پڑھنے والوں کا پتہ

Wednesday,26 October 2005
از :  
زمرات : کمپیوٹر, میری زندگی

جب ميں نے بلاگ بنايا تو اس وقت مجھے يہی تھا کہ ميرے بلاگ پر ايک دو دوستوں کے علاوہ جن کو ميں نے بلاگ کا بتايا تھا ( ويسے وہ دو مہينے بعد چکر لگا ليتے ہيں ) کون آئے گا ۔ ليکن جب ميری پہلی پوسٹ پر ميں نے اسماء مرزا کا تبصرہ ديکھا تو مجھے شوق چرايا ديکھا جائے کہ ميرے بلاگ پر کتنے لوگ اور کدھر کدھر سے آتے ہيں؟ تب ميں نے ايک ميٹر اپنے بلاگ پر لگا ديا اگر کسی کو ياد ہو تو کچھ عرصہ ميرے بلاگ پر نظر آتا رہا تھا کہ کتنے لوگوں نے اس بلاگ کو ديکھا ہے مگر ايک دن ميں گھر ميں بيٹھا ہوا تھا ميں نے مشاہدہ کيا کہ اگر ميں کوئي بھی پوسٹ ديکھوں تو اسکے ساتھ ميٹر پر ايک عدد کا اضافہ ہو جاتا تھا اور اگر صحفے کو Refresh کيا جائے تب بھی ايک ہندسے کا اضافہ ہو جاتا تھا ۔ يہ سب جاننے سے پہلے ميں بڑا خوش ہوتا تھا کہ ميرے بلاگ پر بڑے لوگ آ رہے ہيں جبکہ اس ميں سے ٨٠ فی صد ميں خود ہی ہوتا تھا مطلب کوئی ايک گھنٹے ميں جاب سے واپس آ کر ميں ١٠٠ دفعہ سے زيادہ خود ہی بلاگ ديکھتا تھا جو کہ حالت ابھی بھی يہی ہے مطلب مجھے بلاگ کی بيماری لگ گئی ہے يا ميری والدہ کے بقول اس ڈبے(کمپيوٹر) نے مجھے سب کچھ بھلا ديا ہوا ہے۔ تب ميں نے سوچا يہ تو دھوکا ہی ہے کہ کتنے لوگوں نے بلاگ کو ديکھا ہے تب ميں نے قدير کے بقول کسی بندے دے پُتر والے شماريات بتانے والے ميٹر کی تلاش شروع کر دی اور اب اسکے بعد موجودہ ميٹر Adfree stats ڈھونڈنے ميں کامياب ھو گيا اور ابھی تک ميں اس سے بہت مطمعن ہوں اسکی بہت سی وجوہات ہيں سب سے بڑی وجہ کہ ايک پڑھنے والے کو ٢٤ گھنٹے ميں چاہے وہ کتنی بار ہی کيوں نا آئے صرف ايک بار شمار کرتا ہے۔ دوسرا کون کہاں سے آيا کتنی دير ٹھہرا اور کون کون سے ربط پر گيا اور واپس جاتے ہوئے کس ربط پر گيا۔ اگر کسی سرچ انجن سے آيا سے تو کونسے الفاظ کی تلاش کر رہا تھا وغيرہ وغيرہ۔
مگر اب بلاگ کے ساتھ ساتھ ميرا دوسرا شغل شروع ہو گيا کہ لوگ کيسے ميرے بلاگ پر آ رہے ہيں کتنی دير ٹھہر رہے ہيں۔ بعض اوقات لوگ ايسے ايسے الفاظ تلاش کرتے آ جاتے ہيں کہ بتاتے بھی شرم آتی ہے۔ اب آج ہی ايک بھائی گوجرانولہ سے بذريعہ گوگل ميرے بلاگ پر پہنچ گئے اب ميں صرف ان کو يہی کہوں گا يار کچھ شرم کرو روزے ہيں اور آپ کيا کيا تلاش کرتے پھر رہے ہو؟ کہيں آپ يہ تو نہيں سمجھ رہے نا کہ اس سب کا شايد کوئی مقصد ہے؟ اگر ايسا سمجھ رہے ہيں تو اس پوسٹ کا مقصد کچہ نہيں بس ايويں لکھے جا رہا ہوں۔ ہاں تو جب سے ميں اس ميٹر کی تنصيب کی ہے تب سے سب سے زيادہ لوگ ستمبر کے مہينے ميں آئے ہيں جن کی تعداد ٨٢٨ تھی، ان سب کے آنے کا ذريعہ ايک ياہو کا گروپ تھا جس کا نام gof تھا جب ميں نے اتنے لوگوں کو وہاں سے آتے ديکھا تو ميں نے سوچا چلو ديکھا جائے کہ آخر ميری کونسی تحرير کو اس گروپ ميں ارسال کيا گيا ہے جو دھڑادھڑ لوگ آئے جا رہے ہيں خير جب ميں نے گروپ کا صحفہ کھولا اور تو پتا چلا شموليت کے بغير پيغامات نہيں ديکھ سکتا مجھے شوق ہی اتنا تھا جھٹ سے شموليت کی عرضی دے ڈالی مگر ميری قسمت کہ گروپ ناظم کا ای ميل آيا کہ گروپ ميں شموليت کے لئے fast universty سے فارغ التحصيل ہونا شرط ہے نا صرف يہ بلکہ اپنا تعليمی سال اور طالب علم نمبر بھيجا جائے ميں نے فورا ايک جعلی نمبر کا تکہ مارا مگر ہائے ری قسمت وہ غلط نکلا اور ميری درخواست رد کر دی گئی اور ميں اپنی تحرير ديکھنے سے محروم رہ گيا۔ يہ بھی بھلا کوئی بات ہوئی۔
اب اسکے بعد ميں نے اپنے بلاگ کا پتا بدل ديا جس کا بڑا نقصان ہوا ہے اس مہينے کہ آنے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ پڑھنے والوں کی تعداد بھی کم ہو کے پچھلے مہينوں سے آدھی رہ گئی مگر گذشتہ دو دنوں سے دوبارہ سے ياہو کے ايک گروپ کی وجہ سے لوگوں کا تانتا بندھا ہے۔ مگر اس بار ايک نئی مصيبت آڑے آ رہی ہے کہ سب لوگ براہ راست اپنے ای ميل سے آ رہے ہيں اور مجھے گروپ کا نام تک بھی پتا نہيں چل پا رہا ہے۔ دوسرا RSS پر ميرے بلاگ کے پڑھنے کی تعداد بڑھی ہے ان ميں ايک کا مجھے پتا ہے کہ وہ تو شعيب صفدر ہيں۔ کيونکہ غالبا وہ Great News کا استعمال کرتے ہيں۔ ليکن RSS کے استعمال سے ميرے ميٹر پر آنے والوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ ويسے مجھے حيرانی اس بات کی ہے کہ اردو بلاگ کے زيادہ پڑھنے والے مطلب اس پر زيادہ دير ٹھہرنے والے يورپ يا امريکہ سے زيادہ تعداد ميں ہيں پاکستان سے زيادہ تر لوگ آتے ہی بھاگ جاتے ہيں شائد پاکستان ميں لوگ اردو پڑھنا ہی نا چاہتے ہوں اور بيرون ممالک رہنے والے ڈھونڈتے ہی اردو سائٹ ہيں۔ ابھی ميرا خيال ہے ميں بس کروں باقی باتيں بعد ميں
پڑھنے کا شکريہ
فی امان اللہ

تبصرہ جات

“پڑھنے والوں کا پتہ” پر 15 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Jawwad says:

    میرابھی کچھ ایسا ہی experienceہے پاکستان میں رہنے والوں سے زیادہ باہر رہنے والے پاکستانی اردو سائٹ زیادہ شوق سے پڑھتے ہے

  2. بدتمیز says:

    hi
    cud u plz tell me the URL of the statistic service u r usin? actually i want to compare it with the one i m usin ie http://www.statcounter.com
    thanks 🙂

  3. سا ئر ہ عنبر ین says:

    lolz…uff itni jasoosi karty ho tum :@

    or fazool main itni lambi post likh dali 😛

  4. جہانزيب says:

    جواد پہلے ميرا بہی صرف خيال تھا مگر اب پختہ يقين ہے کہ بيرون ملک رہنے والے زيادہ شوق سے پڑھتے ہيں۔
    بدتميز ميں نے پوسٹ ميں لنک شامل کر ديا ہے۔ يہاں بھی لکہ ديتا ہوں Addfree stats.
    سائرہ تم جاگ رہی ہو اس وقت تک صبح جاب پر نہيں جانا ہے کيا؟

  5. منیراحمدطاہر says:

    سچی بات یہی ہے آپ اردو کی کوئی بھی سائٹ چیک کر لیں اس کے سب سے زیادہ وزٹر امریکہ کینڈا یورپ وغیرہ کے ہی ہوں گے ۔ اس پر اردو بلاگرز کو سوچنا چاہیے کہ آخر کیا عوامل ہو سکتے ہیں کہ پاکستانی اردو سائٹ کی طرف نہیں آتے۔

  6. bdtmz says:

    thanks 🙂

  7. Noumaan says:

    میں سائٹ میٹر استعمال کرتا ہوں۔ لیکن میرا بلاگ ابھی کم سن ہے اس لئیے کہہ نہیں سکتا کی یہ سروس اچھی ہے یا نہیں۔ اس میں آئی ہی ایڈریس، لوکیشن، ریفرر، براؤسر وغیرہ سب دیکھا جاسکتا ہے۔

  8. Abdul Qadir says:

    Those are good features, I have signed up!

    Bhai you could put redirection in the previous blog.

  9. Hypocrisy Thy Name says:

    میں نے سائیٹ میٹر نصب کیا ہوا ہے ۔ اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جن کا ذکر آپ نے کیا ہے ۔ نصب کرتے ہوۓ دھیان رکھنا پڑتا ہے ۔
    اسی ماہ کچھ ای میلز موصول ہونے پر میں نے پڑھنے والوں کے لنک دیکھے تو حیران رہ گیا کہ قارئین میں غالب اکثریت پاک و ہند سے باہر بسنے والوں کی ہے اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو آدھا گھنٹہ میرے بلاگ پر موجود رہے ۔ ان میں امریکہ ۔ کینڈا ۔ فرانس ۔ سپین ۔ جرمنی ۔ برطانیہ ۔ مصر ۔ سعودی عرب ۔ یو اے ای ۔ کویت ۔ ترکی ۔ ایران ۔ فلسطین ۔ ہانگ کانگ ۔ سنگاپور ۔ آسٹریلیا وغیرہ کے لوگ شامل ہیں ۔ میں نے اپنے پہلے بلاگ کی ایک امریکن قاری سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسے اردو بالکل نہیں آتی ۔ چنانچہ میں نے اپنے پہلے بلاگ پر پھر سے انگریزی لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دوسرا بلاگ اردو میں رہے گا ۔

  10. شعیب صفدر says:

    یہ بات تو آپ کی درست ہے کہ میں آپ کا بلاگ آرآرایس فیڈ کی مدد سے پڑھتا ہو۔۔۔دوسرا تحریر خود بھی کہتی ہے کہ مجھے پڑھو۔۔۔۔یعنی اچھی ہوتی ہے۔۔۔۔باقی اردو سائیٹ کے پڑھنے کی بات ہے جہاں تک تو میرا خیال ہے ملک کے اندر اور باہر جو اچھی اردو کی سائیٹ ہے وہ کافی تعداد میں لوگ پڑھتے ہیں اس میں یہ قید نہیں کہ کون کہاں رہتا ہے ۔۔۔ہاں مگر یونیکوڈ اردو کی سائیٹ کے وزیٹر کم ہیں اس کی وجہ اس کا ونڈو 98 سے ناراض رہنا اور دوسرا ان احباب کا اردو فونٹ ڈاون لوڈ کرنے سے اجتناب پرتنا ہے۔۔۔۔

  11. Anonymous says:

    Hey yara kia baat hey me too call ker ke tukh cukha hoon koi jawab nahee ata messag bhe buhet drop kie hey kher hey na??

    Ager furset ho to call ker le or nahee to yaheen per lega de ke kia kia jae baat kerne koo

    Mera introduction to yeh hey ke jo office se wapis aa ker tujh ko uttha ta hota tha 🙂 the one with whom u spent the best time of your life in KHI I hope you remember me now…

  12. Asma says:

    Assalamoalaykum w.w.!!!

    🙂

    Well, actually yes pakistani readers are lesser but the problem is when u seek through ur site meters for the traffic … most of the ispS IN PAKISTAN SOMEHOW USE THe bandwidth shares of international providers as there in china, hong kong …and at various places .. so click using a pk isp … go for isp trackers and u’ll see an international addition … !

    thats the whole prob 🙂

    Allahafiz

  13. Zeeast says:

    hahahaha..well jahanzaib..aap ke blog pe pir koi bhoola bhetke aa tu jate hein….
    mere blog ka tu jin ko maloom hai woo hi nahi aate…:(
    aut Pakistan se kia mein kafi nahi houn…aap se urdu seekne ke liye….:p

    aur haan Asma ki baat sahee aap ISP ke through check kersakte hein….
    waise mujh aap really buhaat farigh lagg ra hai hein….kia kia gham paal liye hein….:D

  14. Zeeast says:

    aur haan Fast ki registration number mujh se mang lene te na..
    mere kafi janne walle wahaan Zer-e-taleem hein…:D

  15. تحریم says:

    مجھے بتا سکتے ہیں کہ بلاگ فیڈ کا پتہ کی چیز ہے؟

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔