پاکستانی جرگہ

Tuesday,24 March 2009
از :  
زمرات : پاکستان

افتحار چوہدری اپنے عہدے پر بحال ہو چکے ہیں، اور بطور چیف جسٹس انہوں نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے ۔ پاکستانی لوگ بڑے “بھولے” ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ شائد پاکستان میں دائر ہونے والے ہر مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس خود کریں گے، اور اُن کے ساتھ انصاف ہو گا ۔ چیف جسٹس ایک شخص ہیں، جبکہ عدلیہ ایک پورا ادارہ ہے ۔ میرا ماننا یہ ہے کہ صرف چیف جسٹس کی بحالی سے عدلیہ آزاد نہیں ہو گئی، البتہ عدلیہ کی آزادی کی سمت یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے ۔ آنے والے کل میں اگر چیف جسٹس حکومتی اقدامات کے سامنے ڈٹ جانے والا نہ ہوا تو ایک بار پھر یہ سفر صفر سے شروع ہو جائے گا ۔
انگریزی مقولہ ہے “ Power corrupts, absolute power corrupts absolutely” جس کی تشریح یوں ہو گی کہ اگر ہم ایک ہی ذات میں تمام طاقت کو مرکوز کر دیں تو امکان یہی ہے کہ وہ ذات اس طاقت کا غلط استعمال کرے گی ۔ اس کا توڑ مغرب میں یہی کیا گیا ہے کہ اختیارات کی تقسیم یوں ہو کہ بجائے ایک شخص کو اختیارات سونپنے کے ادارے کو اختیارات دئے جائیں ۔ اگر صدر کو سب سے بڑا عہدہ دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی سینیٹ یا پارلیمنٹ کی صورت میں اس پر قدغن لگا دی گئی ہے کہ قوانین کے لئے ان سے منظوری ضروری ہے۔ اسی طرح عدالت کو اگر اختیارات دئے گئے ہیں، ساتھ ہی ان اختیارات کو تقسیم کر کے جیوری کو سونپ دیا گیا ہے، جہاں فیصلے جیوری کرتی ہے اور اس فیصلے کی روشنی میں جج قانون کے مطابق سزا یا جزا سناتا ہے ۔

انصاف سب کے لئے۔

انصاف سب کے لئے۔


اب پاکستان میں عدالتی نظام سے متعلق شکایات کا جائزہ لیں، تو سب سے پہلی شکایت انصاف میں تاخیر ہے، خاص طور پر سول کیسز بعض اوقات دہائیوں تک لمبے ہو جاتے ہیں، میرے اپنے ننھیال کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ تقریباً دس سال سے زائد عرصہ میں ہوا، وجہ ہائیکورٹ لاہور میں تھی، جہاں پورے پنجاب سے ایسے ہی مقدمات ایک جگہ اکٹھے ہوئے تھے، اور بعض اوقات ایک “پیشی” کے بعد اگلی تاریخ کئی کئی مہینے بعد کی ملتی تھی، اور اس تاریخ پر پھر لاہور جا کر عدالت حاضر ہونے پر اگلا فریق موجود نہ ہونے پر کئی ماہ بعد کی ایک اور تاریخ ۔ اب اس کا جائزہ یہاں کے تناظر میں لیا جائے، نیویارک شہر پانچ شہروں کو مِلا کر بنتا ہے، اور ہر شہر کی اپنی سپریم کورٹ ہے ۔ اب اگر آپ کو کسی عدالتی کاروائی کا سامنا ہے تو آپ کا فیصلہ اپنے شہر میں ہی نپٹا دیا جائے گا، اس کے خلاف اگر اپیل کرنی ہے تو بھی اس کا فیصلہ اسی شہر کی عدالت میں ہی مکمل ہو گا ۔ صرف کسی وفاقی مقدمہ کی صورت میں شائد آپ کو اپنے علاقہ سے باہر کسی عدالت میں جانا پڑے ۔ ان شکایات کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم پاکستان میں ہر ضلع میں ہائیکورٹ قائم کی جائیں، اور ہر ضلع کا فیصلہ اسی ضلع کی عدالت میں ہو نہ کہ لاہور، کراچی،کوئٹہ، پشاور یا اسلام آباد ۔ اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی تقسیم ہو جائے گا اور مقدمات نمٹانے کی رفتار بھی تیز رفتار ہو گی ۔
دوسری عام شکایت جج حضرات و خواتین کی کرپشن ہے، یہ کرپشن رشوت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، اور ججوں کو ڈرا دھمکا کر بھی کی جاتی ہے ۔پاکستان کا مسلہ یہ ہے کہ آزادی تو حاصل کر لی ہے، لیکن پولیس اور عدالتوں کے قوانین وہی ہیں جو ایک غلام ہندوستان پر نافذ کئے گئے تھے، یا انہی قوانین کی بنیاد پر نئے قوانین اخذ کئے گئے ہیں، جن کا مقصد عوام کو کی خدمت سے زیادہ انہیں دبا کر رکھنا تھا، عدالتوں میں مرضی کے جج لگوا کر مرضی سے کسی کو باغی قرار دے کر فیصلے لینا تھا، اور یہی آج تک چلتا آ رہا ہے ۔ اس کا حل صرف ایک ہے کہ ہم اپنی عدالتوں میں پنچائت یا جرگہ نافذ کریں ۔ اس سے پہلے کہ آپ جرگہ یا پنچائت کا نام سن کر ہتھے سے اکھڑ جائیں، یہ تحریر پڑھنا مفید ہو گا ۔ خود غور کریں کہ ایک جج کی بجائے جب ایک مقدمہ کے ثبوت پندرہ سے اکیس افراد کے سامنے پیش کئے جائیں گے، تو کیا ایک فرد کو کرپٹ کرنا مشکل ہے یا پندرہ افراد کو؟ جب پندرہ افراد بھی انجانے ہوں، عام لوگ ہوں، جنہیں ثبوت دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ یہ جو شخص جس نے کسی راہ جاتی عورت کو لوٹا ہے، اگر میں اسے چھوڑ دوں گا تو کل کو میری بہن، میری بیٹی، ماں یا بیوی اس کا شکار ہو سکتی ہے ۔ آپ کیا کہتے ہیں وہ عام بندہ اسے رشوت لے کر چھوڑ دے گا؟ میرا ایسا خیال نہیں ہے ۔ میرا یہ یقین ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر عدلیہ کو حقیقی معنوں میں آزاد کروانے کی ضرورت ہے، اور غریب آدمی کو انصاف فراہم کروانے کے لئے ضروری ہے کہ غریب آدمی کو عدلیہ کا لازمی جزو بنایا جائے ۔ ہمارے حکمران کبھی نہیں چاہیں گے کہ حقیقی معنوں میں عدلیہ آزاد ہو، اس کے لئے بھی تحریک عوام کو چلانا ہو گی، نہیں تو کیا پتہ اگلا چیف جسٹس افتحار چوہدری جیسا ہو کہ ڈوگر جیسا؟

تبصرہ جات

“پاکستانی جرگہ” پر 11 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. میرا خیال ہے اب عدلیہ کی جان چھوڑ دینی چاہئے ہمارے بہت سے مسائل پڑے ہیں ۔ اور آپ نے درست کہا کہ ہم بہت بھولے ہیں ۔ انصاف غریب کے نصیب میں کہاں

  2. تانیہ صاحبہ جان چھوڑ دینے کی وجہ سے ہی تو آج اس مقام پر کھڑے ہیں، مسائل نا انصافی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور اس کا حل مکمل آزاد عدلیہ ہی ہے .

  3. نعمان says:

    محترمہ شہید ہونے سے پہلے عدلیہ کی آزادی کی بات کرتی تھیں اور کبھی عدلیہ کی آزادی کو ججز کی بحالی یا ججز کی بحالی کو عدلیہ کی آزادی سے پیوست نہ کرتی تھیں.

    میں ججوں کی بحالی کو نامناسب خیال کرتا ہوں. میرا خیال ہے ان تمام ججز کو اب ازخود استعفی دے دینا چاہئے۔ کیونکہ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ان کی طویل محاذ آرائی پچھلی قومی اسمبلی اور ایوان صدر کے ساتھ ان کی چپقلش اور بعد ازاں ان کی تحریک۔ اب ان کی ہمدردیاں پہلے سے زیادہ مشکوک ہیں جو ہوسکتا ہے انصاف کی راہ میں حائل ہوں۔ جیسے اگر شریف برادران کی بحالی، یا پنجاب میں گورنر راج کے غیر قانونی ہونے کا مقدمہ اگر عدالت میں پیش ہو اور بنچ میں نئے حلف یافتہ جج شامل ہوں۔ میرا خیال ہے اگر عدلیہ کی آزادی کی کوششیں پہلے سے کی جاتیں تو ایسی محاذ آرائی کی نوبت کبھی نہیں آتی. لیکن اب چونکہ محاذ آرائی ہوچکی ہے اور ایک فریق اپنا موقف منوا چکا ہے تو اخلاقی طور پر وہ اب اس عہدے کے لئے نامناسب ہوگئے ہیں۔

    مجھے آپ کی پوسٹ میں لفظ جیوری کےبجائے پنچایت یا جرگے کا استعمال اچھا لگا. اگر آپ جیوری کہتے تو شاید اس کے غیر اسلامی ہونے کا فتوی آجاتا۔ جرگے اور پنچایتیں ہمارے یہاں غیر اسلامی نہیں سمجھی جاتیں۔ قانون ساز اداروں کو اس پر توجہ دینا چاہئے لیکن جرگوں کا کام سزا دینا نہ ہو بلکہ مقدمات کی سماعت ہو اور خطاوار کا تعین کرنا ہو جیسا کہ مغرب میں رواج ہے۔ سزا کا انتظام آئین پاکستان کی تعزیرات کے تحت ہی ہو اور اس کا فیصلہ منصف کے ہاتھ ہی ہو۔

    ججوں کے محاسبے کا بھی خاطر خواہ انتظام وضع ہونا چاہئے۔ اور ان ججوں کو جنہوں نے کسی بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہو کسی سپریم کونسل میں بلایا جائے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی جائے کہ انہوں نے آئین پاکستان سے انحراف کیوں کر کیا۔ دوسرا ان ججوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا جائے جنہوں نے جنرل مشرف کو آئین میں ترمیم کی غیر قانونی اجازت، پاکستان پر حکمرانی کا غیر آئینی حق عطا کیا۔ اس کے علاوہ ذیلی عدالتوں کے ججز کا بھی محاسبے کا خاطر خواہ انتظام ہونا چاہئے۔ عدالتی نظام میں کرپشن کی بیخ کنی کی ابتدا نیچے کے بجائے اوپر سے ہونی چاہئے اور سب سے پہلے عدلیہ کی آزادی کی نام نہاد تحریک کے سالاروں کو خود کو احتساب کے لئے پیش کرنا چاہئے۔

    • نعمان، میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ اس سارے واقعہ میں افتخار چوہدری انصاف پسندی کے آئیکون بن گئے تھے،اگر وہ بحال نہ ہوتے یا ایسی تحریک نہ چلتی تو مستقبل میں بھی پاکستانی بیوروکریسی جو اپنے آپ کو کسی کا جوابدہ نہیں سمجھتے، اور اگر اصل میں افتخار چوہدری کی برطرفی کا جائزہ لیا جائے تو یہی بیوروکریسی ہی وجہ تھی، جس کی وجہ سے پرویز مشرف نے کہا کہ انتظامی امور میں رخنے ڈالے جا رہے تھے۔ اگر افتخار چوہدری بحال نہ ہوتے تو مستقبل میں بھی جج دوسرے اداروں کے دباو میں رہتے ۔
      اس سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے ججوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی منظوری سے چنا جائے، اور بعد میں اس کو نوکری کا یا برطرفی کا ڈر نہ ہو ۔ امریکہ کی دو سو سال سے زیادہ کی تاریخ میں سترہ چیف جسٹس آئے ہیں، وجہ کہ سپریم کورٹ کے جج ریٹائرڈ نہیں ہوتے، ان کا چناو صدر کرتا ہے، بعد میں کئی دن تک سینٹ کی کمیٹی ان کا محاسبہ کرتی ہے، جو پبلک ہوتا ہے، اس بار والے کو تو میں نے خود دیکھا ہے، اور جب ان تمام مراحل میں سے کوئی کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ تمام عمر کے لئے جج ہے، جب تک وہ خود استعفیٰ نہیں دے کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، برطرف نہیں کر سکتا، اگر اس پر بدعنوانی کا الزام ہے تب سینیٹ میں اس کا مقدمہ سنا جاتا ہے ۔ اگر ہم پاکستان میں بالکل ایسا نظام نہیں بنا سکتے تو کیا اس کے قریب بھی نہیں بنا سکتے کہ سپریم کورٹ کے جج حضرات کو اندیشہ نہ ہو کہ یہ فیصلہ کرنے سے ان کی نوکری چلی جائے گی ۔
      اور محترمہ کا انصاف کی بات کرنا صرف ایک سیاسی شعبدہ بازی تھی، کہ ملک بھر میں ججوں کے بارے میں مثبت سوچ تھی محترمہ بہرحال ایک زیرک سیاست دان تھیں جو اس کا استعمال کر رہی تھیں، نہیں تو اپنے دور حکومت میں نسیم حسن شاہ کو انہوں نے بھی کافی رگڑا دیا تھا ۔

  4. آپ کی بات نہ صرف قابل غور ہے بلکہ عوامی سطح پر چلنے والی مختلف تحریکوں کی ناکامی کا ایک اہم سبب بھی جس میں تحریک کے اختتام پر کسی “شخصیت” یا “علامت” کی بحالی کو تحریک کا مرکزی نقطہ بنایا گیا نہ کہ امریکہ کے سول رائٹس ایکٹس کی طرز پر کسی مستقل قانون قانون کے لیے تحریک چلائی گئی جس کے ثمرات آئندہ کئ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں. اور آپ کی بات درست ہے کہ ہمارے سسٹم میں جہاں ججز اور سائنسدان بھی ریٹائر کیے جاتے ہیں اتنی بڑی تحریک کا فائدہ چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوسکے گا اس لیے قانون سازی کے لیے تحریک چلانا زیادہ ضروری ہے نہ کے کسی شخص یا عہدے کی بحالی کی تحریک اور یہ دائرے میں سفر کرنے کی بنیادی وجہ.

  5. نعمان says:

    یہ تبصرہ آپ پڑھنے کے بعد مٹا سکتے ہیں. میں ا بنٹو لنکس فائر فوکس پر آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہوں میرے پاس نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ، اور ٹاہوما فانٹ انسٹال ہیں لیکن آپ کے بلاگ کا ٹیکسٹ میں پڑھ نہیں پارہا جس کی وجہ آپ کی اسٹائل شیٹ میں فانٹس کا انتخاب ہے جو کہ یہ ہے:
    ‘Alvi Nastaleeq’,’Alvi Lahori Nastaleeq’,Arial;

    میرا سوال یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے کے لئے ہمارے کمپیوٹر پر کم از کم کتنے اردو فانٹ نصب ہونا چاہئے؟ اور کیا اردو میں ویب صفحات پیش کرنے والوں کو اس بات کا خیال نہیں رکھنا چاہئے کہ ان کے قارئین کے کمپیوٹرز پر کونسے فانٹ انسٹال ہونے کا امکان قوی ترین ہے اور اس فانٹ کو اسٹائل شیٹ میں آخری میں شامل کردیا جائے تاکہ اگر علوی نستعلیق علوی لاہوری اور ایریل نہ ہوں تو ٹاہوما، یا نفیس ویب نسخ میں ٹیکسٹ پڑھا جاسکے؟

    • نعمان میں یہ بات جانتا ہوں، اور باقی فانٹ کو نکالنے کا مقصد ویب پر نستعلیق فانٹس کا فروغ ہے ۔ اب دیکھیں مجھے تو اس بات پر ہی حیرت ہے کہ آپ کے پاس علوی یا جمیل نستعلیق موجود نہیں ، فانٹ کی دوسری ترجیع ایریل بھی اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے رکھی گئی ہے، ویسے ونڈوز پر تحریر ایریل میں درست دکھتی ہے البتہ لینکس میں تھوڑا مسلہ ہے ۔
      میرا خیال ہے اب نستعلیق قابل استعمال شکل میں موجود ہے، اور ہمیں اس کو فروغ دینا چاہیے ۔

  6. آصف says:

    نعمان:
    اگر یہ جج جن کی جرات کا تمام دنیا نے اعتراف کیا ہے استعفی دے کر گھر چلے جائیں تو کیا آپ عدالتوں کو عبدالحمید ڈوگر جیسوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟

    اگر آپ کو ملازمت سے ناجائز نکال دیا جائے اور آپ عدالتی جدوجہد سے اپنا حق واپس لے لیں تو کیا آپ صرف اس وجہ سے اپنی ملازمت سے استعفی دے دیں گے کہ اب آپ کے اپنے باس سے اچھے تعلقات نہیں رہے؟ کیا تمام مہذب لوگ اس باس سے یہ تقاضا نہیں کریں گے کہ اسے اپنے کیے پر شرمندہ ہونا چاہئیے؟

    اگر آپ انٹرنیٹ پر “Lawyers’ Movement” لکھ کرتلاش کریں تو جو کروڑوں کی تعداد میں صفحات نظر آئیں گے وہ صرف پاکستان کی اس صد افتخار تحریک کے متعلق لکھے گئے ہیں۔ آپ کو شاید علم نہ ہو کہ اس تحریک نے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو کتنی عزت بخشی ہے۔ ہمیں ان مہذب لوگوں نے ہمارے دفاتر میں آکر مبارکبادیں دی ہیں کہ ایک تیسری دنیا کے ملک نے ایک آمر کے اقدام کے خلاف ایسی تاریخی جدوجہد کی ہے۔

    دوسری طرف آپ کے خیالات ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ غلطی پر ہیں؟ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ افتخار چوہدری جیسا آدمی جسے ساری دنیا نے عزت دی ہے وہ اتنے کمزور کردار کا مظاہرہ کرے گا جیسا آپ نے لکھا ہے؟ آپ نہیں سمجھتے کہ آپ کو اس معاملے کو مقامی سطح سے اٹھ کر (پاکستانی نہیں) عالمی تناظر میں دیکھنا چاہئیے؟

    آصف

  7. میرا اصل مقصد یہ ہے کہ اب جج بھال ہو گے جسٹس افٹخار نے اپنا کام سمبھال لیا ۔ اب ہیں آگے کا سوچنا ہے ۔ ملکی حالات کو ٹھیک کرنا ہے ۔ جو کے پی پی پی کے دور میں تو نہیں لگتے کہ ٹھیک ہو سکیں ۔اگر ملک ہو گا تو عدلیہ بھی ہو گی دوسری تیسری پارٹیاں بھی ۔

  8. جعفر says:

    جہانزیب صاحب .. آپ کا نقطہ نظر معروضی اور جذباتیت سے دور ہے اور اس میں مسئلے کے حل پر بحث کی گئی ہے جو اس بلاگ دنیا میں ایک عجوبہ ہے.. میں اس پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں.
    آپ کا کہتا بالکل بجا ہے کہ اگر ادارے نہ بتائے گئے اور ان کو مضبوط نہ کیا گیا تو کل کوئی بھی ڈوگر آکر ساری جدوجہد غارت کر دے گا.
    جیوری یا جرگے کی تجویز بھی بالکل درست ہے.
    تبصروں میں بھی زیادہ تر وہی جذباتیت ہے جو ہمارا قومی نشان بن چکی ہے ہمارا ممدوح ہمیشہ فرشتہ ہوتا ہے اور مخالف شیطان… شاید ہم انسانوں سے معاملت کرنا مناسب نہیں سمجھتے….
    اتنی اچھی اور مفید تحریر پر ایک بار پھر مبارکباد…

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔