تو وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ۔۔ مجھے ٹورنٹو کا وہ بلک آوٹ یاد آگیا ۔۔۔ بہت مشکل وقت تھا یہاں تو ہمارے پاس موم بتیاں بھی نہیں تھیں ۔۔۔ وہ تو شکر ہے کہ کہیں سے میرے ہاتھ میں ٹارچ آگئی

  4. Zeeast says:

    ye aap ithne purane tu hein….:o…

    anyways,,,interesting…..aur uss waqet kithni innocence hugee na…

  5. Asma says:

    assalamoalaykum !

    well, this is life … you don’t feel the need of one thing if it’s not in ur reach or it’s not there … but if you have it and then it goes you feel like how would i do this … before microwaves we used to warm up everything on stoves now if any problem occurs to it the same thing becomes annoying.

    I remember that meray gaaon may bijli ayi hay song … that was a very popular add of my [very] bachpan 🙂 used to come everyday lot many times !!!

    wassalam

  6. اجمل says:

    آپ کی یہ پوسٹ پڑھ کے میرا شعر بنانے کو جی چاہ رہا ہے ۔ ملاحظہ ہو فی ابدیع

    باتیں بچپن کی کیا بتاؤں میں ہم نشیں
    وہ دنیا میرے بچن تھی کتنی حسیں
    وہ کھیل صحتمند ۔ زندگی میں سادگی
    ترقیافتہ دور نے مجھ سے ہے وہ چھین لی

    درختوں والے کھیل کا نام ٹاہلی ٹپ تھا اور واقعی زبردست کھیل تھا ۔ اس سے جسم میں طاقت اور چستی آتی تھی ۔ حالانکہ میرے آباؤاجداد صدیوں سے شہروں میں رہ رہے تھے مگر مجھے گاؤں بہت اچھے لگتے تھے ۔ کھلی فضا میں سونے اور رہٹ کے کنویں پر نہانے کا بہت مزا آتا تھا ۔ میں شادی سے پہلے مختلف دیہات میں جاتا رتا تھا ۔ آخری بار 1964 میں ایک دوست کےگاؤں میں چار دن رہا ۔ اس کے بعد موقع نہ ملا ۔

  7. Jawwad says:

    جناب آپ کی اس پوسٹ سے پرانے کچھ یادگار لمحے تازہ ہو گئے

  8. میرا پاکستان says:

    آپ کو عيد مبارک ہو

  9. Zaheer says:

    good old memories 🙂 neighbor district kay ho na jz is liay sub karnaamay ek jese hi hain :D, Tractor ki battery se TV , VCR tak dekha jaata tha. train per coins to rakhtay hi thay , main ne to diff hi experiments kiay thay (although kay yeh experiemnts village k nahi hain , balkay karachi rehtay houay kiay thay). ek do dafa ek ruppee ka note rakha kay shaiyad brand new ho jaaiy ga akarr kar 😀 aur ek dafa reverse procedure coins-magnet theory waala bhi try kia, means magnet hi rakh dia main nay, but train itni speed se guzri k magnet Allah jaanay saath hi chipak gaiya ya reza reza ho gaiya tha.

    aur humaaray gaaon main bhi bijli aai thi usi TV ad k badh. us life ko aur ab ki life ko compare karen to kitni changes aa gai hain but bahot achi baat hai k apni us life ko bhoolna nahi chaihay, yeh memories insan ko encourage karti hain aagay barhnay keliay.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔