اچھا تو يہ ہے امريکا

Thursday,10 February 2005
از :  
زمرات : میری زندگی, امریکہ

پرسوں ايک دوست کو لينے نيو جرسی کے اير پورٹ جانا ہوا تو اُسی اير پورٹ سے وابستہ ايک اور واقع ياد آ گيا۔ تين برس پہلے کی بات ہے مجھے اپنے ايک دوست کی اي ميل موصول ہويی کہ اَس کے برادرِ نِسبتی اپنی تعليم کے سلسلے ميں امريکا آ رہے ہيں اور وہاں اُن کا کويی جاننے والا نہيں ہے تو اگر ميں اُن کو اير پورٹ سے اپنے ہاں دو دِن کے ليے لے آؤں۔

تو جناب دوستوں کے کام تو آنا چاہيۓ نا۔ تو ميں بشمول اپنے بھايی کے مقررہ دِن اور وقت پر اير پورٹ پُہنچ گيا۔ اب رات کے گيارہ بج گيے مگر ہمارے مطلوبہ شخص کا کويی پتہ نہيں تھا کہ کہاں رہ گيے ہيں اور اير پورٹ پر ہمارے علاوہ صرف ايک اور صاحب موجود تھے۔ اب ہميں اِنتظار کرتے ہويے تقريبآ تين گھنٹے گزر چکے تھے اور ہميں پہلی دفعہ اِس گانے کا اور گانے والے کی بے قراری کا اندازہ ہوا ” اِنتہا ہو گيی اِنتظار کی” اب وقت کيسے گذارا جاۓ جبکہ اُس وقت وہاں کويیٔ حسين مکھڑا بھی نھيں تھا ۔ تو وقت گزارنے کے ليے ہم نے اُن تيسرے صاحب کے بارے ميں اندازے لگانے شُروع کر ديے کہ وہ پاکِستانی ہيں يا کہ کِسی اور قوميت کے ہيں کيونکہ لاطينی امريکن اور ہم ديسی لوگ کافی حد تک ايک دُوسرے سے مُشابہ ہوتے ہيں۔ تو ميرا بھايیٔ دُور کی کوڑی لايا کہ کہيں ايسا نہ ہو کہ وقار[ہمارا آنے والا مہمان ] آۓ اور اِن صاحب کے ساتھ چلا جاۓ کيونکہ کِسی نے بھی ايک دُوسرے کو نہيں ديکھا تھا۔ مگر ميں نے اِس امکان کو رد کر ديا کہ ميرۓ دوست نے کہا تھا اور کويیٔ جاننے والا نہیں ہے۔

مگر مياں وقار کدھر رہ گيے اُن کا کويیٔ پتا نہيں تھا ۔ تو ہم نے اير پورٹ پہ گھومنا شرؤع کر دِيا ۔ تو ہميں وہاں ايک اور پاکِستانی صاحب مل گيے جو وہاں کام کرتے ہيں اور ہم نے فورآ اُن سے اپنی پريشانی کا ذکر کيا۔ انہوں نے ہميں تسلی دی کہ اميگريشن والوں نے روکا ہو گا کيوں کہ ہمارا مُلک بھی اُن اکيس ممالک ميں شامل ہے جن کے ساتھ خصوصی سلوک کيا جاتا ہے اور يہ کہ وہ ہميں اندر سے پتا کر کے بتاتے ہيں ۔ تھوڑی دير بعد اُنہوں نے آ کر بتايا کے وقار اندر اميگريشن ميں ہيں ہم نے اُن کا شکريہ ادا کيا اور دوبارہ وہی انتظار اور ہم۔

اب اِس کے تھوڑی دير بعد ايک شخص باہر آتا نظر آيا ۔ مگر يہ کيا ۔ وہ تو اُن تيسرے صاحب سے گلے ملنے کے بعد اُن کے ساتھ باہر جانے لگا تو ہميں اندازہ ہوا کے مايوسی کسے کہتے ہيں ۔ کہ ہميں اور انتظار کرنا تھا ۔
مگر ابھی کويیٔ دو منٹ گزرے ہوں گے کہ جو صاحب وہاں اير پورٹ پہ کام کرتے ہيں وہ ہمارے پاس آۓ اور کہا کہ بھايیٔ ميں نے وقار کو روکا ہے وہاں ۔ آيۓ آپ کدھر غائب ہيں؟

خير ہم اُن کے ساتھ چل ديۓ تو ديکھا کہ وہ جو تيسرے صاحب کے ساتھ جا رہے تھے وہ وقار مياں ہی تھے ۔ مجھے ديکھ کہ کہنے لگے آپ جہانزيب ہيں؟ [لوگوں کو نام اور شکل ديکھ کر يقين نہيں آتا کہ ميرا نام جہانزيب ہو سکتا ہے] اِس کے بعد سلام دعا سے فارغ ہويۓ تو پتا چلا کہ اُنہوں نے دوسرے صاحب کو بھی ميری طرح اي ميل کروايیٔ تھی اب يہاں بحث شروع ہو گئ کہ وقار مياں کِس کے ساتھ جائں گے ۔ پريشان مت ہوں بہث يہ تھی کہ تيسرے صاحب چاہتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ جائں اور ہم چاہتے تھے کہ اُن کے ساتھ ۔ تو ميں نے کہا جيسا وقار فيصلہ کرے اور ساتھ کہ دوسرے صاحب نيو جرسی ميں رہتے ہيں اور ميں نيو يارک ميں اور يونيورسٹی نيؤجرسی ميں ہے تو ظاہر ہے وقار نے نيؤ جرسی کا اِنتحاب کيا ۔ اِس مباحثے سے فارغ ہو کر ہم باہر پارکِنگ ميں آۓ تو وقار سر اُٹھا کے کہتا ہے “اچھا تو يہ ہے امريکا

ميں نے کہا نہيں يہ امريکا نہيں ہے کيونکہ جو امريکا ہم سوچ کر يہاں آتے ہيں اصل امريکا اُس سے بُہت مختلف ہے ۔ ابھی آپ نے صرف امريکا کی چکا چوند ديکھی ہے مگر اِس چکا چوند کرتے جگمگاتے امريکہ ميں زندگی کی گاڑی کو چلتا رکھنا کتنا مشکل ہے يہ صرف يہاں رہنے والے ہی جانتے ہيں جن کی پُوری زندگی صرف ہر مہينے کے اخراجات پورے کرنے ميں بسر ہو جاتی ہے ۔ مگر جب آپ کسی اور کو يہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہيں تو آپ پر کويی يقين نہيں کرتا کہ خود تو وہاں ہے ہمیں منع کر رہا ہے ۔ اِس پر بس يہی کہوں گا ” دُور کے ڈھول سُہانے ” کا مطلب امريکہ آ کر سمجھ آ جاتا ہے

فی امان اللہ

تبصرہ جات

“اچھا تو يہ ہے امريکا” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    “اچھا تو يہ ہے امريکا” :rolling;

    Another good sharing 🙂

    sab sai speacial bat jo is blog main hai yeh kai interesting hony kai sath sath is main aik lesson hai. yeh aik aisa lesson hai jis ki reality ko hamara mashra tasleem nai kar pata or hamasiha yehi soochty rahty hain kai shaid america main paisy darkhton par ugty hain :)ya wahan ja kar khusian insan kud kareed sakta hai 🙂 or wo sab kuch paisy hi ko samghty hain 🙂 or zindagi ki asal khusian un kai liee baymainy ho jati hain.

    par asal zindagi to usi khushi ka nam hai jo apno sai insan ko milti hai. is moqy par yeh kahna bilkol baja hoga kai ” rah piya jany tay wah piya jany”

    Wish u Good Luck!!

  2. Anonymous says:

    very nice post…….enjoyed it
    keep it up!
    farva

  3. جہانزيب says:

    @Anonymous hahaha haan aapki baat main aik azafa ker deta hon k logon k dau buhat mazboot nazreay hain aik tau shayad paisay darakhton pay lagtay hain, doosra k yahan maimain larkon k peechay hoti hain ya apnay lafzon main k America main jahaz kisi Air port pay nahi kisi maim k ghar main utarta hai 😀

    @ farva shukriya Farva

  4. Anonymous says:

    America main jahaz kisi Air port pay nahi kisi maim k ghar main utarta hai :rolling;

    by the way tumhara plane kahan utra tha 😛

    Saira

  5. Anonymous says:

    Muahahahaha is ka plane kaalon ke area main utra hai 😀

    Zeeshan

  6. Anonymous says:

    :rolling:

    Or yeh baichara maimoon kai kawab hi daikhta rah gaya 😛

    Saira

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔