٩-١١ کے بعد کا امريکا

Tuesday,15 February 2005
از :  
زمرات : میری زندگی, امریکہ

آج ميں نے اپنی کام سے بيماری کا بہانا کر کے چھٹی کر لی۔ مگر اِس کے بعد وقت گزارنا ايک عذاب بن گيا اب سوچ رہا ہوں چلا جاتا تو اچھا تھا۔ تو اپنے کمرے ميں چھپ کر سگريٹ پيتے ہويے بہت سے خيالات ذہن ميں آنے لگے کہ اُس سے پہلے ميں ايک اخبار پڑھ رہا تھا اور اُس ميں ايک صاحب نے امريکا کے بارے ميں اپنے خيالات کا اِظہار کيا تھا جو کہ ميرے ذاتی خيال ميں ايک سلگتا اور دِلوں کو چھو لينے والا موضوع ہے ہمارے پيارے وطن ميں اور لوگ نا صرف ايسے موضوعات کو دلچسپی سے پڑھتے ہيں بلکے زيادہ پڑہتے ہيں اور اُن کی صحت پہ بہت کم شک کيا جاتا ہے۔ تو ميں نے سوچا کيوں نا ميں بھی اپنے مشاہدات کا بيان کروں آخر يہاں رہتے ہويے مُجھے بھی عرصہ ہو رہا ہے۔

٩-١١ کے پہلے کے امريکا اور اُس کے بعد کے امريکا ميں کيا فرق آيا ہے؟ يہ تحرير ميں ايک پاکِستانی ہونے کے حوالے سے نہيں لکھ رہا بلکے ايک امريکن کی حثيت سے لکھ رہا ہوں۔ انشااللہ پاکستانی کی حثيت سے جلد ايک تحرير لکھوں گا۔

٩-١١ سے پہلے کے امريکا ميں دو طبقاتی گروہ تھے ايک امير طبقہ اور ايک درميانی امير طبقہ ٧٠ٌ لوگ دوسرے گروہ سے تعلق رکھتے ہيں مگر ايک باہر سے ديکھنے والے کو اِن طبقات کا فرق بہت مُشکِل سے پتا چلتا تھا کيونکہ زندگی کی بنيادی ظروريات دونوں کی يکساں تھيں۔ مطلب ايک ارب پتی امريکی جو گاڑی استعمال کرتا تھا وہ ايک درميانے درجے کا امريکی بھی اِستعطاعت رکھتا تھا اور دونوں کے رہنے کے انداذ ميں ١٩-٢٠ کا فرق تھا يہاں ارب پتی امريکی سے مُراد اداکار اور گلوکار نہيں کيونکہ اُن کا رہنۓ کا انداز تو انسانوں سے ہی جدا ہے۔

مگر ٩-١١ کے بعد اِن دونوں طبقات ميں فرق واضع ہونا شروع ہو گيا ہے۔ بُش اِنتظاميہ پر ايک اِلزام يہ بھی ہے کہ اِن کے دور ميں امير امير تر اور غريب کے ليۓ روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہيں۔ اور اب يہ فرق بہت جلدی پہچان ليا جاتا ہے کہ کون کتنے پانی ميں ہے۔ اور ميرے ذاتی خيال ميں يہی سب سے بڑا فرق نظر آتا ہے مجھ کو۔ ايک ايسا فرق جِس کو اگر روکنے کے ليے مُناسب اقدامات نہ کيے گيے تو ہِس کا انجام طبقاتی کشمکش کی صورت ميں ہو گا۔ اور طبقاتی کشمکش کِسی بھی مُعاشرے کے ليے کِتنی خطر ناک ہو سکتی ہے يہ ہم پاکستان ميں رہنے والوں سے بہتر کون جانے گا۔ جہاں ملازمين اپنے روزگار مہيا کرنے والوں کی سب جائز اور نا جائز خواہشوں کو پورا کرنے ميں لگے رہتے ہيں مبادا اُن کا روزگار ہی ہاتھ سے نا جاتا رہۓ

فی امان اللہ

تبصرہ جات

“٩-١١ کے بعد کا امريکا” پر 9 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    Or tulla maro job sai bore tu hona hee tha na :frown;

  2. Nabeel says:

    ڈیر جہانزیب

    میرے بلاگ پر آنے اور اپنے قیمتی مشورے سے نوازنے کا بہت شکریہ۔ تمہارا بلاگ بھی ماشاءاللہ بہت اچھا بنا ہوا ہے۔ تم تو باقاعدہ ایکسپرٹ لگتے ہو۔ اب جہاں تم نے اتنا اچھا اردو بلاگ بنا لیا ہے کیا ہی اچھا ہو اگر تم دوسروں کی بھی اس سلسلے میں رہنمائی کرو۔ تم ہمارے اردو ترویج کے پراجیکٹ سے تو آگاہ ہو گے۔ ہمیں بے حد خوشی ہو گی اگر تم اردو بلاگ اور اردو وکی پیڈیا پر اپنے حصے کا کام سر انجام دو۔

    اللہ حافظ
    نبیل

    PS. Kindly adjust the style of your comments in order to display Urdu comments properly

  3. Nabeel says:

    ڈیر جہانزیب

    میں گزشتہ کمنٹ کے آخری حصے پر معذرت خواہ ہوں۔ اردو کمنٹس تو صحیح ہی ڈسپلے ہو رہے ہیں۔

    نبیل

  4. Danial says:

    بھت خوب جہانزیب بھائی

  5. Anonymous says:

    ummmm keep up the good work:)

    or bachon ki tarha bahany karna chor do aab 😛

    Saira

  6. ضیا says:

    واہ جہانزیب! آپ بہت خوب لکھتے ہیں۔ میں آپ کے تبصرے سے مکمل اتفاق نہیں رکھتا۔ اگر “طبقاتی کشمکش” سے آپ کی مراد انقلاب کی ہے تو یہ آج کے امریکہ میں بہت مشکل ہے۔ یونینوں کی حالتِ زار سے تو آپ بخوبی واقف ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ 9/11 سے امیر اور غریب کے درمیان کے فرق کا تعلق کوئی خاص نمایاں نہیں ہے۔ کیا آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ اگر وہ واقعہ نہ ہوا ہوتا تو آج امیر اور غریب کا فرق کچھ کم ہوتا؟ صدر بش ہا رپبلکن پارٹی کے اصولوں کو تا الزام دیا جاسکتا ہے لیکن اس کا 9/11 سے کیا تعلق؟

  7. جہانزيب says:

    آپ سب حضرات کا بُہت شکريہ کہ آپنے اپنے قيمتی وقت کا کچھ حصہ ميرے بلاگ کو دِيا سب سے پہلے تو نبيل اِنشااللہ جو کچھ مجھ سے بن پايا ضرور کروں گا اردو بلاگ کی ترقی کے ليے اور دوسری بات ميں نے تبصرے ميں اس ليے بايئں سے دايےں طرف تبديلی نہں کی کہ بہت سے پڑھنۓ والے ابھی رومن ميں لکھتے ہيں
    شکريہ ضيا بھايی جہاں تک يونين کا تعلق ہے تو يہاں واقعی کویی اتنی مضبوط يونين نہں ہيں اور دوسری بات امير غريب کے فرق کی تو آپ ديکھں کہ نيو يارک سٹی ميں پچھلے دو سال ميں سٹی نے کتنے ہی ملازميں کو نوکريوں سے چلتا کر دِيا ہے اور سب کچھ ٩/١١ پر ڈال دِيا گيا ہے کہ بلديہ کے پاس اِتنے ذرايع نہں رہے آمدن کے خير اِس بات پر تو جتنے منہ اُتنی باتوں والا حساب ہے
    آخر ميں ايک دفعہ پھر آپ سب کا شکريہ
    اور ذيشان بھايی اور سائرہ کبھی کبھی دوبارہ سے بچہ بننے کا دِل کرتا ہے نا۔

  8. Anonymous says:

    thats quite thought provoking
    farva

  9. جہانزيب says:

    شکريہ Farva آپکی حوصلہ افزایٔ کا

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔