باخبری يا ذہنی تناؤ؟

Friday,14 October 2005
از :  
زمرات : نیو یارک, میری زندگی

اس دور ميں انسان اپنے اردگرد کے ماحول اور حالات و واقعات سے مختلف ذرائع سے ہمہ وقت باخبر رہتا ہے۔ مگر کيا اس سے انسان کے ذہنی تناؤ میں اضافہ نہيں ہو جاتا؟ ايک بری خبر کے اثر سے نکلتے نہيں کہ ايک اور بری خبر انتظار ميں ہوتی ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے نيويارک ميں حفاظتی حد کو نيويارک سب وے پر ممکنہ حملے کی وجہ سے بڑھا کر نارنجی رنگ پر کر ديا گيا تھا، اور ايسا کہا گيا تھا کہ اس دفعہ جو خفيہ اطلاعات ملی ہيں ان سے دن، مقام اور وقت تک کا بھی پتا ہے جو کہ ٧ اکتوبر سے ١٠ اکتوبر کے درميانی کوئی تاريخ ہے۔ اللہ کے فضل سے ايسا کوئی واقعہ وقوع پذير تو نہيں ہوا ہے مگر وہ تين دن نيويارک سب وے ميں جو ١٥ لاکھ لوگ روز سفر کرتے تھے ان کی ذہنی پريشانی اور آمدورفت ميں فرق ضرور پڑا تھا۔ لوگوں نے سب وے ميں سفر کرنا چھوڑ ديا جس کو مئير نے خود سب وے ميں سفر کر کے باور کروانے کی کوشش کی کہ سب وے محفوظ ہے بس لوگ ذرا اپنے اردگرد پر نظر رکھيں۔
اس کے بعد جس خبر سے لوگ سب سے زيادہ پريشان ہيں وہ برڈ فلو کے پھيلاؤ سے متعلق ہے۔ ٹی وی پر ايک ڈاکٹر کے مطابق اگر کوئی شخص اس فلو سے متاثر بھی ہو تو اس وائرس کے پھيلنے ميں آٹھ درجات ہوں گے ليکن لوگوں کا روز خبروں ميں سن کر ايسا ذہن بن گيا ہے کہ شايد اس وائرس کے زيراثر فوری موت واقع ہو جائے۔
اس ذہنی تناؤ کے تحت لوگوں کی حالت کيسی ہوتی ہے اسکا ايک واقع لکھتا ہوں۔ جن دنوں امريکہ عراق پر حملہ کرنے کی ٹھان چکا تھا اور ميڈيا پر ہر وقت يہاں لوگوں کو باور کرايا جا رہا تھا کہ صدام کے پاس فلاں چيز ہے يہ ہے وہ ہے اور لوگوں کے ذہن ميں تھا کہ صدام تو پتا نہيں کيا کر سکتا ہے۔ يہ عام لوگوں کی بات کر رہا ہوں ميری ذاتی رائے کے مطابق امريکہ کا ايک عام آدمی باقی دنيا سے بالکل بے خبر ہوتا ہے سوا اس کے جو اس کو ميڈيا پر دکھايا جائے اور ميڈيا کا حال يہ ہے اگر آپ ٢٤ گھنٹے خبريں ديکھتے رہيں تو آپ کو صرف اپنے شہر کے سوا کوئی خاص بات پتا نہيں چلے۔ تو جس دن امريکہ نے عراق پر حملہ کيا اس دن يہاں نيويارک ميں بارش ہو رہی تھی۔ عموما يہاں بجلی بہت زور سے کڑکتی ہے ميرے کام والی جگہ کے بالکل پاس سب وے ہے تو ايک دم زور سے بجلی کڑکی اور ميری جاب پر موجود لوگوں ميں آدھے چيخ پڑے کہ صدام نے حملہ کر ديا ہے۔
تو ميرے خيال ميں ہم حالات سے باخبر تو رہتے ہيں مگر ساتھ ہی ساتھ اس سے ذہنی تناؤ جو کہ آج کے دور کی ايک بڑی بيماری بن چکی ہے ميں بھی اضافہ ہو جاتا ہے آپکا کيا خيال ہے اس بارے ميں؟

تبصرہ جات

“باخبری يا ذہنی تناؤ؟” پر ایک تبصرہ ہوا ہے
  1. Nabeel says:

    جہانزیب، اگر تم نے مائکل مور کی فلمیں (باؤلنگ فار کولمبائن، فارن ہائٹ 911) دیکھی ہوں تو اس سے بھی ایک نظریہ سامنے آتا ہے کہ عوام میں خوف و ہراس پھیلا کر بھی مختلف مقصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کچھ کمنیوں کے لیے ایسی ڈر اور خوف کی فضا تو تجارتی طور بھی سود مند ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر عراق پر حملے کا پروگرام ہو تو روپرٹ مرڈاک کی پوری میڈیا امپائر سارا سال القاعدہ اور دہشت گردی چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے اور ڈرے سہمے امریکی عوام کو کسی حد تک یقین ہو جاتا ہے عراق پر امریکی حملے میں ہی عافیت ہے۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔