<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: المیہ</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Wed, 13 Jul 2011 01:38:08 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
	<item>
		<title>By: اجارہ داری۔ &#124; اُردو جہاں بلاگ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/#comment-1500</link>
		<dc:creator>اجارہ داری۔ &#124; اُردو جہاں بلاگ</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Feb 2009 10:11:46 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=308#comment-1500</guid>
		<description>[...] پچھلی ایک تحریر میں، میں نے کہا تھا کہ علم کا فروغ ہی علم کی معراج ہے ۔ہم میں موجود اور بہت سی برائیوں میں ایک برائی علم پر اجارہ داری قائم رکھنے کی بھی ہے ۔ جس کو جستجو ہوتی ہے وہ ضرور اپنا مقام پیدا کر لیتا ہے، لیکن اُس کے راستے کٹھن کر دئے جاتے ہیں ۔ اپنے معاشرے میں نچلے طبقہ سے اوپر تک دیکھ لیں، علم بانٹنے میں کنجوسی برتی جاتی ہے ۔ ورکشاپ میں کام کرنے والے چھوٹے کو اُستاد گُر نہیں بتائے گا کہ وہ اُس کا دستِ نگر رہے، اور اکثر چھوٹے کئی کئی سال اِس مہربانی کی بدولت چھوٹے ہی رہتے ہیں ۔ موسیقار گھرانوں کو دیکھیں،اُستاد جی بڑے چُن کر اپنے شاگرد بناتے ہیں،اور اُس کے لئے بھی سو جتن کرنے پڑتے ہیں کہ اُستاد فلاں اپنی شاگردی میں لے لیں ۔اور تو اور صوفی اسلام کے بارے میں پڑھیں وہاں بھی پیرِ صاحب کسی کسی کو ہی مریدی کا مرتبہ بخشتے ہیں، باقی علم حاصل کرنے والے جوتیاں گھستے رہ جاتے ہیں مگر مرد قلندر کی آنکھ جوہر کو تلاش کر کے صرف اسے ہی علم کا اہل سمجھتی ہے ۔ انٹرنیٹ کو ایک لامحدود دنیا کے نام سے پکارا جاتا ہے، جہاں تھوڑی سی جستجو سے آپ مطلوبہ مقام تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم لوگوں نے انٹرنیٹ پر بھی اپنی عادات نہیں بدلیں ہیں، وہی دشنام طرازی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی بجائے ٹانگ کھینچنے کا عمل یہاں بھی جاری ہے، اور انٹرنیٹ پر اردو کمیونٹی اور بھی مختصر ترین ۔ آج سے تین چار سال پہلے انٹرنیٹ پر تحریری اردو میں مکمل ویب سائٹ بی بی سی تھی، اِس کے بعد چند اِکا دکا بلاگ ویب کی زینت بننے لگے ۔ بلاگ سے ایک مربوط کمیونٹی بنانے کا عمل شروع ہوا، پہلے اردو سیارہ اور اُس کے بعد اردو محفل ترتیب دی گئی ۔ اردو محفل کا آغاز اردو بلاگنگ کے لئے تازیانہ ثابت ہوا، اسی کی بدولت آج ویب پر کم سہی مگر بہت سی اردو ویب سائٹس اور بلاگز کا آغاز ہوا ۔ اردو محفل بنانے میں کئی ایک لوگوں کا ہاتھ ہے، جس میں ترجمہ کرنے والے، ترجمہ کرنے والوں کی محنت کو لے کر اسے ایک عملی شکل دینے والے ۔ لیکن سب سے بڑی خصوصیت جو تھی، وہ ایک عدد آزاد مصدر ویب بیسڈ جاوا سکرپٹ پر مبنی اردو ویب پیڈ کا تشکیل دینا اور اسے استعمال کرنا تھا، جو اس سے پہلے اس صورت میں کسی ویب سائٹ پر موجود نہیں تھا، اس ویب پیڈ کی بدولت بغیر کسی اضافی مدد کے صارف ویب پر اردو لکھ سکتے ہیں، بالکل جیسے انگریزی لکھی جاتی ہے، اور اب بیشتر اردو ویب سائٹ میں اِس کا استعمال ہو رہا ہے ۔ اِس ویب پیڈ کے بنانے والے نبیل حسن نقوی جرمنی میں مقیم ہیں، اور &#8220;منڈے کھنڈے&#8221; نہیں بلکہ خانگی ذمہ داریوں میں گھرے ہیں، بغیر کسی لالچ کے انہوں نے یہ تحفہ اردو کمیونٹی کو دیا ۔ لیکن جناب چین کہاں تھا، یہاں بھی رونا ڈال دیا گیا وہی بچوں کی طرح &#8220;سر اِس نے چیٹ کیا ہے&#8221;، اِس رونے کی تفصیل ایک عدد بلاگر پہلے بھی لکھ چکے ہیں، لیکن چونکہ لکھ کر مٹانے کی عادت ہے،اِس لئے وہ دیکھا نہیں جا سکتا ۔ رونے کی مختصر داستان یوں ہے کہ ایک عدد ویب سائٹ پر ایسا ویب پیڈ استعمال ہو رہا تھا، لیکن ایسی صورت میں جیسے اب ہر سائٹ پر ہے ویسے نہیں، بلکہ اجارہ داری کی طرز پر کہ ہماری سائٹ پر آؤ، وہاں بھی دوسری جگہ جاؤ، وہاں عبارت لکھو، کاپی کر کے واپس آؤ اور پھر پیسٹ کرو ۔ویب سائٹ کے منتظم صاحب سے التجا کی گئی کہ صاحب اِسے عام کر دیں، جس پر انہوں نے انکار کر دیا، جو اُن کا حق تھا ۔ اُسی ویب پیڈ سے متاثر ہو کر نبیل نے کچھ عرصہ بعد موجودہ ویب پیڈ بنا کر عام کر دیا، تو ایڈمن صاحب کی ویب پر اردو کی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آئی، انہوں نے بیان کردہ بلاگر کو جس کا ویب پیڈ سے تعلق ہی نہیں تھا، کو ای میل کھڑکا دی کہ &#8220;تُسی چور او&#8221;، فلاں ہو وغیرہ وغیرہ ۔ آج اِس بات کو چار سال گزر چکے ہیں، لیکن موصوف کا رونا ختم نہیں ہوا ۔ القمر آن لائن کا میں گاہے بگاہے مطالعہ کر لیتا تھا، ایک دن وہاں گیا تو وہاں بھی تبصروں میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ چھڑی ہوئی تھی، اور کچھ لکھنے والوں کی طرف سے کہ ہمارا القمر سے کوئی تعلق نہیں ہم نے ڈیڑھ اینٹ کی اپنی مسجد عالمی اخبار کے نام سے بنا لی ہے، وہاں مِلو ۔ میں وہاں ملنے گیا اور ہم سے ملئے میں مندرجہ ذیل عبارت  یہ جو آج جگہ جگہ ویب بیسڈ اردو رائڑرز دستیاب ہیں ان سب کا باوا آدام دراصل اردو پیڈ ہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں، اور کچھ لوگ بھول بھی جاتے ہیں۔ مگر انہیں اس بات کا کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ چلیے کسی حال میں سہی اردو کا نام تو سر بلند ہو رہاہے۔ ہماری خیر ہے۔ [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] پچھلی ایک تحریر میں، میں نے کہا تھا کہ علم کا فروغ ہی علم کی معراج ہے ۔ہم میں موجود اور بہت سی برائیوں میں ایک برائی علم پر اجارہ داری قائم رکھنے کی بھی ہے ۔ جس کو جستجو ہوتی ہے وہ ضرور اپنا مقام پیدا کر لیتا ہے، لیکن اُس کے راستے کٹھن کر دئے جاتے ہیں ۔ اپنے معاشرے میں نچلے طبقہ سے اوپر تک دیکھ لیں، علم بانٹنے میں کنجوسی برتی جاتی ہے ۔ ورکشاپ میں کام کرنے والے چھوٹے کو اُستاد گُر نہیں بتائے گا کہ وہ اُس کا دستِ نگر رہے، اور اکثر چھوٹے کئی کئی سال اِس مہربانی کی بدولت چھوٹے ہی رہتے ہیں ۔ موسیقار گھرانوں کو دیکھیں،اُستاد جی بڑے چُن کر اپنے شاگرد بناتے ہیں،اور اُس کے لئے بھی سو جتن کرنے پڑتے ہیں کہ اُستاد فلاں اپنی شاگردی میں لے لیں ۔اور تو اور صوفی اسلام کے بارے میں پڑھیں وہاں بھی پیرِ صاحب کسی کسی کو ہی مریدی کا مرتبہ بخشتے ہیں، باقی علم حاصل کرنے والے جوتیاں گھستے رہ جاتے ہیں مگر مرد قلندر کی آنکھ جوہر کو تلاش کر کے صرف اسے ہی علم کا اہل سمجھتی ہے ۔ انٹرنیٹ کو ایک لامحدود دنیا کے نام سے پکارا جاتا ہے، جہاں تھوڑی سی جستجو سے آپ مطلوبہ مقام تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم لوگوں نے انٹرنیٹ پر بھی اپنی عادات نہیں بدلیں ہیں، وہی دشنام طرازی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی بجائے ٹانگ کھینچنے کا عمل یہاں بھی جاری ہے، اور انٹرنیٹ پر اردو کمیونٹی اور بھی مختصر ترین ۔ آج سے تین چار سال پہلے انٹرنیٹ پر تحریری اردو میں مکمل ویب سائٹ بی بی سی تھی، اِس کے بعد چند اِکا دکا بلاگ ویب کی زینت بننے لگے ۔ بلاگ سے ایک مربوط کمیونٹی بنانے کا عمل شروع ہوا، پہلے اردو سیارہ اور اُس کے بعد اردو محفل ترتیب دی گئی ۔ اردو محفل کا آغاز اردو بلاگنگ کے لئے تازیانہ ثابت ہوا، اسی کی بدولت آج ویب پر کم سہی مگر بہت سی اردو ویب سائٹس اور بلاگز کا آغاز ہوا ۔ اردو محفل بنانے میں کئی ایک لوگوں کا ہاتھ ہے، جس میں ترجمہ کرنے والے، ترجمہ کرنے والوں کی محنت کو لے کر اسے ایک عملی شکل دینے والے ۔ لیکن سب سے بڑی خصوصیت جو تھی، وہ ایک عدد آزاد مصدر ویب بیسڈ جاوا سکرپٹ پر مبنی اردو ویب پیڈ کا تشکیل دینا اور اسے استعمال کرنا تھا، جو اس سے پہلے اس صورت میں کسی ویب سائٹ پر موجود نہیں تھا، اس ویب پیڈ کی بدولت بغیر کسی اضافی مدد کے صارف ویب پر اردو لکھ سکتے ہیں، بالکل جیسے انگریزی لکھی جاتی ہے، اور اب بیشتر اردو ویب سائٹ میں اِس کا استعمال ہو رہا ہے ۔ اِس ویب پیڈ کے بنانے والے نبیل حسن نقوی جرمنی میں مقیم ہیں، اور &#8220;منڈے کھنڈے&#8221; نہیں بلکہ خانگی ذمہ داریوں میں گھرے ہیں، بغیر کسی لالچ کے انہوں نے یہ تحفہ اردو کمیونٹی کو دیا ۔ لیکن جناب چین کہاں تھا، یہاں بھی رونا ڈال دیا گیا وہی بچوں کی طرح &#8220;سر اِس نے چیٹ کیا ہے&#8221;، اِس رونے کی تفصیل ایک عدد بلاگر پہلے بھی لکھ چکے ہیں، لیکن چونکہ لکھ کر مٹانے کی عادت ہے،اِس لئے وہ دیکھا نہیں جا سکتا ۔ رونے کی مختصر داستان یوں ہے کہ ایک عدد ویب سائٹ پر ایسا ویب پیڈ استعمال ہو رہا تھا، لیکن ایسی صورت میں جیسے اب ہر سائٹ پر ہے ویسے نہیں، بلکہ اجارہ داری کی طرز پر کہ ہماری سائٹ پر آؤ، وہاں بھی دوسری جگہ جاؤ، وہاں عبارت لکھو، کاپی کر کے واپس آؤ اور پھر پیسٹ کرو ۔ویب سائٹ کے منتظم صاحب سے التجا کی گئی کہ صاحب اِسے عام کر دیں، جس پر انہوں نے انکار کر دیا، جو اُن کا حق تھا ۔ اُسی ویب پیڈ سے متاثر ہو کر نبیل نے کچھ عرصہ بعد موجودہ ویب پیڈ بنا کر عام کر دیا، تو ایڈمن صاحب کی ویب پر اردو کی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آئی، انہوں نے بیان کردہ بلاگر کو جس کا ویب پیڈ سے تعلق ہی نہیں تھا، کو ای میل کھڑکا دی کہ &#8220;تُسی چور او&#8221;، فلاں ہو وغیرہ وغیرہ ۔ آج اِس بات کو چار سال گزر چکے ہیں، لیکن موصوف کا رونا ختم نہیں ہوا ۔ القمر آن لائن کا میں گاہے بگاہے مطالعہ کر لیتا تھا، ایک دن وہاں گیا تو وہاں بھی تبصروں میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ چھڑی ہوئی تھی، اور کچھ لکھنے والوں کی طرف سے کہ ہمارا القمر سے کوئی تعلق نہیں ہم نے ڈیڑھ اینٹ کی اپنی مسجد عالمی اخبار کے نام سے بنا لی ہے، وہاں مِلو ۔ میں وہاں ملنے گیا اور ہم سے ملئے میں مندرجہ ذیل عبارت  یہ جو آج جگہ جگہ ویب بیسڈ اردو رائڑرز دستیاب ہیں ان سب کا باوا آدام دراصل اردو پیڈ ہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں، اور کچھ لوگ بھول بھی جاتے ہیں۔ مگر انہیں اس بات کا کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ چلیے کسی حال میں سہی اردو کا نام تو سر بلند ہو رہاہے۔ ہماری خیر ہے۔ [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: فیصل</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/#comment-1499</link>
		<dc:creator>فیصل</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Jan 2009 13:52:18 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=308#comment-1499</guid>
		<description>کیا بات ہے بھائی، خوب کہا.
 پررررررررررررررررررررررررررررررررررررر
گھنٹی کون باندھے؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>کیا بات ہے بھائی، خوب کہا.<br />
 پررررررررررررررررررررررررررررررررررررر<br />
گھنٹی کون باندھے؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/#comment-1498</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2009 17:49:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=308#comment-1498</guid>
		<description>کیا ہی مختصر الفاظ میں آپ نے المیہ اجاگر کیا ہے.. شاید سارا علم چین سے حاصل کرنے کے لیے اپنے ذرائع ختم کیے جارہے ہیں.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>کیا ہی مختصر الفاظ میں آپ نے المیہ اجاگر کیا ہے.. شاید سارا علم چین سے حاصل کرنے کے لیے اپنے ذرائع ختم کیے جارہے ہیں.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: شکاری</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/#comment-1497</link>
		<dc:creator>شکاری</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2009 06:55:59 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=308#comment-1497</guid>
		<description>اس کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے گھروں میں بچے کام کرتے ہیں وہ ان بچوں سے کام لینے کے ساتھ ساتھ انھیں پڑھائیں بھی.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اس کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے گھروں میں بچے کام کرتے ہیں وہ ان بچوں سے کام لینے کے ساتھ ساتھ انھیں پڑھائیں بھی.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/#comment-1496</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2009 05:49:23 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=308#comment-1496</guid>
		<description>اس میں شک نہیں کہ آپ نے لمبی کہانی دو جملوں میں سمو دی ہے لیکن جس مسئلہ کی طرف اشارہ ہے اس کا حل کیا ہے ؟ حالات یوں ہیں کہ فوج موجود کرفیو نافذ اور سکول کی عمارت اڑا دی گئی ۔ کس نے اور کیسے اڑائی ؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اس میں شک نہیں کہ آپ نے لمبی کہانی دو جملوں میں سمو دی ہے لیکن جس مسئلہ کی طرف اشارہ ہے اس کا حل کیا ہے ؟ حالات یوں ہیں کہ فوج موجود کرفیو نافذ اور سکول کی عمارت اڑا دی گئی ۔ کس نے اور کیسے اڑائی ؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/#comment-1495</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2009 04:50:51 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=308#comment-1495</guid>
		<description>بہت خوب جہانزیب۔ آپ نے محض تین جملوں میں بہت اہم بات بیان کی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بہت خوب جہانزیب۔ آپ نے محض تین جملوں میں بہت اہم بات بیان کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

