آج رات کے ٢ بجے گھڑياں يہاں ايک گھنٹہ آگے کر دی جائيں گی اور ہم مفت ميں ايک گھنٹہ آگے نکل جائيں گے ۔ خير يہ دن کی روشنی سے زيادہ سے زيادہ استفادہ حاصل کرنے کے ليے کيا جاتا ہے مگر مجھے اس سے وابستہ ايک واقع ياد آ گيا ہے تو سوچا کيوں نا وہی لکھ ديا جائے آج۔
جب آج سے تقريبا دو سال پہلے پاکستان ميں پہلی بار دن کی روشنی سے استفادہ کے ليے وقت تبديل کيا گيا تو ميں نے اپنے ايک چچا زاد کو فون کيا اور باتوں ميں اس سے وقت پوچھ بيٹھا تو وہ کہنے لگا پرانے وقت کے مطابق يہ وقت ہے اور نئے وقت کے مطابق يہ۔
ميں نے پوچھا يہ کيا جو وقت ابھی ہے وہی بتانا چاہيے نا تو کہتا ہے تم کدھر رہتے ہو يہاں جس سے وقت پوچھو گے اسی طرح بتائے گا۔
اس سے ايک اور واقع ياد آ گيا ہمارے گاوں ميں ايک دفعہ ايک بزرگ کہنے لگے کہ جی بھٹو نے پکڑ کر فاصلے ہی بڑھا ديے ہيں [ياد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان ميں فاصلہ ميلوں ميں ناپا جاتا تھا جس کو بھٹو صاحب کر دور ميں عالمی معيار کے مطابق کلوميٹر ميں تبديل کر ديا گيا تھا]
ابھی اجازت
فی امان اللہ
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





اتوار,3 اپريل 2005
hahahaha Bhutto sahab kee baat buhat hee funny hai waisai 1 hour aagai chalai gae ho na koi baat nahi Oct main phir peechai aa jao ge :p
پير,4 اپريل 2005
Oh ic
پير,4 اپريل 2005
مطلب ایک گھنٹہ جو تم میرا دماغ کھاتے تھے اس سے اب میری جان چھوٹ گئی۔
منگل,5 اپريل 2005
خوب ! ہمارے بھی ایک جاننے والے تھے انھوں نے تو گھڑی کا وقت آگے ہی نہ کیا تھا ،جب بھی کوئی ان سے وقت پوچھتا وہ وقت بتانے کے ساتھ ہی اسے یہ اطلاع بھی باہم بھی دیتے کہ بھائی میں نے اپنی کھڑی کا وقت تبدیل نہیں کیا۔
ساتھ ہی ایک بات اور نوٹ طلب ہے کہ ہمارے یہاں عام لوگ جب دودھ کی دوکان پر جاتے ہیں تو دوکاندار سے ایک کہتے ہیں کی ایک کلو دودھ دینا جبکہ دودھ لیٹر کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔۔۔