دودھ دھلے

Thursday,10 September 2009
از :  
زمرات : پاکستان

پاکستان میں سب ہی سیاسی جماعتیں اور اُن کے رہنما دودھ کے دُھلے ہیں، اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ میں اُس جماعت کا رکن ہوں، اب وہ چاہے جو مرضی کر لیں وہ غلط ہو ہی نہیں سکتے ۔
آپ تحریک انصاف کے کارکن سے کہیں کہ عمران خان کا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ درست نہیں تھا، مسلم لیگ نواز کے کارکن سے کہیں کہ ضلعی حکومتوں کا نظام ہمارے مفاد میں ہے اسے جاری رہنا چاہیے، پیپلز پارٹی کے جیالے سے کہیں کہ بلاول کو زرداری بھٹو بنا کر جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے، جماعت اسلامی کے کارکن سے کہیں کہ طالبان کی کھلی مخالفت نہ کر کے نوجوانوں کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں، اور ایم کیو ایم کے کارکن سے کہہ کر دیکھ لیں کہ جب جماعت پاکستان کی ہے تو سربراہ بھی پاکستانی ہونا چاہیے نہ کہ برطانوی شہری ۔ اِن سب سوالات کے جوابات میں وہ کارکن شائد لٹھ لے کر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے ۔ کیوں؟
میرے خیال میں ہمارے ہاں ایک رویہ پنپ چکا ہے، کہ جو ہمارا پسندیدہ ہو اُس کی ہر خامی کو ہم خوبی سمجھتے ہیں، اور جو نا پسند ہو اس میں موجود خوبیاں بھی خرابیاں بن جاتی ہیں ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک اچھا شخص مکمل طور پر اچھا ہو یا ایک برا شخص مکمل مجسم برائی ہو ۔ یہ ماننے میں کیا ہرج ہے کہ انسان اچھائی اور برائی یا غلطی کہہ لیں کا مرکب ہے؟
ایک جماعت سے وابستگی رکھتے ہوئے کیا اپنی جماعت پر تنقید کا حق ہم کھو دیتے ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جماعت کا رکن ہوتے ہوئے اس کی پالیسی یا کسی رہنما کی حرکت پر تنقید کر کے بھی اُسی جماعت سے منسوب رہوں ۔ میرے خیال میں تو یہ ایک جمہوری عمل ہے پھر بھی ہمیں اپنے ہاں ایسے لوگ کیوں نظر نہیں آتے جو اپنی ہی جماعت پر تنقید کر رہا ہو، جنہوں نے ایسا کیا وہ جماعتوں کا حصہ نہیں رہے بلکہ جماعتوں سے خارج کر دئیے گئے ۔
پچھلی تحریر میں مصطفیٰ کمال کی ایک ویڈیو اور اُس پر فرحان دانش کا تبصرہ دیکھ کر ذاتی طور پر تو مجھے افسوس ہوا، لیکن یہ سوالات تھے جو ذہن میں آئے، مصطفیٰ کمال نے بلاشبہ اچھے کام کئے ہیں لیکن اُن کو اس قسم کا کوئی حق نہیں پہنچتا جو اِس ویڈیو میں انہوں نے خواتین کے ساتھ روا رکھا ہے، عزت نفس بہت قیمتی اثاثہ ہے جس کی انہوں نے دھجیاں بکھیری ہیں۔ اگر وہ صرف آرام سے خواتین کی بات سُن لیتے اور نرمی سے صرف دلاسہ دے دیتے تو شائد خواتین مطمعن ہو جاتیں، اِس ویڈیو میں جو شائد آپ کو نظر نہیں آیا وہ میں بتاتا ہوں کہ حفاظتی حصار کے باہر سے واویلا کر کے خواتین مصطفیٰ کمال کے پاس اس یقین کے ساتھ آئیں تھیں کہ وہ بات سنیں گے، لیکن اس نے تو ان کا وقار مجروح کر دیا ۔ میں مصطفیٰ کمال کو اچھا منتظم تو مان سکتا ہوں لیکن اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اچھا انسان بالکل بھی نہیں مان سکتا۔ یہ میری رائے ہے اور اس کا مجھے حق ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ جہاں میں رہتا ہوں وہاں کا مئیر اگر کسی سے اس لہجے سے بات کرتا تو وہ سابق مئیر ہوتا ۔ لیکن یہی تو فرق ہے جمہوریت میں اور پارٹی بازی میں ۔

تبصرہ جات

“دودھ دھلے” پر 16 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. آپ نے بالکل سچ کہا۔ ہم لوگ واقعی اپنی پارٹیوں میں احتساب نام کی چیز سے نفرت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہماری پارٹیاں ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف گامزن ہیں۔ اس سے بڑی منافقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں جمہوریت کی رٹ تو لگاتی ہیں مگر اپنی پارٹی کے اندر انتخابات سے گریز کرتی ہیں۔

  2. مجھے آپکی اس بات سے اتفاق ہے جنکے رتبے ہیں سوا انکی سوا مشکل ہے۔ اور انہیں اپنے ہر عمل پر کڑی نظر رکھنی چاہئیے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح خواتین کو بھیج کر انکے خلاف سازش کی گئی ہے تو انکے ساتھ جو انتظامیہ موجود ہے یہ انکی مینیجمنٹ کی ایک ناکامی ہے۔ لیکن وہ ابھی جوان ہیں شاید اسی لئے بھڑک گئے۔ لیکن اس سب کے باوجود میئر کو اپنے اوپر شدید قابو رکھنا چاہئیے تھا کہ یہی لیڈر شپ کی بہترین صفت ہے۔ برداشت، برداشت اور مناسب وقت پر اسکا اظہار۔ لیڈر کا واسطہ تو عوام سے ہی ہوتا ہے اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیںجنہیں ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے۔ دوسرا یہ کہ آپکے مددگار اسی لئیے ہوتے ہیں کہ وہ اس ناخوشگوار وقت میں آگے آئیں۔ اور صورت حال کو اس طرح ہینڈل کریں کہ چاہے وہ برے بن جائیں مگر آپ برے نہ کہلائیں۔ ابھی انہیں عوامی اندا سیکھنا ہوگا۔

  3. عبداللہ says:

    جہانزیب اپکی تمام باتیں سر آنکھوں پر!
    آپکا یہ کہنا بھی بجا کہ اگر جماعت پاکستانی ہے تو اس کا سربراہ بھی پاکستانی ہونا چاہیئے نہ کہ برطانوی شہری مگر جنہوں نے اسے برطانوی شہری بننے پر مجبور کیا ان کے بارے میں بھی کچھ فرمادیتے تو بہتر ہوتا!

    مصطفے کمال کا انداز گفتگو بے شک ناپسندیدہ تھا مگر جب ایک پلڑے میں اس کے کام رکھے جائیں اور دوسرے پلڑے میں اس کا غصہ تو معاف کیجیئے گا اس کے کاموں کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے جب ایک طرف اس کا صرف تین چار گھنٹے آرام کرنا اور باقی وقت کراچی کی سڑکوں پر پھر پھر کر کام کرنا ہو تو اس کی بد مزاجی بھی نظر انداز ہوجاتی ہے،اب میرا ایک سوال آپ سے ہے کہ جس طرح مصطفے کمال اور متحدہ کو مائکرو اسکوپ کے نیچے آپ لوگوں نے رکھا ہوا ہے کیا اس طرح آپنے پنجاب کے لیڈران کو بھی رکھا ہوا ہے؟
    اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی غلطی مشہور کردی جاتی ہے شائد اس لیئے کہ اس کے بارے مین بڑی بڑی برائیاں جس مین دیگر سیاست داں ملوث ہیں ڈھونڈے سے نہیں ملتیں،نہ اس کی حرام کی کمائیاں ملتی ہیں نہ حرام کاریاں اس لیئے ان باتوں کو تشت از بام کیا جاتا ہے،
    ویسے اسے دو نمبر کا میئر لکھ کر آپنے بھی اپنے دل کی بھڑاس نکال ہی لی، مجھے بلا وجہ ہی خوش فہمی تھی کہ آپ ایک نیوٹرل بندے ہیں!

    • میں نہیں مانتا کہ کوئی شخص نیوٹرل ہو سکتا ہے ہر کسی کی کہیں نہ کہیں وابستگی ہوتی ہے، کم یا زیادہ یہ انسان پر منحصر ہے . بس کسی کی تقلید میں بالکل ہی آنکھیں بند نہیں کر لینا چاہیے ہیں، یہی اس تحریر کا مقصد بھی ہے .
      باقی آپ پنجاب کے لیڈران کی حرام کاریاں سامنے لائیے پھر بھی اگر میں ان پر تشکر کے ڈونگرے بجاوں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں انہیں چھوٹ دیتا ہوں . اسی بلاگ پر جب اکبر بگٹی کی موت پر ہر کوئی مشرف کے خلاف تھا، میں نے اس کے حق میں لکھا تھا، جب جامعہ حفصہ والا والا ہوا تب بھی میں نے پنجاب کے بقول آپ کے لیڈران کے خلاف لکھا اور مشرف کے حق میں .
      اس کے باوجود مشرف کی حکومت کے حق میں کبھی نہیں رہا، میرا خیال ہے کہ ہر فیصلہ کو میرٹ کی بنیاد پر دیکھنا چاہیے نہ کہ پارٹی بنیاد پر .

  4. خرم says:

    بھائی جس روز اصول شخصیات سے بلند ہو جائیں گے اسی روز پاکستان کا ترقی کا سفر شروع ہوگا انشاء اللہ۔ حق کو ماننا ایک ایسی ریت ہے جو اگر کسی معاشرہ میں ڈل جائے تو پھر اسے بلندیوں کو چھونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمارا معاشرہ ابھی اس سفر پر روانہ ہی نہیں ہوا۔ اسی لئے ہم آج تک اشخاص کی محبت میں اصولوں کو قربان کرتے نظر آتے ہیں۔ جیسے میرے پیارے بھائی عبداللہ نے دلیل دی کہ الطاف نے برطانوی شہریت حاصل کرلی تو ان کے بقول جنہوں نے انہیں برطانوی شہریت حاصل کرنے پر مجبور کیا ان کا بھی احتساب کیا جائے۔ اگر کوئی لیڈر اتنا بودا ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی کسی دوسرے ملک سے وفاداری کا حلف اٹھوانے پر مجبور کرسکے تو پھر اس قوم کا، اس جماعت کا ، اس گروہ کا اللہ حافظ جو اسے اپنا رہبر مانے۔ کون جانے کل کونسا دباؤ اس “لیڈر“ سے کوئی اور کام بامر مجبوری کروا ڈالے؟ لیکن خیر یہ باتیں تو تب کی ہیں جب ہم اپنے دل و دماغ کی کھڑکیاں اصولوں اور سچائی کے لئے کھولیں۔

  5. عبداللہ says:

    جہانزیب اور دیگر حضرات مینے ہرگز مصطفے کمال کے طرز گفتگو کو مستحسن نہیں کہا،نہ اس تبصرے میں نہ پچھلے تبصرے میں،
    دوسری بات جیسا معاشرہ ویسے لیڈر ہم بمزاجی اور بد معاملگی کی انتہاء پر ہیں اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا،
    تیسری بات صنم بھٹو کی مثال یہاں بلکل بے کار ہے کیونکہ اسے سیاست سے خود ہی کبھی دلچسپی نہیں رہی،

    تیسری بات خرم آپکی دلیل بہت بودی ہے،کیا کسی دوسرے ملک کی نیشنلٹی وہ بھی بدرجہ مجبوری لے لینا آپ کے نزدیک اتنا برا کام ہے تو آپ نے اور آپ جیسے دوسروں نے جو خوشی خوشی دوسرے ملکوں کی وفا داریوں کے عہد اٹھائے ہوئے ہیں تو آپ بھی اس قابل نہ ہوئے کہ آپکو ایک اچھا اور سچا پاکستانی گردانا جائے؟
    آپکو بھی چاہیئے کہ دل ودماغ کی کھڑکیوں کو اصولوں اور سچائی کے لیئے کھولیں!
    اور جن لیڈران نے نیشنلٹیاں نہیں لی ہوئیں وہ تو کھلم کھلا دوسرے ملکوں کی وفاداریاں نبھاتے ہیں اس بارے آپ کیا فرمائیں گے!

  6. “پاکستان میں سب ہی سیاسی جماعتیں اور اُن کے رہنما دودھ کے دُھلے ہیں، اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ میں اُس جماعت کا رکن ہوں، اب وہ چاہے جو مرضی کر لیں وہ غلط ہو ہی نہیں سکتے ۔”

    میں خود بھی محوِ حیرت رہتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟

    “میرے خیال میں ہمارے ہاں ایک رویہ پنپ چکا ہے، کہ جو ہمارا پسندیدہ ہو اُس کی ہر خامی کو ہم خوبی سمجھتے ہیں، اور جو نا پسند ہو اس میں موجود خوبیاں بھی خرابیاں بن جاتی ہیں. ”

    تقریباً ایسا ہی ہے اور اسے کو غلط بھی نہیں سمجھتا. کیوں؟

    “سی کی تقلید میں بالکل ہی آنکھیں بند نہیں کر لینا چاہیے ہیں، یہی اس تحریر کا مقصد بھی ہے .”

    صد فی صد متفق!

    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا.

  7. جعفر says:

    بت پرستی ۔۔۔۔
    پتھر کے نہ سہی
    گوشت پوست کے سہی

  8. بھائی جان آپ لوگ میری بات کو سمجھ نہیں سکے اس عورت کا تّعلق ایک سیاسی جماعت سے تھا جومصطفیٰ کمال عزت نفس مجروح کرنے آئی تھی.کیا وہ عورت آرام سے بات نہیں کر سکتی تھی اتنا چخنا اورچلا نے کی کیا وجہ تھی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اگر کوئی عورت کسی مرد پر بھری محفل میں بے بنیاد الزمات کی بوچھاڑ کر دے تو اس مرد کی کیا حالت ہو گی آپ لوگ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں.کیا اس کو غصہ نہیں آئے گا ………..ذرا سوچئے

    • کیوں اس نے کیا مئیر کی مردانگی کو للکار دیا تھا؟
      اگر ہاں تو پھر بھی اس چرح کے جواب سے مئیر کو خود تسلی نہیں ہوئی ہو گی 😀

    • محمداسد says:

      کسی کا باپ آئی سی یو میں ہو اور ڈاکٹرز پہلے پرچے اور رقم کا متقاضی ہو تو کیا جذباتی ہونا فطرتی بات نہیں؟ افسوس کا مقام ہے کہ سٹی ناظم کے غصہ کو جائز قرار دینے والے کسی غریب کے بیمار باپ کا علاج میں دیر کرنے پر احتجاج کو بھی سیاسی قرار دیا جارہا ہے.

      • “کسی کا باپ آئی سی یو میں ہو اور ڈاکٹرز پہلے پرچے اور رقم کا متقاضی ہو تو کیا جذباتی ہونا فطرتی بات نہیں” آپ کی یہ بات پڑھ مجھے آپ کے اوپر ہنسی آرہی ہے.شاید آپ نے اس وڈیو کوغور سے نہیں دیکھا.
        اس سرکاری اپستال مہیں 10 روپے کی پرچی پر آئی سی یو کی سہولت دی جاتی ہےاور کسی رقم کا تقاضا نہیں کیا جاتا ہے. اگر کوئی ڈاکٹررقم کا متقاضی ہو تو اس باقاعدہ شکایت بھی کی جاسکتی ہے.

  9. Eid Mubarak says:

    شگفتہ آداب بے حد آداب
    پھولوں کی مہک آبشاروں کا ترنم
    شباب کا امنگ کلیوں کا تبسم
    فضاوں میں رچی خوشبو جیسی
    سحر انگیز شگوفوں دل آویز نغموں جیسی
    بھر پور گنگناتے خیال میں
    خوش کن اداوں جیسی
    خوش ادا مچلتی گنگناتی ریشمی لہروں جیسی
    حسین یادوں کے جل تھل جیسی
    پر کشش عید آئی ہے
    اس دھنک رنگ موقع پر میری جانب سے
    عید مبارک

  10. شگفتہ says:

    السلام علیکم جہانزیب بھائی ، عید مبارک !

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔