فوجی عدالت

Thursday,1 October 2009
از :  
زمرات : پاکستان

ہاتھیوں کی لڑائی میں فصلوں کے نقصان کا سُنا تھا، ویڈیو شئرنگ ویب سائٹ کی بدولت دیکھ پہلی دفعہ رہے ہیں ۔طالبان کے ہاتھوں ایک لڑکی کو سرعام کوڑے مارنا ظلم تھا تو ذیل کی ویڈیو میں دکھایا گیا فوجی انصاف اُس سے کہیں بدتر ہے ۔

سوال وہیں ہے کہ معاشرے میں انصاف ہونا چاہیے، لیکن انصاف کا مطلب صرف چیف جسٹس کی بحالی نہیں، بلکہ ایسا نظام کا نفاذ ہے جس میں لوگوں کو یقین ہو کہ ان پر ظلم کرنے والے کو پوچھا جائے گا ۔

تبصرہ جات

“فوجی عدالت” پر 24 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. پُوری ویڈیو دیکھنے کی ہِمّت نہیں ہُوئ مارے ڈر کے کہ نا جانے آگے اور کیا کُچھ دیکھنے کو مِلے شرم آتی ہے اب تو اپنی فوج کے کارناموں پر
    ہماری فیملی میں ہر گھر میں سے کوئ نا کوئ آرمی یا ایئر فورس میں ہے نا صِرف ابھی بلکہ دادا پڑدادا تک فوج میں ہوتے تھے اور بہُت عِزّت کی نِگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکِن اب تو کِسی کو بھی بتانے میں شرم محسُوس ہوتی ہے حالانکہ ابھی بھی دیکھا جائے تو عام جوان تو بس حُکم کی تعمیل کر رہے ہوتے ہیں مگر بات وُہی ہے کہ بد سے بدنام بُرا ،ایسے میں ٹھپہ تو لگتا ہی ہے کیا کہا جائے اب؟

  2. خرم says:

    اس ویڈیو کے بارے میں پہلے ہی کافی کچھ کہہ چکا ہوں۔ ہم لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں اور کیوں لائے گئے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ یہ “عام“ لوگ نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر کم از کم طالبان کے ساتھ روابط رکھنے یا پھر ان کے متعلق جانکاری رکھنے کا شک ہوتاہے۔ ان میں سے کسی کا بھائی، بھتیجا، بھانجا، دوست، پڑوسی طالبان کا ساتھی ہوتا ہے۔ اگر فوج کو آپریشن کامیاب کرنا ہے اور پھٹنے والے انسانی پٹاخوں کو روکنا ہے تو ان سے معلومات اگلوانی ہوتی ہیں تاکہ ایسے مواقع کا سدباب ہوسکے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ ایک طالبان کے حامی کو پکڑ کر لائیں گے اور وہ “مؤمن“ ہر سوال کا سیدھا جواب دے گا؟ جی نہیں بھائی وہ انگریزی سبق پڑھنے کے بعد ہی ببولتے ہیں۔ دس بندوں کو پھینٹی لگتی ہے تو ان میں سے ایک بندہ بولنا شروع کرتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہم لوگ ان لوگوں کو پڑنے والی مار پر اتنے جذباتی کیوں ہورہے ہیں؟ یہ فوجی انصاف نہیں، معلومات حاصل کرنے کا طریقہ ہے اور ساری دنیا میں رائج طریقوں میں سے سب سے بے ضرر۔ یہ معلومات بھی کسی خزانے کے یا بینک اکاؤنٹ کے بارے میں نہیں، ظالمان کے بارے میں حاصل کی جارہی ہیں تاکہ جو عام لوگ ہیں ان کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ظالمان کا قلع قمع کرکے۔ اس میں اتنے بے چین ہونے والے کون سی بات ہے؟ لڑکی کو سرعام کوڑے مارنے والا واقعہ اس کے مماثل کیسے ہوسکتا ہے میری سمجھ میں نہیں آیا بھائی؟

  3. خرم says:

    ویسے بھی جس فوجی کے اپنے ساتھی ذبح ہوئے ہوں وہ طالبان کے حمائیتیوں سے معلومات اگلوانے کے لئے اگر ایسا سلوک کرتا ہے تو داد کا مستحق ہے۔ اگر ہم آپ ایسی صورتحال میں ہوتے تو اگلے کو جان سے پہلے مارتے، سوال جواب بعد میں کرتے۔ 🙂

  4. sadia saher says:

    salam

    thora sa dekha koi tabsara nahi kar sakti . khuram bhai aap bhi theek hain magar yeh sab dekhne ki himat nahi  

  5. خرم says:

    سعدیہ بہنا بالکل سمجھ میں آتی ہے آپ کی بات لیکن یہ سب کے دیکھنے کو ہے بھی نہیں۔ ایسی ویڈیوز کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب کسی “ظالمانی حامی“ کو پکڑا جائے تو اس پر کم محنت کرنا پڑے۔ مجھے تو اس ساری ویڈیو میں وہ منظر سب سے اچھا لگا جب افسر اپنے ماتحت کو ڈانٹ رہا ہے کہ “جب میں نے کہا ہے کہ رُک جاؤ تو رُک جاؤ“۔ یہ کوئی بے ہنگم ہنگامہ بد تمیزی نہیں ہے بلکہ ایک مقصد کے حصول کے لئے کاروائی ہے جس کا مقصد صرف عوام کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر ہمارے عوام اپنے بھائی، بیٹوں، بھانجوں، بھتیجوں کے خلاف رضاکارانہ طور پر مخبری کرتے ہوں تو اس کی نوبت ہی نہ آئے ۔ہم جانتے ہیں کہ اپنے پیاروں کو بچانے کے لئے اوروں کے کتنے پیارے جان سےگئے، ہم اس حساب میں کافی کمزور ہیں سو یادداشت کی بہتری کی اس کے سوا کوئی صورت بھی نہیں ہوتی۔

  6. shaper says:

    what the hell…. what allow this guy to do something like that.

  7. اس ویڈیو میں صرف ایک ٹیکنیکل غلطی ہے اور وہ یہ کہ عام طور پر ایسی کارروائیاں بند کمروں میں کی جاتی ہیں اور ان میں اگر کپڑے اتار کر اور الٹا کر کے چھترول کر دی جائے تو بھی کسی کو کچھ جرءات نہیں ہوتی کچھ کہنے کی۔ اور چھترول تو بڑا چھوٹا لفظ ہے کیا ہی طبیعت کو صاف کر دینے والی کٹائ ہوتی ہے جسے تھرڈ ڈگری تحقیقات کہتے ہیں۔ بیانوے کے کراچی آپریشن میں اس سے بھی زیادہ انسانیت سوز واقعات عام کارروائ کا حصہ ہوتے تھے۔ جبکہ اس وقت تو اس پائے کی کوئ دہشت گردی بھی نہ تھی جسے طالبان کہتے ہیں۔ بہر حال جنگ اسی کا نام ہے۔
    آپکی وجہ سے اس ویڈیو کو دیکھنا پڑا، ورنہ کسی کراچی والے اور کراچی یونیورسٹی میں رہے ہوئے شخص کے لئے اس میں کیا ہے۔ بس چھترول پڑ رہے ہیں اور ٹھوکریں۔

  8. میں خرم کی بات سے 100 فیصد متفق ہوں .. یہ تو انٹیروگیشن چل رہی ہے مقدمہ نہیں جو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے حکومت پاکستان کی اجازت سے دہشت گردوں کے خلاف کر رہے ہیں اور پاکستان میں انٹیروگیشن کا واحد رائج طریقہ ہے جو اب بین الاقوامی شہرت اختیار کرچکا ہے.. اس کا تو پہلی ویڈیو سے کچھ تعلق نہیں جس میں دہشت گرد ریاست میں ریاست بنائے اپنا قانون نافذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں.. جن لوگوں کو ان پر ترس آتا ہے انہیں ان پر ترس آنا چاہیے جن کو پلک جھپکتے میں یہ مجاہد خود کش بموں سے اڑاتے ہیں… جن غریب پولیس والوں کی اموات صرف اس لیے ہوگئی کیونکہ وہ ان کے جہاد کے وقت کسی ہوٹل یا عمارت کی سیکیورٹی پر مامور تھے. یہ مجاہد بڑے فخر سے لوگوں کے گلے پر چھریاں پھیرتے ہیں اور اس کی ویڈیو بنا بنا کر دنیا کو دھمکاتے ہیں.. اور یہ ویڈیوں تو لگتا ہے خصوصی طور پر بنائی گئی ہے تاکہ اپنا پکایا کھانا طالبان خود بھی چکھ سکیں.

  9. نعمان says:

    میں راشد کامران اور خرم کے تبصروں سے متفق نہیں ہوں۔ میری رائے میں تشدد اور فوجی کاروائی میں فرق ہوتا ہے۔ ہماری نام نہاد ایجنسیاں اس بات کی ذمے دار ہیں کہ وہ فوج کو یہ معلومات فراہم کریں جو فوج ان لوگوں پر تشدد کے ذریعے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اگر وہ معلومات فوری دستیاب نہیں ہے تو اس کے بغیر بھی فوجی کاروائی جاری رہ سکتی ہے۔ اور یہ فرض کرلینا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ طالبان ہیں یا ان کے ہمدرد ہیں بیوقوفی ہے۔ کوئی بھی شخص جو ریاستی تحویل میں آجاتا ہے اسے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ نہ صرف پاکستان کے قانون میں بلکہ عالمی قوانین میں بھی۔ اور غیر مسلح لوگوں پر تشدد انسانیت سوز ہے۔

    میں منتظر ہوں کہ کب پاکستان کے انسانی حقوق اور آزاد عدلیہ کے حامی ادارے آپریشن راہ راست میں گرفتار ہونے والوں کو عدالتوں میں پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  10. ریحان says:

    اللہ ہی جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے ۔۔ آپ کی نظروں سے یہ با زبان انسانوں پر ظلم کی ویڈیو گزری میں تو بہت سی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں جہاں با زباں سلجھے انساں بے زباں جانوروں پر کیسے ظلم کرتے ہیں ۔

    ویڈٰیوز بلاگ کرنے سے پہلے تحقیق کر لیرنی چاہیے ۔۔ تھوڑی زماداری بھی ہونی چاہیے ۔۔ آگے ہمارا کم ستیاناس ہوا پڑا ہے ۔

    مجھے یہ کشمیر کا علاقہ معلوم ہوتا ہے ۔۔ پاکستانی آرمی گر ایسا کرے گی بھی تو ان کا کورٹ مارشل ہو جائیگا کیونکہ یہ سب کھلم کھلا انٹرنل افئیرز میں مداخلت والی بات ہے ۔

    سوال بلاگ کرنے کا شوق ہی ہے ہر کسی کو ۔۔ بھیا اس ویڈیوز کے منظر عام پر لانے سے آپ اور اور وہ میڈیا ایک ہی ہوگیا نا جس نے خاتون کی ویڈیو بہت مہینوں بعد جا کر جاری کی تھی ۔

  11. Javaid says:

    اتنی مار ہميں بچپن ميں پنجاب کے سکولوں ميں پڑھ جاتی تھي- ہم سے کسی نے ہمدردی نہيں کی کيونکہ ہم ”مجاہدين” کے کوٹہ پہ نہيں آئے تھے-

  12. دہشت گردوں کے ساتھ تو ایسی فوجی کاروائی ہو نی ہی چاہیے.

  13. کنفیوز کامی says:

    ادلے کا بدلہ بچپن میں اسی لیے پڑھا دیا جاتا ہے تاکہ آگے جا کر پوچھنا سوچنا نہ پڑے

  14. میں نعمان صاحب کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، کون جانتا ہے یہ کون لوگ ہیں اور ان کو کیوں مار رہے ہیں۔ یہ لوگ طالبان کے حامی ہیں یہ صرف ایک مفروضہ ہے، ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کا اک اک آدمی جانتا ہے کہ پاکستان مخالف طالبان کون ہیں، بس وہی جو امریکی مفادات کا تحافظ کر رہے ہیں، یہ داڑھیوں والے افراد تو امریکی نہیں، سیکورٹی ایجنسیاں اور فوج جانتی ہے ہے کہ امریکی ایما پہ کچھ ہو رہا ہے تو وہ امیریکیوں کو کیوں نہیں پکڑتے، یا بڑے بڑے جرنیل امریکی ڈرون حملوں پر چپ کیوں سادھے ہوے ہیں
    ہمارا وزیر خارجہ بیان دیتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے پاکستان اسلحہ کی سمگل رکوائے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ سیکورٹی فورسز کو یہ معلوم نہ ہو کہ اصل مجرمان کون ہیں۔ مقامی افراد پر اس طرح تشدد کرنے سے کیا سچائیاں اگلوائی جا رہی ہیں۔ جو آئی ایس آئی یا فوج کے علم میں نہیں۔
    اصل میں یہ صرف اور صرف دین کی جنگ ہے، نہ امریکہ کی، نہ پاکستان کی، یہ اسلام اور اینٹی اسلام کی لڑائی ہے۔

  15. خرم says:

    میں نے آج دوبارہ دیکھی ہے ساری ویڈیو۔ ان سے صرف ایک سوال پوچھا جارہا تھا۔ “تم نے جو کیا ہے ہمیں معلوم ہے۔ اب اپنے باقی ساتھیوں کی نشاندہی کرو“ ساتھ ایک سویلین بندہ بھی کچھ پشتو میں کہہ رہا تھا انہیں۔ غالباً یہی کہہ رہا ہوگا کہ بتادو اور جان بچاؤ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ویڈیو آپریشن کے شروع کی ہو۔ بہرحال اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

  16. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ بات عالمی سطح پر موضوع گفتگو ہے کہ انٹیروگیشن کے لیے اختیار کیے گئے طریقے انسانیت سوز ہیں اور اس کے لیے کیا کیا جانا چاہیے.. آج کل کی صورت حال میں انفارمیشن اگلوانے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوتا اگر خصوصی اقدامات نا کیے جائیں اور عدالتی اور کاغذی کاروائی کے چکر میں پڑا جائے تو دہشت گرد مستقل عوامی مراکز میں پھٹتے رہیں گے..چار ایسے لوگ جن کے بارے میں مکمل یقین ہو کے ان کے پاس دہشت گردوں سے متعلق معلومات ہیں اور وہ جان بوجھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انہیں چھپا رہے ہیں تو ان کی چھترول سے اگر چار ہزار کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں تو سودا برا نہیں ہے… بصورت دیگر دہشت گردوں کے ہاتھ جو لگتا ہے اس کے گلے پر سیدھا چھرا پھیرا جاتا ہے..

  17. میں کافی حد تک خرم صاحب کی کہی گئی بات سے متفق ہوں. اس مار کو بہرحال آپ لڑکی کو سرِعام پڑنے والے کوڑوں اور معصوم انسانوں کو ذبحہ کرنے کی حرکات سے تمثیل نہیں دے سکتے.

    جہاں معاملہ ملک کی سلامتی اور حفاظت کا ہو وہاں ایسی مار کوئی بہت درجہ نہیں رکھتی. ہم اب شاید شدت پسندی کی دوسری حد کو چھونے جارہے ہیں اور فوج کے ہر عمل کو زیادتی سے تشبہیہ دینے کی کوششی کر رہے ہیں.

  18. عبداللہ says:

    اس وڈیو سے صاف صاف پتہ چل رہا ہے کہ سفید شلوار قمیض والا آدمی جو خود ایک پٹھان ہے فوج کا محبر ہے اور یقینا اس کی انفارمیشن پر ہی ان لوگوں کو پکڑا گیا ہے جن کے بھائی بند دہشت گردوں کے ساتھ ہیں اور وہ مارے محبت کے ان کے بارے میں بتا نہیں رہے میں بھی خرم اور راشد کامران کی رائے سے متفق ہوں اور عنیقہ کی باتوں سے بھی اتفاق کرتا ہوں،

  19. کچھ باتیں بڑی دلچسپ ہو گئی ہیں مثلاً خرم بھائی کی رائے میں اِن کا قصور کسی طالبان کا “بھائی، بھتیجا، بھانجا، دوست، پڑوسی” ہونا بھی ہو سکتا ہے ۔ اور راشد کامران کے مطابق یہ تفتیشی طریقہ کار اب بین الاقوامی بن چکا ہے، لیکن جاوید صاحب کے بقول چونکہ یہ طریقہ اکثر پر اسکولوں میں آزمایا جا چکا ہے اِس لئے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اب تک پکے یا دوسرے الفاظ میں ڈھیٹ ہو چکے ہوں اور اِس کا سوا وقت کے ضیاع کے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو ۔ چونکہ اِس قسم کی تحقیقات اور طریقہ سے انسانی پٹاخے روکے جا سکتے ہیں اِسے بہتر بنانے کے لئے کچھ گذارشات ہیں جو زیادہ اثر رکھتی ہیں ۔
    عموماً “مجرم” پر ایسی مار کا اُلٹا اثر بھی ہو سکتا ہے، ردعمل کے طور پر وہ زیادہ ڈھیٹ پن کا مظاہرہ پر بھی اتر سکتا ہے، جیسا کہ اس ویڈیو میں پہلے شخص کا رد عمل ہے، جس کا قصور شاید اُس کا کسی کا سالا ہونا سمجھ میں آ رہا ہے ۔ اِس سے بچنے کے لئے مجرم کی بجائے اُس کے سامنے اُس کے والد کی چھترول کرنے سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔
    اگر اِس سے بھی معلومات حاصل نہ ہو سکیں تو مجرم کے گھر کی خواتین کو بلا کر انہیں بے عزت کرنے کی دھمکی دی جا سکتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں برہنہ اور انتہائی ضرورت کے تحت ان سے جنسی زیادتی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، آخر ایسی تفتیش پہلے سابق مشرقی پاکستان میں آزمودہ بھی ہے اور اس کا نتیجہ بھی برآمد ہو چکا ہے۔

  20. عدنان says:

    السلامُ علیکم محترم
    یہ واقعی ایک قابل افسوس حرکت ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
    لیکن محترم ابھی فوج کی جانب سے اس ویڈیو کی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ آیا کہ یہ ویڈیو اصلی ہے یا نقلی ؟

  21. جعفر says:

    جہانزیب کی تفتیش کے بارے میں تجاویز بہت اچھی ہیں
    آخر امریکیوں نے بھی عراق اور افٹھانستان میں ایسی ہی تفتیش سے ”مثبت نتائج“ حاصل کئے تھے۔۔۔
    فرض کریں میں ایک دہشت گرد ہوں۔۔۔ اور میرے والد، بھائی، چچا، ماموں کو پکڑ کر ایسا سلوک کیا جاتا ہے تو مجھے کتنی عبرت حاصل ہوگی اور میں فورا تائب ہو کر فوج کے حضور ہتھیار ڈال دوں گا۔۔۔
    انسانی حقوق اور ان کے ٹھیکیدار زنہد باد
    پاک فوج (خاور کھوکھروالی) پائندہ باد

  22. MUNIB says:

    mei unsab dostun se jo bar bar “ye wohi log hain jinhun ne falan galat kaam kia ya falan taliban ke saath thay” ki rat lagai hui hai………… sawal ye hai ki ye wohi log kaise hogai? ye oth interrogatoin ho rahi hai…. ye aap or aap ki ARMY kon hoti hai fysla deni wali ki ye wohi log hain, agar ye masoom niklay toh? or agar kal ko koi BRIGADIER BILLA TV per aaker boley ki falan sawat operation galat tha or taliban jo galay kaat rahe thay wo bi jali thay ya ye ki wo afghanistan ki videos theen ya essi tarah ka koi or inkishaf karey toh aap log kis muu se samna karoge uper wale ka??
    es mai koi shak nahi ki TALIBAN ne boht ziada terrorism kia magar agar yahi terorism ARMY ne bi kerna hai ordinary citizens ke saath (just because wo itney incompetent hain ki intelligence gather nahi ker saktay or en gareebun per tashadud kerke zabardasti ugulvana chahtey hain ya manvana chahtey hain) toh humne aisi ARMY ka achar daalna hai??

  23. فوجیوں کا ظُلم تو ایک طرف مجھے ان مبصرین کی عقل پر رونا آ رہا ہے جو اس نظام کے حق میں ہیں ۔ جب ان کی اپنی جان پر بنتی ہے تو سب غلط ہوتا ہے اورجب اُس پر ظُلم ہو جسے یہ اچھا نہیں سمجھتے تو سب درست ہوتا ہے ۔ کونسا قانون اور کونسا دین ہے جو اس بہیمیت کی اجازت دیتا ہے

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔