یومِ اقبال
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دِل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر


خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
اسی میں اتنا عظیم پیغام پوشیدہ ہے اور ہم بحیثیت قوم ہمیشہ سے اس کی نفی کئے جا رہے ہیں
اب تو یہ نِری باتیں ہی لگتی ہیں.
ازراہِ کرم اپنی بلاگ رول میں میرے بلاگ کا ایڈریس اپ ڈیٹ کر کے شکریہ کا موقع دیجیے.
اچھا بھائی جان، اب شکریہ ادا کرنا مت بھولئے گا .
اپ کی کوشش پسندکے قابل ھے
اقبال کی کیا ہی بات ہے ویسے قدیر بھائی سے کافی حد تک میں بھی متفق ہوں