جنت میں اسکول؟

Sunday,8 February 2009
از :  
زمرات : پاکستان

کسی بھی مسلمان کی سب سے بڑی خواہش جنت میں داخلہ ہے، سوات میں آج کل یہ داخلہ گلے کاٹ کر اور اسکول گرا کر لیا جا رہا ہے ۔ طالبان کی سوات کے خلاف یلغار سراسر مذہبی اور اصولی ہے، پاکستان میں گمراہ لوگ سوات کو جنت کا خطاب بھی دیتے ہیں،اور ہر سال گرمیوں میں ہزارہا لوگ یہ جنت دیکھنے پاکستان بھر سے اس طرف کا رُخ کرتے تھے، جس کی وجہ سے دُنیا کے نظاروں میں کھو کر اصل جنت کا خیال لوگوں کے دل سے محو ہو رہا تھا ۔ ایسے میں اللہ تعالی نے ہم میں “چند برگزیدہ” ہستیاں بھیجی جنہیں سعودی عرب کی حمایت بھی دلائی گئی، خانہ خدا کی وجہ سے کسی بھی “نیک” کام کرنے کے لئے سعودی عرب کی حمایت ہونا ضروری ہے، نہیں تو “نیک” کام کرنے پر جو توانائی صرف ہوتی ہے اُس کے لئے مطلوبہ “تیل” ختم ہو سکتا ہے ۔
بظاہر ایسے لگتا ہے کہ اس مجازی جنت کو اس کا سکون برباد کر کے ایک جہنم بنایا جا رہا ہے، کیونکہ جنت میں بہرحال امن ہو گا ۔ لیکن ایک طالب کے مطابق یہ کم فہم اور دین سے دُور لوگوں کی سوچ ہے ۔طالبان اصل میں اِس مجازی جنت کو حقیقی جنت کے قریب تر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔
جنت میں چونکہ ہر شخص کے پاس علم کامل ہو گا، اِس لئے اسکول بھی نہیں ہوں گے ۔ دوسرا جنت میں ہر مرد کی داڑھی ہو گی ۔
اِس کے باوجود بھی کم فہم لوگ اِسے جہنم سے تشبیہ دینے پر مصر ہے ۔ اللہ پاک ہر ایک کے فہم کو “طالبانی” بنا دے ۔ آمین

تبصرہ جات

“جنت میں اسکول؟” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. دلچسپ پہلو اجاگر کیا آپ نے

  2. اگر مکمل تبصرہ کروں تو بہت طویل ہو جائے گا ۔ مختصر یہ کہ وجہ کچھ بھی ہو دِین کو مزاح یا طنز میں نہ لانا چاہیئے ۔
    پاکستان میں بر سرِ پیکار لوگوں کا نام طالبان رکھ دیا گیا ہے لیکن ان کردار کا افغانستان کے مُلا عمر سے دُور کا بھی تعلق نہیں

  3. بہت خوبصورت انداز میں بھگو پر جوتے مارے ہیں دل خوش ہوگیا

  4. درست فرمایا.. دیکھیں اس طالبانی میٹرکس کا سلسلہ کہاں تک دراز ہوتا ہے.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔