<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: پاکستانی جرگہ</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Thu, 26 Aug 2010 07:44:53 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
	<item>
		<title>By: جہانزیب</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1619</link>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 21:02:15 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1619</guid>
		<description>نعمان، میں  آپ سے متفق نہیں ہوں۔ اس سارے واقعہ میں افتخار چوہدری انصاف پسندی کے آئیکون بن گئے تھے،اگر وہ بحال نہ ہوتے یا ایسی تحریک نہ چلتی تو مستقبل میں بھی پاکستانی بیوروکریسی جو اپنے آپ کو کسی کا جوابدہ نہیں سمجھتے، اور اگر اصل میں افتخار چوہدری کی برطرفی کا جائزہ لیا جائے تو یہی بیوروکریسی ہی وجہ تھی، جس کی وجہ سے پرویز مشرف نے کہا کہ انتظامی امور میں رخنے ڈالے جا رہے تھے۔ اگر افتخار چوہدری بحال نہ ہوتے تو مستقبل میں بھی جج دوسرے اداروں کے دباو میں رہتے ۔
اس سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے ججوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی منظوری سے چنا جائے، اور بعد میں اس کو نوکری کا یا برطرفی کا ڈر نہ ہو ۔ امریکہ کی دو سو سال سے زیادہ کی تاریخ میں سترہ چیف جسٹس آئے ہیں، وجہ کہ سپریم کورٹ کے جج ریٹائرڈ نہیں ہوتے، ان کا چناو صدر کرتا ہے، بعد میں کئی دن تک سینٹ کی کمیٹی ان کا محاسبہ کرتی ہے، جو پبلک ہوتا ہے، اس بار والے کو تو میں نے خود دیکھا ہے، اور جب ان تمام مراحل میں سے کوئی کامیاب  ہو جاتا ہے تو وہ تمام عمر کے لئے جج ہے، جب تک وہ خود استعفیٰ نہیں دے کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، برطرف نہیں کر سکتا، اگر اس پر بدعنوانی کا الزام ہے تب سینیٹ میں اس کا مقدمہ سنا جاتا ہے ۔ اگر ہم پاکستان میں بالکل ایسا نظام نہیں بنا سکتے تو کیا اس کے قریب بھی نہیں بنا سکتے کہ سپریم کورٹ کے جج حضرات کو اندیشہ نہ ہو کہ یہ فیصلہ کرنے سے ان کی نوکری چلی جائے گی ۔
اور محترمہ کا انصاف کی بات کرنا صرف ایک سیاسی شعبدہ بازی تھی، کہ ملک بھر میں ججوں کے بارے میں مثبت سوچ تھی محترمہ بہرحال ایک زیرک سیاست دان تھیں جو اس کا استعمال کر رہی تھیں، نہیں تو اپنے دور حکومت میں نسیم حسن شاہ کو انہوں نے بھی کافی رگڑا دیا تھا ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان، میں  آپ سے متفق نہیں ہوں۔ اس سارے واقعہ میں افتخار چوہدری انصاف پسندی کے آئیکون بن گئے تھے،اگر وہ بحال نہ ہوتے یا ایسی تحریک نہ چلتی تو مستقبل میں بھی پاکستانی بیوروکریسی جو اپنے آپ کو کسی کا جوابدہ نہیں سمجھتے، اور اگر اصل میں افتخار چوہدری کی برطرفی کا جائزہ لیا جائے تو یہی بیوروکریسی ہی وجہ تھی، جس کی وجہ سے پرویز مشرف نے کہا کہ انتظامی امور میں رخنے ڈالے جا رہے تھے۔ اگر افتخار چوہدری بحال نہ ہوتے تو مستقبل میں بھی جج دوسرے اداروں کے دباو میں رہتے ۔<br />
اس سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے ججوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی منظوری سے چنا جائے، اور بعد میں اس کو نوکری کا یا برطرفی کا ڈر نہ ہو ۔ امریکہ کی دو سو سال سے زیادہ کی تاریخ میں سترہ چیف جسٹس آئے ہیں، وجہ کہ سپریم کورٹ کے جج ریٹائرڈ نہیں ہوتے، ان کا چناو صدر کرتا ہے، بعد میں کئی دن تک سینٹ کی کمیٹی ان کا محاسبہ کرتی ہے، جو پبلک ہوتا ہے، اس بار والے کو تو میں نے خود دیکھا ہے، اور جب ان تمام مراحل میں سے کوئی کامیاب  ہو جاتا ہے تو وہ تمام عمر کے لئے جج ہے، جب تک وہ خود استعفیٰ نہیں دے کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، برطرف نہیں کر سکتا، اگر اس پر بدعنوانی کا الزام ہے تب سینیٹ میں اس کا مقدمہ سنا جاتا ہے ۔ اگر ہم پاکستان میں بالکل ایسا نظام نہیں بنا سکتے تو کیا اس کے قریب بھی نہیں بنا سکتے کہ سپریم کورٹ کے جج حضرات کو اندیشہ نہ ہو کہ یہ فیصلہ کرنے سے ان کی نوکری چلی جائے گی ۔<br />
اور محترمہ کا انصاف کی بات کرنا صرف ایک سیاسی شعبدہ بازی تھی، کہ ملک بھر میں ججوں کے بارے میں مثبت سوچ تھی محترمہ بہرحال ایک زیرک سیاست دان تھیں جو اس کا استعمال کر رہی تھیں، نہیں تو اپنے دور حکومت میں نسیم حسن شاہ کو انہوں نے بھی کافی رگڑا دیا تھا ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جہانزیب</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1618</link>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 20:28:52 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1618</guid>
		<description>نعمان میں یہ بات جانتا ہوں، اور باقی فانٹ کو نکالنے کا مقصد ویب پر نستعلیق فانٹس کا فروغ ہے ۔ اب دیکھیں مجھے تو اس بات پر ہی حیرت ہے کہ آپ کے پاس علوی یا جمیل نستعلیق موجود نہیں ، فانٹ کی دوسری ترجیع ایریل بھی اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے رکھی گئی ہے، ویسے ونڈوز پر تحریر ایریل میں درست دکھتی ہے البتہ لینکس میں تھوڑا مسلہ ہے ۔
میرا خیال ہے اب نستعلیق قابل استعمال شکل میں موجود ہے، اور ہمیں اس کو فروغ دینا چاہیے ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان میں یہ بات جانتا ہوں، اور باقی فانٹ کو نکالنے کا مقصد ویب پر نستعلیق فانٹس کا فروغ ہے ۔ اب دیکھیں مجھے تو اس بات پر ہی حیرت ہے کہ آپ کے پاس علوی یا جمیل نستعلیق موجود نہیں ، فانٹ کی دوسری ترجیع ایریل بھی اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے رکھی گئی ہے، ویسے ونڈوز پر تحریر ایریل میں درست دکھتی ہے البتہ لینکس میں تھوڑا مسلہ ہے ۔<br />
میرا خیال ہے اب نستعلیق قابل استعمال شکل میں موجود ہے، اور ہمیں اس کو فروغ دینا چاہیے ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جعفر</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1617</link>
		<dc:creator>جعفر</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 15:28:16 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1617</guid>
		<description>جہانزیب صاحب .. آپ کا نقطہ نظر معروضی اور جذباتیت سے دور ہے اور اس میں مسئلے کے حل پر بحث کی گئی ہے جو اس بلاگ دنیا میں ایک عجوبہ ہے.. میں اس پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں.
آپ کا کہتا بالکل بجا ہے کہ اگر ادارے نہ بتائے گئے اور ان کو مضبوط نہ کیا گیا تو کل کوئی بھی ڈوگر آکر ساری جدوجہد غارت کر دے گا.
جیوری یا جرگے کی تجویز بھی بالکل درست ہے.
تبصروں میں بھی زیادہ تر وہی جذباتیت ہے جو ہمارا قومی نشان بن چکی ہے ہمارا ممدوح ہمیشہ فرشتہ ہوتا ہے اور مخالف شیطان... شاید ہم انسانوں سے معاملت کرنا مناسب نہیں سمجھتے....
اتنی اچھی اور مفید تحریر پر ایک بار پھر مبارکباد...</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جہانزیب صاحب .. آپ کا نقطہ نظر معروضی اور جذباتیت سے دور ہے اور اس میں مسئلے کے حل پر بحث کی گئی ہے جو اس بلاگ دنیا میں ایک عجوبہ ہے.. میں اس پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں.<br />
آپ کا کہتا بالکل بجا ہے کہ اگر ادارے نہ بتائے گئے اور ان کو مضبوط نہ کیا گیا تو کل کوئی بھی ڈوگر آکر ساری جدوجہد غارت کر دے گا.<br />
جیوری یا جرگے کی تجویز بھی بالکل درست ہے.<br />
تبصروں میں بھی زیادہ تر وہی جذباتیت ہے جو ہمارا قومی نشان بن چکی ہے ہمارا ممدوح ہمیشہ فرشتہ ہوتا ہے اور مخالف شیطان&#8230; شاید ہم انسانوں سے معاملت کرنا مناسب نہیں سمجھتے&#8230;.<br />
اتنی اچھی اور مفید تحریر پر ایک بار پھر مبارکباد&#8230;</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ڈفر</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1616</link>
		<dc:creator>ڈفر</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 11:21:26 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1616</guid>
		<description>بالکلل درست فرمایا جہانزیب آپ نے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بالکلل درست فرمایا جہانزیب آپ نے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: تانیہ رحمان</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1615</link>
		<dc:creator>تانیہ رحمان</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 11:11:05 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1615</guid>
		<description>میرا اصل مقصد یہ ہے کہ اب جج بھال ہو گے جسٹس افٹخار نے اپنا کام سمبھال لیا ۔ اب ہیں آگے کا سوچنا ہے ۔ ملکی حالات کو ٹھیک کرنا ہے ۔ جو کے پی پی پی کے دور میں تو نہیں لگتے کہ ٹھیک ہو سکیں ۔اگر ملک ہو گا تو عدلیہ بھی ہو گی دوسری تیسری پارٹیاں بھی ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میرا اصل مقصد یہ ہے کہ اب جج بھال ہو گے جسٹس افٹخار نے اپنا کام سمبھال لیا ۔ اب ہیں آگے کا سوچنا ہے ۔ ملکی حالات کو ٹھیک کرنا ہے ۔ جو کے پی پی پی کے دور میں تو نہیں لگتے کہ ٹھیک ہو سکیں ۔اگر ملک ہو گا تو عدلیہ بھی ہو گی دوسری تیسری پارٹیاں بھی ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: آصف</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1614</link>
		<dc:creator>آصف</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 09:34:03 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1614</guid>
		<description>نعمان:
اگر یہ جج جن کی جرات کا تمام دنیا نے اعتراف کیا ہے استعفی دے کر گھر چلے جائیں تو کیا آپ عدالتوں کو عبدالحمید ڈوگر جیسوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟

اگر آپ کو ملازمت سے ناجائز نکال دیا جائے اور آپ عدالتی جدوجہد سے اپنا حق واپس لے لیں تو کیا آپ صرف اس وجہ سے اپنی ملازمت سے استعفی دے دیں گے کہ اب آپ کے اپنے باس سے اچھے تعلقات نہیں رہے؟ کیا تمام مہذب لوگ اس باس سے یہ تقاضا نہیں کریں گے کہ اسے اپنے کیے پر شرمندہ ہونا چاہئیے؟

اگر آپ انٹرنیٹ پر &quot;Lawyers&#039; Movement&quot; لکھ کرتلاش کریں تو جو کروڑوں کی تعداد میں صفحات نظر آئیں گے وہ صرف پاکستان کی اس صد افتخار تحریک کے متعلق لکھے گئے ہیں۔ آپ کو شاید علم نہ ہو کہ اس تحریک نے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو کتنی عزت بخشی ہے۔ ہمیں ان مہذب لوگوں نے ہمارے دفاتر میں آکر مبارکبادیں دی ہیں کہ ایک تیسری دنیا کے ملک نے ایک آمر کے اقدام کے خلاف ایسی تاریخی جدوجہد کی ہے۔

 دوسری طرف آپ کے خیالات ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ غلطی پر ہیں؟ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ افتخار چوہدری جیسا آدمی جسے ساری دنیا نے عزت دی ہے وہ اتنے کمزور کردار کا مظاہرہ کرے گا جیسا آپ نے لکھا ہے؟ آپ نہیں سمجھتے کہ آپ کو اس معاملے کو مقامی سطح سے اٹھ کر (پاکستانی نہیں) عالمی تناظر میں دیکھنا چاہئیے؟

آصف</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان:<br />
اگر یہ جج جن کی جرات کا تمام دنیا نے اعتراف کیا ہے استعفی دے کر گھر چلے جائیں تو کیا آپ عدالتوں کو عبدالحمید ڈوگر جیسوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟</p>
<p>اگر آپ کو ملازمت سے ناجائز نکال دیا جائے اور آپ عدالتی جدوجہد سے اپنا حق واپس لے لیں تو کیا آپ صرف اس وجہ سے اپنی ملازمت سے استعفی دے دیں گے کہ اب آپ کے اپنے باس سے اچھے تعلقات نہیں رہے؟ کیا تمام مہذب لوگ اس باس سے یہ تقاضا نہیں کریں گے کہ اسے اپنے کیے پر شرمندہ ہونا چاہئیے؟</p>
<p>اگر آپ انٹرنیٹ پر &#8220;Lawyers&#8217; Movement&#8221; لکھ کرتلاش کریں تو جو کروڑوں کی تعداد میں صفحات نظر آئیں گے وہ صرف پاکستان کی اس صد افتخار تحریک کے متعلق لکھے گئے ہیں۔ آپ کو شاید علم نہ ہو کہ اس تحریک نے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو کتنی عزت بخشی ہے۔ ہمیں ان مہذب لوگوں نے ہمارے دفاتر میں آکر مبارکبادیں دی ہیں کہ ایک تیسری دنیا کے ملک نے ایک آمر کے اقدام کے خلاف ایسی تاریخی جدوجہد کی ہے۔</p>
<p> دوسری طرف آپ کے خیالات ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ غلطی پر ہیں؟ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ افتخار چوہدری جیسا آدمی جسے ساری دنیا نے عزت دی ہے وہ اتنے کمزور کردار کا مظاہرہ کرے گا جیسا آپ نے لکھا ہے؟ آپ نہیں سمجھتے کہ آپ کو اس معاملے کو مقامی سطح سے اٹھ کر (پاکستانی نہیں) عالمی تناظر میں دیکھنا چاہئیے؟</p>
<p>آصف</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1613</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 24 Mar 2009 23:43:01 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1613</guid>
		<description>یہ تبصرہ آپ پڑھنے کے بعد مٹا سکتے ہیں. میں ا بنٹو لنکس فائر فوکس پر آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہوں میرے پاس نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ، اور ٹاہوما فانٹ انسٹال ہیں لیکن آپ کے بلاگ کا ٹیکسٹ میں پڑھ نہیں پارہا جس کی وجہ آپ کی اسٹائل شیٹ میں فانٹس کا انتخاب ہے جو کہ یہ ہے:
&#039;Alvi Nastaleeq&#039;,&#039;Alvi Lahori Nastaleeq&#039;,Arial;

میرا سوال یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے کے لئے ہمارے کمپیوٹر پر کم از کم کتنے اردو فانٹ نصب ہونا چاہئے؟ اور کیا اردو میں ویب صفحات پیش کرنے والوں کو اس بات کا خیال نہیں رکھنا چاہئے کہ ان کے قارئین کے کمپیوٹرز پر کونسے فانٹ انسٹال ہونے کا امکان قوی ترین ہے اور اس فانٹ کو اسٹائل شیٹ میں آخری میں شامل کردیا جائے تاکہ اگر علوی نستعلیق علوی لاہوری اور ایریل نہ ہوں تو ٹاہوما، یا نفیس ویب نسخ میں ٹیکسٹ پڑھا جاسکے؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یہ تبصرہ آپ پڑھنے کے بعد مٹا سکتے ہیں. میں ا بنٹو لنکس فائر فوکس پر آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہوں میرے پاس نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ، اور ٹاہوما فانٹ انسٹال ہیں لیکن آپ کے بلاگ کا ٹیکسٹ میں پڑھ نہیں پارہا جس کی وجہ آپ کی اسٹائل شیٹ میں فانٹس کا انتخاب ہے جو کہ یہ ہے:<br />
&#8216;Alvi Nastaleeq&#8217;,'Alvi Lahori Nastaleeq&#8217;,Arial;</p>
<p>میرا سوال یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے کے لئے ہمارے کمپیوٹر پر کم از کم کتنے اردو فانٹ نصب ہونا چاہئے؟ اور کیا اردو میں ویب صفحات پیش کرنے والوں کو اس بات کا خیال نہیں رکھنا چاہئے کہ ان کے قارئین کے کمپیوٹرز پر کونسے فانٹ انسٹال ہونے کا امکان قوی ترین ہے اور اس فانٹ کو اسٹائل شیٹ میں آخری میں شامل کردیا جائے تاکہ اگر علوی نستعلیق علوی لاہوری اور ایریل نہ ہوں تو ٹاہوما، یا نفیس ویب نسخ میں ٹیکسٹ پڑھا جاسکے؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1612</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 24 Mar 2009 23:40:05 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1612</guid>
		<description>آپ کی بات نہ صرف قابل غور ہے بلکہ عوامی سطح پر چلنے والی مختلف تحریکوں کی ناکامی کا ایک اہم سبب بھی جس میں تحریک کے اختتام پر کسی &quot;شخصیت&quot; یا &quot;علامت&quot; کی بحالی کو تحریک کا مرکزی نقطہ بنایا گیا نہ کہ امریکہ کے سول رائٹس ایکٹس کی طرز پر کسی مستقل قانون قانون کے لیے تحریک چلائی گئی جس کے ثمرات آئندہ کئ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں. اور آپ  کی بات درست ہے کہ ہمارے سسٹم میں جہاں ججز اور سائنسدان بھی ریٹائر کیے جاتے ہیں اتنی بڑی تحریک کا فائدہ چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوسکے گا اس لیے قانون سازی کے لیے تحریک چلانا زیادہ ضروری ہے نہ کے کسی شخص یا عہدے کی بحالی کی تحریک اور یہ دائرے میں سفر کرنے کی بنیادی وجہ.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ کی بات نہ صرف قابل غور ہے بلکہ عوامی سطح پر چلنے والی مختلف تحریکوں کی ناکامی کا ایک اہم سبب بھی جس میں تحریک کے اختتام پر کسی &#8220;شخصیت&#8221; یا &#8220;علامت&#8221; کی بحالی کو تحریک کا مرکزی نقطہ بنایا گیا نہ کہ امریکہ کے سول رائٹس ایکٹس کی طرز پر کسی مستقل قانون قانون کے لیے تحریک چلائی گئی جس کے ثمرات آئندہ کئ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں. اور آپ  کی بات درست ہے کہ ہمارے سسٹم میں جہاں ججز اور سائنسدان بھی ریٹائر کیے جاتے ہیں اتنی بڑی تحریک کا فائدہ چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوسکے گا اس لیے قانون سازی کے لیے تحریک چلانا زیادہ ضروری ہے نہ کے کسی شخص یا عہدے کی بحالی کی تحریک اور یہ دائرے میں سفر کرنے کی بنیادی وجہ.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1611</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 24 Mar 2009 23:36:28 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1611</guid>
		<description>محترمہ شہید ہونے سے پہلے  عدلیہ کی آزادی کی بات کرتی تھیں اور کبھی عدلیہ کی آزادی کو ججز کی بحالی یا ججز کی بحالی کو عدلیہ کی آزادی سے پیوست نہ کرتی تھیں.

میں ججوں کی بحالی کو نامناسب خیال کرتا ہوں. میرا خیال ہے ان تمام ججز کو اب ازخود استعفی دے دینا چاہئے۔ کیونکہ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ان کی طویل محاذ آرائی پچھلی قومی اسمبلی اور ایوان صدر کے ساتھ ان کی چپقلش اور بعد ازاں ان کی تحریک۔ اب ان کی ہمدردیاں پہلے سے زیادہ مشکوک ہیں جو ہوسکتا ہے انصاف کی راہ میں حائل ہوں۔ جیسے اگر شریف برادران کی بحالی، یا پنجاب میں گورنر راج کے غیر قانونی ہونے کا مقدمہ اگر عدالت میں پیش ہو اور بنچ میں نئے حلف یافتہ جج شامل ہوں۔  میرا خیال ہے اگر عدلیہ کی آزادی کی کوششیں پہلے سے کی جاتیں تو ایسی محاذ آرائی کی نوبت کبھی نہیں آتی. لیکن اب چونکہ محاذ آرائی ہوچکی ہے اور ایک فریق اپنا موقف منوا چکا ہے تو اخلاقی طور پر وہ اب اس عہدے کے لئے نامناسب ہوگئے ہیں۔

مجھے آپ کی پوسٹ میں لفظ &lt;a href=&quot;http://en.wikipedia.org/wiki/Jury&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;جیوری&lt;/a&gt; کےبجائے پنچایت یا جرگے کا استعمال اچھا لگا. اگر آپ جیوری کہتے تو شاید اس کے غیر اسلامی ہونے کا فتوی آجاتا۔ جرگے اور پنچایتیں ہمارے یہاں غیر اسلامی نہیں سمجھی جاتیں۔  قانون ساز اداروں کو اس پر توجہ دینا چاہئے لیکن جرگوں کا کام سزا دینا نہ ہو بلکہ مقدمات  کی سماعت ہو اور خطاوار کا تعین کرنا ہو جیسا کہ مغرب میں رواج ہے۔ سزا کا انتظام آئین پاکستان کی تعزیرات کے تحت ہی ہو اور اس کا فیصلہ منصف کے ہاتھ ہی ہو۔

ججوں کے محاسبے کا بھی خاطر خواہ انتظام وضع ہونا چاہئے۔ اور ان ججوں کو جنہوں نے کسی بھی پی سی او  کے تحت حلف اٹھایا ہو کسی سپریم کونسل میں بلایا جائے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی جائے کہ انہوں نے آئین پاکستان سے انحراف کیوں کر کیا۔ دوسرا ان ججوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا جائے جنہوں نے جنرل مشرف کو آئین میں ترمیم کی غیر قانونی اجازت، پاکستان پر حکمرانی کا غیر آئینی حق عطا کیا۔ اس کے علاوہ ذیلی عدالتوں کے ججز کا بھی محاسبے کا خاطر خواہ انتظام ہونا چاہئے۔ عدالتی نظام میں کرپشن کی بیخ کنی کی ابتدا نیچے کے بجائے اوپر سے ہونی چاہئے اور سب سے پہلے عدلیہ کی آزادی کی نام نہاد تحریک کے سالاروں کو خود کو احتساب کے لئے پیش کرنا چاہئے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محترمہ شہید ہونے سے پہلے  عدلیہ کی آزادی کی بات کرتی تھیں اور کبھی عدلیہ کی آزادی کو ججز کی بحالی یا ججز کی بحالی کو عدلیہ کی آزادی سے پیوست نہ کرتی تھیں.</p>
<p>میں ججوں کی بحالی کو نامناسب خیال کرتا ہوں. میرا خیال ہے ان تمام ججز کو اب ازخود استعفی دے دینا چاہئے۔ کیونکہ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ان کی طویل محاذ آرائی پچھلی قومی اسمبلی اور ایوان صدر کے ساتھ ان کی چپقلش اور بعد ازاں ان کی تحریک۔ اب ان کی ہمدردیاں پہلے سے زیادہ مشکوک ہیں جو ہوسکتا ہے انصاف کی راہ میں حائل ہوں۔ جیسے اگر شریف برادران کی بحالی، یا پنجاب میں گورنر راج کے غیر قانونی ہونے کا مقدمہ اگر عدالت میں پیش ہو اور بنچ میں نئے حلف یافتہ جج شامل ہوں۔  میرا خیال ہے اگر عدلیہ کی آزادی کی کوششیں پہلے سے کی جاتیں تو ایسی محاذ آرائی کی نوبت کبھی نہیں آتی. لیکن اب چونکہ محاذ آرائی ہوچکی ہے اور ایک فریق اپنا موقف منوا چکا ہے تو اخلاقی طور پر وہ اب اس عہدے کے لئے نامناسب ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مجھے آپ کی پوسٹ میں لفظ <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Jury" rel="nofollow">جیوری</a> کےبجائے پنچایت یا جرگے کا استعمال اچھا لگا. اگر آپ جیوری کہتے تو شاید اس کے غیر اسلامی ہونے کا فتوی آجاتا۔ جرگے اور پنچایتیں ہمارے یہاں غیر اسلامی نہیں سمجھی جاتیں۔  قانون ساز اداروں کو اس پر توجہ دینا چاہئے لیکن جرگوں کا کام سزا دینا نہ ہو بلکہ مقدمات  کی سماعت ہو اور خطاوار کا تعین کرنا ہو جیسا کہ مغرب میں رواج ہے۔ سزا کا انتظام آئین پاکستان کی تعزیرات کے تحت ہی ہو اور اس کا فیصلہ منصف کے ہاتھ ہی ہو۔</p>
<p>ججوں کے محاسبے کا بھی خاطر خواہ انتظام وضع ہونا چاہئے۔ اور ان ججوں کو جنہوں نے کسی بھی پی سی او  کے تحت حلف اٹھایا ہو کسی سپریم کونسل میں بلایا جائے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی جائے کہ انہوں نے آئین پاکستان سے انحراف کیوں کر کیا۔ دوسرا ان ججوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا جائے جنہوں نے جنرل مشرف کو آئین میں ترمیم کی غیر قانونی اجازت، پاکستان پر حکمرانی کا غیر آئینی حق عطا کیا۔ اس کے علاوہ ذیلی عدالتوں کے ججز کا بھی محاسبے کا خاطر خواہ انتظام ہونا چاہئے۔ عدالتی نظام میں کرپشن کی بیخ کنی کی ابتدا نیچے کے بجائے اوپر سے ہونی چاہئے اور سب سے پہلے عدلیہ کی آزادی کی نام نہاد تحریک کے سالاروں کو خود کو احتساب کے لئے پیش کرنا چاہئے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جہانزیب</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/pakistan-courts-system/#comment-1610</link>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 24 Mar 2009 22:36:26 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=401#comment-1610</guid>
		<description>تانیہ صاحبہ جان چھوڑ دینے کی وجہ سے ہی تو آج اس مقام پر کھڑے ہیں، مسائل نا انصافی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور اس کا حل مکمل آزاد عدلیہ ہی ہے .</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>تانیہ صاحبہ جان چھوڑ دینے کی وجہ سے ہی تو آج اس مقام پر کھڑے ہیں، مسائل نا انصافی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور اس کا حل مکمل آزاد عدلیہ ہی ہے .</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
