پرديس ميں رہنے کا دکھ

Monday,8 August 2005
از :  
زمرات : پاکستان, میری زندگی, امریکہ

پرديس ميں رہنے کا سب سے بڑا دکھ يھی ہے کہ آپ اپنوں کی خوشيوں اور دکھ ميں شريک نہيں ہو سکتے ہيں۔ حوشياں مانڈ پڑ جاتی ہيں اور دکھ دگنا ہو جاتا ہے۔ ايسے حالات ميں انسان اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے کہ ايسی کوئی صورت نظر نہيں آتی جس سے پلک جھپکتے اپنوں کے بيچ ميں پہنچا جا سکے۔
ميرے چچا کی موت ہم سب گھر والوں کے لئے ايک ناگہانی آفت کی طرح تھی۔ايک ايسا شخص جسے بظاہر کوئی بيماری نا ہو جو زندگی کو ايک بھر پور طريقے سے گزار رہا ہو جب آپ اس شخص کے بارے ميں ايسا سنيں تو آپ کو يقين نہيں آتا۔ايسی ہی حالت ہماری تھی کہ جيسے يہ سب جھوٹ ہے کسی نے مذاق کيا ہے۔ مگر يہ سب سچ تھا ايسا سچ جس کو ماننے کے لئے کوئی تيار نہيں تھا۔ ابھی ايک دن پہلے ہی تو ہماری بات ہوئی تھی اور ان سے ہم اليکشن کی صورتحال کا پوچھ رہے تھے۔ اور وہ بہت خوشی سے بتا رہے تھے کہ ہماری پوزيشن بہت مضبوط ہے۔
ايک ايسا شخص جس کی تصاوير سے بھرے اشتہارات پورے علاقے ميں لگے ہوں اور وہ ہی ہم ميں موجود نا رہے تو گھر والوں کی حالت کيا ہو گی جب وہ ہر طرف اسکی مسکراتی تصاوير والے استہارات ديکھتے ہوں گے۔ اور ابھی انکی عمر ہی کيا تھی ٤٢ سال۔ ميرے دادا کے انتقال کے بعد جب سب بڑے بھائيوں نے اپنی علاقائی سياست سے بلا اعلانيہ ترقِ تعلق کر ليا تو گھر والوں کی لاکھ اعتراضات کے باوجود ميرے دونوں چھوٹے چچا نے سنبھال ليا۔ اور آج دونوں ہی ہم ميں موجود نہيں ہيں۔ دو سال کے مختصر عرصے ميں دونوں ہی ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے۔
رشتے ميں تو يہ ہمارے چچا تھے ليکن ہم ميں ايسا کوئی جنريشن گيپ نہيں تھا ہم دوستوں کی طرح ان سے دل کی سب باتيں کر ليتے تھے ۔جبکہ ہمارے دوسرے چچاؤں کے سامنے ہم بول بھی نہيں سکتے تھے۔
وفات والے دن بھی وہ معمول کے مطابق اٹھے فجر کی نماز ادا کر کے ميرے تايا سے کہا کہ انکی طبيعت رات سے بے چين ہے شايد فوڈ پوائيزننگ ہو گئی ہے اسکے بعد نہا کر تيار ہو کر اپنی اليکشن مہم پر دوسرے گاؤں چلے گئے وہاں سے سرگودھا ڈاکٹر کے پاس چلے گئے وہاں ڈاکٹر کے پاس ہی دل کا دورہ پڑا اور جان جانِ آفريں کے سپرد کر دی۔ انا للھ و انا اليہ راجعون۔
ميرے يہ چچا ان لوگوں ميں شامل تھے جن کو ميں نے اپنی زندگی ميں بہترين انسان جانا ہے۔ ہر کسی کے کام آنے والے دوسروں کے لئے اپنے کاموں کو پسِ پشت ڈالنے والے۔ پنج وقتہ نمازی، اللہ سے ڈرنے والے۔ اللہ پاک انکو جنتِ فردوس ميں جگہ عطا فرمائے اور کروٹ کروٹ سکون عطاء کرے۔
ميں انکل افتخار اجمل اور تمام ساتھی بلاگرز کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنی نيک خواہشات کا اظہار کيا ہے۔

تبصرہ جات

“پرديس ميں رہنے کا دکھ” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    oho…jahan buhat afsoos hova…iuss tara achnak kisi ka chalay jana…buhat bhara sadma hota hai..Allah tum ko aur tumhari family ko sabar atta farmaye…Ameen

    misbah 

    Posted Anonymous

  2. Anonymous says:

    Assalamao alaykum w.w!

    It was good to read about such a beuatiful personality … and it’s really hard to go through the sudden death of such a person.

    But hope Allah would bless him with eternal peace.. and may it be easy for all his closer ones. Ameen! 

    Posted Asma

  3. Anonymous says:

    افسوسناک پوسٹ ۔ 

    Posted Shuaib

  4. Anonymous says:

    السلام علیکم
    آپ کے چچا کے متعلق تفصیل جاننے کے لئے میں دوبار پہلے بھی اس سائٹ پر آیا اور سب پڑھا لیکن لکھنے کے لئے موزوں الفاظ دماغ میں نہ آئے ۔ انسان پیٹ کی خاطر تعلیم کے لئے یا کمانے کے لئے پردیس چلا جاتا ہے مگر پردیس بہت بری چیز ہے ۔ بعض اوقات انسان بے بس ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعلی لواحقین کو صبر جمیل اور قوت عمل عطا فرمائے آمین ۔
    تفصیل پڑھ کر میں نے اپنی بیوی سے ذکر کیا تو وہ کہنے لگی یہ تو ڈان اخبار میں نے پڑھا ہے ۔
     

    Posted افتخار اجمل بھوپال

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔