انٹرويو ميمی

Thursday,7 April 2005
از :  
زمرات : میری زندگی

پہلا معمول کا لیکن اہمیت کا حامل سوال آپ کے اپنے بارے میں ہے۔ آپ ہمیں اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر سے آگاہ کریں

۔
ميرا نام جہانزيب اشرف ہے تعلق پاکستان کے شہر سرگودھا سے ہے۔ابتدائی تعليم اپنے گاوں سے اور پھر ہائی سکول اور کالج کی تعليم سرگودھا شہر سے مکمل کی اور اسکے بعد ميرين اکيڈمی کراچی سے ميرين ٹيکنالوجی ميں بی ايس سی کی۔ اب پيشہ ورانہ طور پر تو مجھے اس وقت کسی بحری جہاز کے انجن کو سہی کرنا چاہيے تھا مگر ميری پاسنگ آوٹ کے بعد زندگی نے مکمل طور پر ايک نيا رخ تب لے ليا جب سب گھر والوں کو امريکہ کی شہريت مل گئی اور ہميں امريکہ آنا پڑا۔
اب امريکہ آنے سے پہلے سب کے ذہن ميں ايک ايسا تصور ہوتا ہے کہ وہان جاتے ہی سب کچہ ہو جاتا ہے۔ ايسا ہی تصور ميرے ذہن ميں تھا کہ يہاں آکر فورا ہی کسی جہاز پر چلا جاوں گا مگر اسکے ليے پہلے امريکن کوسٹ گارڈ کا لائسنس ہونا چاہيے اور جس کے ليے امريکن پاسپورٹ ہونا چاہيے[جو انشااللہ ٣-٤ ماہ ميں مل جائے گا] خير اب اس وقت تک کچھ نا کچھ تو کرنا تھا زندگی کے پہيے کو رواں رکھنے کے ليے تو يہاں آتے ہی شروع ميں ايک جاب مل گئی اور اسی ميں ابھی تک لگا ہوا ہوں مگر اس جاب کو ميں پيشہ ورانہ نہيں کہہ سکتا ۔

آپ کی نظر میں مستقبل میں اردو بلاگنگ کا مستقبل کیا ہے اور یہ لوگوں کی رائے پر کس حد تک اثر انداز ہوگی؟

ہممم يہ ايک آسان اور کسی حد تک مشکل سوال ہے۔ آسان اس ليے کہ جب سے مجھے اردو بلاگر کا پتہ چلا ہے اور ان کا آگے بڑھنے کا انداز اور اردو وکی تو مستقبل روشن نظر آتا ہے مگر اس کے ليے ہم سب اردو ميں بلاگنگ کرنے والوں کو اپنے بلاگز کو مختلف ويب ڈائرکٹريز ميں جہاں زيادہ اردو کے قارئين اتے ہيں ميں شامل کرنا ہو گا اور جب اگر دس لوگ ديکھيں گے تو ان ميں شايد ايک خود بھی اپنا بلاگ شروغ کر لے اور جہاں تک اثر انداز ہونے والی بات ہے تو اگر بات ميں يا زورِ کلام ميں اثر ہے تو وہ ضرور متاثر کرتی ہے بات جبکہ دلائل سے کی جائے
اب دوسرا پہلو ہے کہ زيادہ تر اردو بلاگ کے قاری پاکستان سے ہيں جہاں يہ روش چل نکلی ہے کہ لوگ اس بات کو جديديت کا نام ديتے ہيں کہ وہ صرف انگريزی پڑھنا جانتے ہيں اور اردو پڑھنا نہيں آتی۔[ ميرے دوست کی ابھی حال ميں ہی شادی ہوئی ہے اور بھابھی بھی اردو پڑھنا نہيں جانتی ہيں اور فخر کرتی ہيں ] اور اگر يہی خال ہوا تو اردو کا رسم الخط بدل کر ہی اردو سمجھائی جا سکے گی ويسے اپنی زبان کو بھلانا کس قسم کی ترقی ہے يہ مجھے سمجھ نہيں آ سکا۔

اگر آپ کو پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو آپ ملک کی بھلائی کے لیے سب سے پہلے کیا کام کریں گے؟

[آپکے آخری تين سوال پڑھ کر مجھے لگتا ہے کہ آپکو مجھ پر کسی سياست دان کا شبہ ہے]
ہممہمممممم سب سے بڑا مسلہ جو ميرے خيال ميں ہے وہ ہے تعليم کا اور باقی سب مسائل اسی ايک مسلے سے جڑے ہوئے ہيں مگر ہميں ايک تاءثر جو بن چکا ہے کہ اچھی نوکری کے ليے تعليم خاصل کرنا ہوتی ہے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے شہروں ميں رہنے والوں کو شايد اتنا معلوم نہيں ہو اور ماشااللہ اب شہروں ميں تعليم حاصل کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے مگر وہاں بھی مقصد يہی ہوتا ہے کہ اچھی نوکری کے ليے پڑھ رہے ہيں۔ اور اس سے ميرے خيال ميں نقصان ہی ہو رہا ہے جب آب کسی گاوں کے رہنے والے کو کہيں کہ بچوں کو سکول بھيجو تو انکا جواب ہو گا پڑھ لکھ کر بھی تو يہی کرنا ہے تو فائدہ کيا ہے کہنے کا مطلب يہ ہے لوگ تعليم کو ايک کاروبار کی طرح سمجھتے ہيں جو بعد ميں مادی فائدہ دے باقی ہمارے ملک کے جتنے مسائل ہيں اسی ايک مسلہ کی وجہ سے ہيں چاہے وہ کوئی عامل ہو جو اولاد دلانے کے بہانے لوٹے يا کوئی اسمبلی ممبر ہو يا بيوروکريٹ جو کاغذوں ميں آپ کو مار دے۔ تو سب سے پہلے ہائی سکول تک کی تعليم سب پر لازم کروں گا جب آب خود کو پہچانو گے تو اپنے ساتھ ہونے والی زيادتی کو بعد ميں پہچانيں گے۔

آپ کی نظر میں اسلامی دنیا کو عصر حاضر میں کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

سب سے بڑا چيلينج ميری نظر ميں جو ہے کسی قيادت کا نا ہونا ہے ہميں پوری اسلامی دنيا ميں کوئی ايک بھی ايسا رہنما نہيں ملتا ہے جو ڈنکے کی چوٹ پر غلط کو غلط کہہ سکے اور کوئی سہی قدم لے سکے سوا ايک ڈاکٹر مہاتر محمد کے۔ ہميں بہت سے مسائل ايسے ہيں جن پر انفرادی کی بجائے اجتماعی فيصلے لينا چاہيے ہيں اسلامی ممالک کو خاص طور پر جو مذہب سے وابسطہ ہوں۔
دوسرا مسلہ ہے اسلام اور مسلمانوں کو جديد کرنا آج سے دو سال پہلے نيويارک کے مير جناب مائيکل بلومبرگ نے اسلامی سکولوں کو کہا تھا کہ وہ اپنے نصاب سے وہ آيات ختم کريں جن ميں جہاد کا کہا ہے يا اِن يہود و انصار کو برا کہا گيا ہے جنہوں نے پيغبروں کی بے حرمتی کی تھی تو پوری اسلامی دنيا ميں سے کسی نے کوئی اقدامات کيے تھے اور سب کچھ يہاں کی مسلمان کيميونٹی کو کرنا پڑا تھا باوجود اس کے کہ نيو يارک ميں اقوام متحدہ کا دفتر ہے جہاں سب اسلامی ممالک کے نمائندے ہر وقت موجود ہوتے ہيں۔

امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں مذہبی عنصر نے اہم کردار ادا کیا۔ کیا امریکہ میں مذہبی انتہا پسندوں کے زور پکڑنے کا امکان ہے؟

نہيں جی ميرا نہيں خيال کہ امريکہ ميں کوئی مذہبی انتہا پسندی ہے ميرا کہنے کا مطلب يہ ہے جسے آج دنيا انتہا پسندی کہتی ہے ويسا کچھ ہونے کا امکان نہيں ہے۔
اور بہت سے واقعات ايسے بھی ہيں جيسے کہ دو ماہ پہلے نيو يارک ميں عدالت نے ايک فيصلے کے تحت ہم جنسوں کی شادی کو صحيح قرار ديا مگر اگلے ہی دن ميئر نے کہا کہ وہ اس فيصلے کو دوبارہ عدالت ميں لے جائيں گے تو اس بيان کے بعد لوگوں نے احتجاج کيا کہ ميئر کو ايسا نہيں کرنا چاہيے وغيرہ وغيرہ تو انتہا پسندی والی بات کم از کم نيو يارک ميں تو نہيں ہے۔ جنوبی رياستوں ميں کسی حد تک آب کہہ سکتے ہيں مگر اسے بھی انتہا پسندی کی بجائے مذہب پسندی ہی کہا جائے گا ويسے ذاتی خيال ميں امريکہ ميں جو دو جماعتيں ہيں انکا ووٹ ايک تو پکا ہے اس ميں جو فرق پڑتا ہے وہ اميدوار پر زيادہ انحصار کرتا ہے۔

اگر کسی صاحب يا صاحبہ کو اپنا انٹرويو کروانا ہے تو تبصرے ميں لکھ ديں ميں ان سے ٥ سوال پوچھوں گا جن کا جواب وہ اپنے بلاگ پر ديں گے اور اس ميں دوسروں کو بھی دعوت ديں گے انٹرويو کی اور اگر کوئی حامی بھر لے تو اس سے ٥ سوال بھی کريں گے

تبصرہ جات

“انٹرويو ميمی” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Xeesh says:

    Yeh interview lainai wale sahab kon the bhai :D. but jawab buhat hee achhai andaz main diye gae hain. Weldone

  2. سا ئر ہ عنبر ین says:

    کوئی سے پانچ سوالات کے جوابات دیں۔ ہاہاہا

    مجھ کو کمرہ امتحان یاد آگیا۔ خیر جہانزیب نے اچھاا پرچہ حل کیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے۔

    😛

  3. Anonymous says:

    xeeshh bhai interview lainay walay BBC k ,lerry king thea….aur Mr bond nai bhari kabaleayat kay saath juwab diya…lakin afsoos mujhay samjh nahi aayi….urdufont…haye haye..meri kab souni jaye gee…???hehe

  4. Anonymous says:

    oh sorry,apna taruff karna tu bhol gayi…bandii ko…Miss Mughal kahtay hain*

  5. Xeesh says:

    :rolling; Miss Mughal aap ka bhi koi haal nahi hai aap abhi tak Farsee likhtee perhtee hain kiya :p

  6. Anonymous says:

    nahi ji…weo kiya hai k humray PC mai urdufont download nahi hai…aur hum baas Aahay bar sanktay hain….haye haye…ek shair yaad aa giya.

    weo computer ko dhaikh kar tha,ndi ahay bharti hai tuhanday naloo tay changiii hai kuch na kuch tu karty hai…hehe

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔