تماش بین

Saturday,21 August 2010
از :  
زمرات : پاکستان

کسی نے شاعر نے کہا تھا “ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے” یہ کیسا اندھیر ہے جس کا اخیر ہی نہیں ہو رہا ۔ جس امت کا منشور ہی برائی کو روکنا ٹھہرایا گیا تھا، ہاتھ سے زبان سے وہ امت تماش بین بن گئی ۔ اور جو قومیں ظلم ہوتا دیکھ کر تماش بین بن جاتی ہیں اں کی بربادی کا تماشہ دنیا دیکھتی ہے ۔
اتنی بے حسی دو نوجوانوں کو سرعام قتل کر دیا جائے اور کوئی روکنے والا موجود نہیں، سب تماشا دیکھنے والے ۔ جس دین نے دشمنوں کی لاشوں کو بھی حرمت بخشی اس کے پیرو اپنے ہی امت کے لوگوں کی میتوں کو سربازار رسوا کرنے لگ گئے ہیں ۔ جو مثالیں تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی دیں کہ اگر ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو عمر اس کا جوابدہ ہے، وہ دو انسانوں کی بے بسی کا تماشا دیکھنے لگیں ۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا؟ ایسے ہی حالات کے بارے میں قانون قدرت ہے کہ ایسی قوموں پر کسی دوسرے گروہ کو مسلط کر دیا جاتا ہے ۔
بٹر کے مکینو، کیا ایک بھی خدا خوفی رکھنے والا تم میں موجود نہیں رہا؟ ایسا ظلم کمایا ہے تم لوگوں نے کہ تمہاری پوری بستی بھی اجڑ جائے تو غم نہیں ۔ وحشت اور بربریت کا ایسا الم ناک مظاہرہ کہ وحشی بھی لرز اٹھیں، انسان اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے؟
میری اللہ سے التجا ہے کہ اس ظلم کے کمانے والوں کو دنیا میں عبرت کا نشان بنا دے اور آخرت میں ذلیل و رسوا کرے ۔

تبصرہ جات

“تماش بین” پر 12 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. عثمان says:

    ذلیل و رسوا تو ہم دنیا میں پہلے ہی ہیں۔ اور مزید ہو رہے ہیں۔

  2. ساحر لدھیانوی شاید غلط کہ گئے۔ یہاں نہ ظلم رکتے ہوئے دیکھا نا خون جمتے ہوئے دیکھا۔ ہاں! ظلم بڑھتے اور خون بہتے ہوئے ضرور دیکھا تھا اور ہے۔ عدل و انصاف کا معیار بہتر نا ہوا تو آئندہ بھی دیکھیں گے۔

    اللہ تعالیٰ سے ہے کہ وہ ان حافظ قرآن روزے دار بھائیوں کے قاتلوں کو دنیا میں ایسی عبرتناک سزا دے جو دوسروں کے لیے عبرت کا باعث ہو۔ آمین

  3. اس سے زیادہ ذلت اس سے زیادہ خواری اس سے زیادہ ہم پر کوئی عتاب اگر قادر متعلق نازل کرتا ھے۔تو بے شک ہمیں اس سے کوئی شکایت نہیں کوئی شکوہ نہیں۔
    ہم پر تو سانس لینا ہی لعنت ہو گیا۔
    ہم گناہ گار ہیں ہم سیاہ کار ہیں۔

  4. رائے دینے کے لئیے الفاظ نہیں۔ اپنے پاکستانی ہونے پہ شرمندگی ہے۔ خدا ظالموں کو غارت کرے۔

  5. رونے کو دل بھی کر رہا ہے لیکن آنسو بھی نہیں آ رہے

  6. دوست says:

    استغفراللہ۔ خدا انھیں غارت کرے۔

  7. دونوں سگے بھائی مغیث اور منیب بٹ ایک انجینئر کے حافظ قرآن بیٹے تھے اور بہترین تعلیمی ریکارڈ رکھتے تھے ۔ بعض رپورٹوں کے مطابق تو جائے وقوعہ سے بھاگتے ہوئے ان دو بھائیوں کو ریسکیو 1122نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا مگر پولیس نے انہیں ہجوم کے حوالے کر دیا اور اپنی جانب سے اس ہجوم کو ڈنڈے فراہم کر کے ان کا کچومر نکالنے کی ہلہ شیری بھی دے دی۔
    چیف جسٹس پاکستان کو اب کم از کم لنگڑے لولے انصاف کی عملداری کی ضرور لاج رکھنی چاہئے ورنہ انصاف اسی طرح گلیوں بازاروں چوراہوں میں رسوا ہوتا نظر آئے گا۔

  8. بدتمیز says:

    جس امت کا منشور ہی برائی کو روکنا ٹھہرایا گیا تھا، ہاتھ سے زبان سے وہ امت تماش بین بن گئی

    ***************************************************************

    اور اگر نہ ہاتھ سے روک سکے اور نہ زبان سے تو پھر دل میں برا جانے اور بے شک یہ ایمان کا سب سے نچلا درجہ ہے۔

  9. اللہ تعالیٰ قاتلوں کو دنیا میں ایسی عبرتناک سزا دے جو دوسروں کے لیے عبرت کا باعث ہو۔ آمین..

  10. ہم اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کریں کم ہے
    لیکن اس ضمن میں بہت سی باتیں قابل غور ہیں؛
    ١۔ کیا یہ واقعی موب جسٹس کی مثال ہے
    ٢۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ کسی گروہ نے بڑی فنکاری سے مجمع کو استعمال کیا ہو اور اپنا انتقام لیا ہو
    ٣۔ کیا سا واقعے میں جاگیردارانہ وحشت نظر نہیں آ رہی ہے۔ عوام تو ایسا ضمیر نہیں رکھتے۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔