گذشتہ سے پیوستہ ۔

Monday,15 December 2008
از :  
زمرات : پاکستان

پچھلی تحریر لکھنے اور ان کے جوابات پڑھنے سے ایک بات عیاں ہے کہ عموماً جائیداد وغیرہ کی بانٹ کے خوف سے ہمارے ہاں یہ طور طریقے رائج ہیں، ہمارے معاشرہ میں جب شادی کی جاتی ہے تو ذہن میں عمر بھر کے ساتھ کا تصور پیدا ہوتا ہے، جو کہ بہت حد تک درست ہے، میاں بیوی چاہے ایک دوسرے سے کتنے ہی نا خوش کیوں نہ ہوں ازدواجی رشتہ کو نبھانے کی مقدور بھر کوشش کی جاتی ہے اور علیحدگی تک نوبت کم ہی آتی ہے ۔
لیکن حقیقت کی دنیا میں، ہمارے معاشرے میں بھی علیحدگیاں ہوتی ہیں، جن سے کچھ مسائل ایسے پیدا ہوتے ہیں جو میرے مشاہدے کے مطابق صرف ہمارے معاشرے تک ہی محدود ہیں ۔ مثلاً اگر میاں بیوی، جن میں علیحدگی ہو رہی ہے کے بچے موجود ہوں، تو بچوں کی حوالگی ایک جنگ کی صورت اختیار کر جاتی ہے، جو فریق زورآور ہو وہ زبردستی تک بچے اپنے پاس رکھ لیتا ہے، امریکی معاشرے میں بھی بچوں کی حوالگی کے دوران ماں اور باپ دونوں کی خواہش ہوتی ہے کہ بچے انہی کے پاس رہیں، ایک دوسرے کے خلاف عدالت میں جایا جاتا ہے، جو اس بات کا تعین کرتی ہے کہ بچے کس کے پاس رہیں گے ۔
لیکن اس کے بعد والا معاملہ ہمارے ہاں اکثر دیکھا جاتا ہے ۔ وہ ہے بچوں کے کان بھرنا اور ماں یا باپ سے ملنے نہ دینا۔  اگر بچے باپ کی تحویل میں ہیں تو ماں بری، اور اگر بچے ماں کی تحویل میں ہیں تو باپ شرابی ۔ پاکستان میں ہمارے محلہ میں ایک لڑکی کی شادی ہوئی، میاں آسٹریا میں مقیم تھے تو وہیں منتقل ہو گئی ۔ تین سال کے بعد نوبت طلاق تک پہنچ گئی اور اس دوران ان کے ہاں دو بچوں نے بھی جنم لیا ۔ اب میرے خیال میں ان بچوں کی عمریں پندرہ سے سترہ سال کے درمیان ہیں اور وہ ماں سے نہیں ملے، جس کی وجہ سے ماں اپنا ذہنی توازن تک کھو چکی ہے ۔
یہاں امریکہ میں ایک پاکستانی خاتون ہیں، جب ان کی شادی ہوئی میاں سعودی عرب مقیم تھے، ان کی دو بیٹیاں ہیں ۔ اب بیوی پاکستان میں تھیں، جاب کرتی تھیں اور میاں سعودی عرب میں، پاکستان میں کان بھرنے والی فیکٹریوں نے سعودی عرب میں میاں کے کان بھرے اور بات علیحدگی تک پہنچ گئی ۔ علیحدگی کے وقت چھوٹی بیٹی ایک سال کی تھی جو اب تیرہ سال کی ہے اور اس نے باپ کو دیکھا بھی نہیں ہوا ۔ اس کا اثر اس لڑکی پر کتنا ہے اس بات کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا، اس کی ہر وقت کی ضد کہ مجھے والد کے پاس جانا ہے ۔ پچھلے سال آنٹی کو معلوم ہوا کہ اس کا والد پاکستان آیا ہے تو وہ بیٹیوں کو لے کر ملانے کے لئے پاکستان چلی گئی، اور والد نے بچیوں سے ملنے تک سے انکار کر دیا ۔
یہ سب کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں میاں بیوی علیحدگی کی صورت میں بچوں کو اپنی انا کا مسلہ کیوں بنا لیتے ہیں؟ کیا انہیں ایسے نہیں بتایا جا سکتا کہ ہمارے درمیان غلط فہمیاں تھیں جس کی وجہ سے علیحدہ ہونا پڑا، لیکن ایک باپ یا ماں کی حثیت سے ان پر تمہارا حق ہے ۔ بچوں کو ان کے حق سے کیوں محروم کر دیا جاتا ہے؟

تبصرہ جات

“گذشتہ سے پیوستہ ۔” پر 2 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. جہانزیب بھائی!
    آپ نے بہت اچھا لکھا ہے اور بہت اہم مسئلہ کی طرف توجہ دی ہے ۔ اس طرح کے واقعات کے بارے میں نے بھی سنا ہے ۔ میرا ایک نیٹ دوست کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ پیش آیا ہے۔ ان کی علیحدگی ہوگئی اور بچہ بیوی کے پاس ہے ۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کیا حال ہوتا ہوگا ۔
    ایک شخص بیوی کی جدائی تو برداشت کرسکتا ہے لیکن اولاد کی جدائی بالکل بھی نہیں

    )خیال رہے میں‌ شادی شدہ نہیں ۔ 🙂

  2. یہ ایک گھناؤنا مسئلہ ہے جو دین سے دوری کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ ھمارا دین اور پاکستان کا قانون دونوں کے مطابق کم سن بچے ماں کے پاس رہنا چاہئیں ۔ ان کا خرچ ان کے باپ کے ذمہ ہے اور باپ بچوں سے مل سکتا ہے ۔ پھر جب بچے بالغ ہو جائیں تو وھ جس کے پاس رہنا چاہیں رہیں ۔
    آپ نے درست لکہا ہے کہ اصل مسئلہ عزیز و اقارب ہیں جو الٹی پٹیاں پڑھاتے ہیں

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔