کہيں فرقے ہيں تو کہيں ذاتيں ہيں

Friday,18 February 2005
از :  
زمرات : پاکستان, میری زندگی

آج مختلف اردو بلاگز پڑھ رہا تھا تو ايک بلاگ پر ايک صاحب کی تحرير آنکھوں کے سامنے سے گزری جِس ميں اُنہوں نے اپنے دِل کی بھڑاس خوب نکالی ہے اُن کی تحرير مندرجہ ذيل ہے۔

جاٹ كے لغوى معنى ەيں گنوار يا غير تەذيب يافته !جاٹوں كىكىء گوتيں اور قبيلے ەيں وارث شاه صاحب نے ەير ميں جاٹوں كي تقريبا ٥٠ گوتوں كا ذكر كيا ەے!! گجر اور آرايں لوگوں كو جاٹ خود ميں شامل نەيں كرتے! يه لوگ انتەاىء تعصب كرنے والے مغرور ەوتے ەيں!! تعليم ان كا كچه بهى نەيں بگاڑ سكتى! ەنر مند لوگوں سے حقارت كا سلوك كرتے ەيں اور ان كو كمى اور كمينە كه كر پكارتے ەيں خود سے طاقتور كے سامنے انتەاىء فرمانبردار اور كمزور پر ظلم كرنے والے ەوتے ەيں زمانه جەاليت كے عربوں كى طرح سالەاسال دشمنياں پالتے رەتے ەيں! قاتل اور اشتەارى رشته دار باعث فخر ەوتا ەے پاكستان ميں ان كى اكثريت ەونے كى وجه سےبەت سے ەنر مند لوگ دوسرے ملكوں كو ەجرت كر گيے ەيں بے ەنر جاٹوں كے زير انتظام ملك پاكستان كے كاروبارى حالات اتنے خراب ەو چكے ەيں كه اب جاٹوں كے لڑكے يورپ ميں موچى نائ اور راج مزدور لوگوں كى كام كے ليےء منتيں كرتے ەوے نظر آتے ەيں

تو سب سے پہلے تو پتہ نہيں کِس لُغت سے اُنہوں نے جاٹ کا لفظی ترجمہ کر کے لِکھا ہے۔ شايد يہ لُغت اُن کے گھر ميں ہی دستياب ہو۔ اور اگر کِسی ايک جاٹ نے اُن کے ساتھ کچھ بُرا کيا ہے تو سب کو لپيٹ لينا اُن کا تعليم اور علم سے اُن کا تعلق ظاہر کرتا ہے کہ پڑھ لِکھ کر اگر واقعی ايسا ہے تو ضائع ہی کيا ہے۔

اور دُوسرا اہم مسٔلہ جِس کی نشاندہی آپ نے کی ہے کہ پاکستان کی ترقی ميں رکاوٹ ہيں تو وہ جاٹ ہيں تو حيرت کی بات ہے کہ اِس اہم مسٔلے پر کسی کی نظر کيوں نہیں پڑی؟ آپ اِس طرح کريں کہ يہ تجويز حکومتِ پاکستان کو ارصال کر ديں تا کہ آپ کا نام مُلک کی خدمت کرنے والوں ميں شامل کيا جا سکے اور آپکے غموں کا کچھ تو مداوا ہو۔

خير جی يہ تو تھا مذاق۔ ليکن افسوس کی بات ہے کہ آج کی دُنيا جو ذاتيات کو ايک طرف ڈال کر ترقی کی راہوں پر رواں دواں ہے وہاں وطنِ عزيز ميں اب بھی سب سے زيادہ ذاتيات کو اہميت دی جاتی ہے۔ ايک دوسرے کو نيچا دکھانے ميں اپنا وقت اور توانایٔ کا ضياع کيا جاتا ہے۔ بہت سے اھل لوگوں کو پيچھے دھکيل دِيا جاتا ہے۔ ہم ابھی تک ايک قوم کے سائچے ميں نہيں ڈھل سکے۔ مسلمان تو کيا پنجابی، سندھی، سرائکی، بلوچی، پٹھان سے ايک پاکستانی قوم ميں نہيں ڈھل سکے۔ تو دشمن کيوں نہيں کہے گا کہ دو قومی نظريہ کچھ نہيں۔ اِس سے بڑی بدقسمتی
کسی مُلک کی کيا ہو گی جہاں اجتماعی سوچ کی بجاۓ ذاتی مفادات کو ترجيح دی جاتی ہو

اِسی سوچ کی وجہ سے بہت سے قومی مفاد کے منصوبے سالوں سے کٹھایٔ ميں پڑے ہيں جو صرف اور صرف اِس تعصباتی سياست کا شکار ہو رہے ہيں۔ اور افسوس کی بات يہ ہے کہ جو لوگ يہ سياست کر رہے ہيں اُن کا تو فائدہ ہی فائدہ ہے اور پِس رہے ہيں عوام الناس۔
آللہ ہم پر اور ہمارے ملک پر رحم کرے اور ہميں سمجھ عطا کرے کہ ہم ملکی مفاد ميں سوچنا شروع کريں

فی امان اللہ

تبصرہ جات

“کہيں فرقے ہيں تو کہيں ذاتيں ہيں” پر 5 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    Aaj ki is modern dunya main rahny kai baqajood hamary watan kai logon ki sooch positive nai ho payee.is sai bari budkismati or kia hogi bhala 🙁

    Behtari ki Umeed karna ya Allah sai is ki dua karna baja hai par in dua’own kai sath sath practically kuch karny ki zaroorat hai.

    @jahanzaib its really a thought provokig article 🙂

    Good Luck!!

    S a i r a

  2. Anonymous says:

    saira is absolutely right mujhey ye article perhtay hoye allama iqbal kay wo ishar bohet yad aye
    kahin firqay hein tu kahin zatein he
    kia zamanay mein panapnay ki yahi batein hein
    wo zamanay mein moazez thay musalmaan hoker
    aur hum khuar hoye tarik-e-Quran ho ker

    very nice n thought provoking message
    keep it up
    have a nice day
    farva

  3. Nabeel says:

    ڈیر جہانزیب

    یہ کس قسم کے بلاگ مل گئے ہیں تمہیں۔ طبیعیت خراب ہو گئی ہے پڑھ کر۔ کیا یہ بلاگ اردو میں تھا؟ زمانہ کہاں پہنچ گیا ہے اور ہم لوگ ابھی تک ذاتوں اور فرقوں کے چکر سے ہی نہیں نکلے۔

    بائی دا وے میں نے اپنے بلاگ کی سٹائل شیٹ میں فونٹس کی ترتیب بدل دی ہے۔ اب جس کمپیوٹر پر نفیس فونٹ انسٹالڈ نہیں ہو گا، وہاں یہ ٹاہوما میں ظاہر ہوگا۔

    اللہ حافظ

  4. Abdul Qadir says:

    ارے جہانزیب بھائی یہ تو بتائیں کہ آپ پہلے بلاگر پر نمودار ہوئے ہیں یا میں؟؟ کیونکہ مجھے بھی تقریباً ایک ماہ سے کم عرصہ ہوا ہے بلاگنگ کرتے ہوئے اور آپ کا بلاگ بھی میں نے گوگل کی سرچ میں نہیں دیکھا۔ ویسے آپ کا بلاگ ہے بہت ” پپو ” ۔ یہ یاد رکھیے کہ یہ پپّو کا لفظ میرے نزدیک بہت ہائر رینکنگ میں آتا ہے ۔

    اور یہ تو بتائیے کہ کس نے یہ بیوقوفی کی ہے اور یہ ذات پات کا نظام بلاگ پر متعارف کرایا ہے ۔ وہ صاحب اس معاملے میں عقل سے پیدل معلوم ہوتے ہیں ۔ ویسے میں نے دو تین اردو بلاگ دیکھے ہیں جو شائستگی اور تہذیب سے متنفر معلوم ہوتے ہیں ۔ پہلے تو یہ بالکل ہی غلط بات ہے دوسرے یہ کہ اسے کیا ضرورت پڑی تھی دوسروں کو اپنے علم سے متاثر کرنے کی ۔ وہ صاحب دوسری ذاتوں کے بارے میں تبصرہ فرما چکے ہیں تو انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کوئی جواباً ان کی بھی عزت کر سکتا ہے ۔ مجھے اس موقع پر ایک بہت زبردست بات یاد آئی ہے مگر چونکہ آج میرے پاس کوئی تحریر نہیں ہے اس لیے میں اسے بلاگ پر شائع کروں گا۔ معذرت !!!!

  5. Anonymous says:

    very well said Qadeer bro
    Zeeshan

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔