آپ کتنے بہادر ہیں؟

Saturday,17 October 2009
از :  
زمرات : پاکستان

تنہائی اور نیٹ گردی میں راز داری کی قدر مشترک ہے، کسی دوسرے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اِس دوران آپ کیا گل کھلاتے ہیں ۔ جو صارف پچھلے سات آٹھ سال سے مسلسل نیٹ گردی کی عادت میں مبتلا ہیں، وقت کے ساتھ ان کی ترجیحات میں بھی یقیناً بہت تبدیلی آئی ہو گی ۔
میری نیٹ گردی میں اب تقریباً نوے فی صد وقت یو ٹیوب پر گزرتا ہے، اتنا کہ میں گوگل میں تلاش کرنے سے پہلے میں یو ٹیوب میں تلاش کرتا ہوں ۔ بالفاظ دیگر میری نیٹ گردی کو یو ٹیوب گردی کا نام دیا جا سکتا ہے ، جس کا عکس اب بلاگ پر بھی اکثر ویڈیوز کی صورت نظر آتا رہتا ہے ۔
Fear Factor کسی زمانہ میں ٹیلی ویژن پر میرا پسندیدہ پروگرام تھا، سو ایک دِن اس کی ویڈیوز دیکھتے ہوئے متعلقہ ویڈیوز میں ایک باپردہ لڑکی کو دیکھ کر تجسس سے اُسے کھولنے پر خلاصہ کچھ یوں نکلا “آپ کا Dare ہے کہ اس بھینس کے ہونٹوں پر Kiss کرنا ہے”
لو جی Fear Factor کا دیسی چربہ بنام Living on the Edge آپ کے سامنے ہے ۔ پھر مزید ویڈیوز دیکھنے پر آیڈیشن کی ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں محب وطن پاکستانی لڑکی، پھر ایسی لڑکی جو کیمرہ کے سامنے وہ سب کرنے کو بہادری کہہ رہی تھی جو بقول اس کے باقی کیمرہ کے پیچھے کرتی ہیں اور سب سے بہترین حیدر آباد کا لڑکا جو برہنہ حیدرآباد میں دوڑ لگانے پر نہ صرف تیار تھا بلکہ آڈیشن میں باقاعدہ طور پر برہنہ ہو بھی گیا ۔
اور میں یہ سوچ رہا تھا، کہ پاکستان ہے تو میں کہاں رہتا رہا ہوں ۔ اور جو امریکہ میں کھلم کھلا میڈیا پر نہیں دکھایا جاتا وہ پاکستانی میڈیا پر کیسے چل رہا ہے؟ بلکہ شائد مقبول بھی ہے ۔
خیر اب جو اس بہادری کی ویڈیو ملی ہے، اسے دیکھتے ہیں ۔

کیا پاکستان میں میڈیا کے لئے کچھ ضوابط ہیں؟
زنا بالجبر کے اعتراف پر قانون کی کیا ذمہ داری ہے؟

تبصرہ جات

“آپ کتنے بہادر ہیں؟” پر 11 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. جرات اور بہادری کے نام پر یہ ایک تھرڈ کلاس پروگرام ہے، جس میں اکثر اخلاق سے گرے ہوے واقعات دکھائے جاتے ہیں یا ان پر بات ہوتی ہے۔
    کبھی کوئی مرد مجاہد خود کو آگ لگا کرکچھ دیر آگ کی جلن برداشت کرتا ہے۔
    کبھی کوئی جادو گر سڑک کی دوسری طرف کھڑی کسی کی بہن بیٹی کو بے ہوش کر دیتا ہے اور وہ بے چاری وہیں سڑک پر گر جاتی ہے۔
    ایک لڑکی اپنی ماں کو تھپڑ مارنے کے واقعے کا ذکر بڑے فخر سے کرتی ہے۔
    ایک وہ واقعہ جس کا آپ نے ذکر کیا۔
    پتہ نہیں کیوں اے آر وائی کے اس پروگرام کو بے پناہ آزادی دی گئی ہے، کوئی سنسر بورڈ بھی اس کا نوٹس نہیں لیتا۔ اس پروگرام کے علاوہ بھی پرائیوٹ چینلز کے جو پروگرام ہیں ان میں بے حیائی عروج پر ہے، اگر مغربی تہذیب اختیار کر کے ہم روشن خیال، ماڈرن یا ترقی یافتہ ہو جائیں گے تو پھر ایسی ترقی کسی کام کی نہیں۔

  2. یہ آخری سوال آپ نے اپنے آپ سے ہی پوچھا ہو گا.

  3. میڈیا پر آنے کیلئے نوجوان ایسی حرکات کرتے ہیں .

  4. arifkarim says:


    کیا پاکستان میں میڈیا کے لئے کچھ ضوابط ہیں؟
    زنا بالجبر کے اعتراف پر قانون کی کیا ذمہ داری ہے؟

    کس قانون کی بات کرتے ہیں جناب؟ ہمارے ہاں تو جنگل کا قانون ہے: جسکی لاٹھی اسکی بھینس۔

  5. نعمان says:

    کس قدر ہولناک ویڈیو ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ریپ کا اعتراف کرنے والا اس پر ذرہ برابر بھی شرمندہ نہیں ہے۔

  6. میں نے کوئی وڈیو تو نہیں دیکھی البتہ جو کچھ آپ نے اور مبصرین نے لکھا ہے وہ میرے لئے ضرورت سے زیادہ ہے ۔ بزرگ کہتے تھے اور میں نے درست پایا کہ ہر دور میں رذیل لوگ موجود رہے ہیں ۔ آج دور وڈیو کا ہے بہت پرانی بات ہے اُس زمانہ میں خنگ اخبار والوں کا ہفتہ وار اخبارِ جہاں شائع ہوتا تھا ۔ میں لاہور بس پر جا رہا تھا ۔ ساتةی مسافر نے تھما دیا اور میں وقت گذارنے کی خاطر پڑھنے لگا کیونکہ اس زمانہ میں راوپنڈی سے لاہور بس سات گھنٹہ میں پہنچتی تھی ۔ اس میں ایک سلسلہ وار موضوع تھا تین عورتیں تین کہانیاں ۔ اسے پڑھنے ہوئے میرا ںشارِ خون بلند ہو گیا اور آئندہ کیلئے میں نے توبہ کر لی ۔ سنتے تھے کہ وہ مضمون بڑا ہر دل عزیز تھا

  7. خرم says:

    ایک منٹ سے آگے دیکھنے کا یارا نہیں۔ اس لڑکے کو تو زندگی کی قید سے آزاد کردینا چاہئے۔

  8. جعفر says:

    بہت سی لفظ ذہن میں آئے ۔۔۔ لیکن ایک پر ہی اکتفا کرتا ہوں
    لعنت۔۔۔۔

  9. یہ پروگرام مادر پدر آذادی کا دوسرا نام ہے
    ذہنی اور دماغی مریض اپنے دل و ہوس کی تسکین کے لئے یہاں آتے ہیں
    ہمارا میڈیا اس کی پشت پناہی کر رہا ہے
    جلد ہی پاکستان ان اقوام کی صف میں کھڑا ہوگا ان پروگرام کے عام ہونے پر
    کے جب کھلے عام بے حیائی عام ہوگی اور لوگ اس کو مذاق کا نام دے کر ہنسیں گے
    قانون ان کو کچھ نا کر پائے گا کے یہ لیگل لائسنس یافتہ پروگرام قرار پا چکے ہوں گے
    نوجوانوں کے برین واشنگ کی جا رہی ہے مذہبی پروگرام کوئی نہیں دیکھتا
    نا ہی کسی کو شوق ہے
    مذ ہب پر تنقید ہاں ضرور کر سکتا ہے کہ مسلمان ہیں مذہب پر تو ضرور ہی بولیں گے

  10. سب ڈرامہ ہے اور فکسڈ ہے۔

    اس لڑکے نے ویڈیو کے سامنے خوداپنا جرم قبول کیا ہے اگر یہ ڈرامہ نہیں ہے تواس کو پولیس کے حوالے کردیں۔

  11. Ayesha says:

    Hi uncle:)..i have been reading ur blog since few years but seriously i never feel like to drop u a line but this post really compeled me to reply here..i havent watched the vdo which u uploaded,it said that vdo has been removed but what ever u wrote,that touched my heart..u know what this is all dramay bazi.this show host is such a mean..cheap nd *****…just to earn 2000 rps ppl can do anything whatever he ask for.i wonder..Allh hi reham karay hamaty mulk Pakistan pay jo 80% America tu ban hi chuka hay or 100% bhi ban jaye ga jab media k sath sath..btw u write good..keep writing
    🙂

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔