میرے گاؤں میں دہشت گردی ۔

Thursday,1 November 2007
از :  
زمرات : پاکستان

ابھی ہم نے پاکستان فون کیا تھا تو پتہ چلا کہ پی اے ایف کی بس پر خود کش حملہ ہوا ہے۔ جہاں پر حملہ ہوا ہے وہاں سے ہمارا گاؤں تقریباً ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ بی بی سی کے مطابق حملے میں نو افراد شہید ہو گئے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو لگتا ہے سرگودھا میں چھ ستمبر کو ہونے والی نمائش بھی بند ہو جائے گی، جو کہ شہر کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جب دور دراز علاقوں سے لوگ سرگودھا نمائش دیکھنے آتے ہیں۔
میری پوُری زندگی میں سرگودھا میں ہونے والا یہ دوسرا واقعہ ہے، اس سے پہلے سرگودھا میں کمشنر سرگودھا کو دہشت گردی کا نشانہ بنای گیا تھا، لیکن وہ ایک فرقہ ورانہ کاروائی تھی، عوامی دہشت گردی کا شائد یہ پہلا واقعہ ہے ۔ مذہبی انتہا پسند تو ہمیشہ سے سرگودھا میں رہے ہیں، بدنام زمانہ دہشت گرد ریاض بسرا کا تعلق سرگودھا سے تھا، لیکن اس کے باوجود سرگودھا میں کبھی شیعہ سنی کا جھگڑا نہیں ہوا تھا، اب فوج کے خلاف چلنے والے اس روش میں سرگودھا کا نام بھی آ گیا ہے۔
مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ ملک میں فوجی حکومت ہے، یا کرنے والا یا کروانے والا کوئی بہت جید قسم کا عالم ہے اور اُس کے سینکڑوں مریدین اور فدائین ہیں۔ اگر وہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھاتا ہے، تو وہ مجرم ہے اور کچھ بھی نہیں، اور ہر ممکن طریقے سے اس کی بیخ کنی کرنا چاہیے ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب ایسے لوگوں کے خلاف فوج کاروائی کرتی ہے تو بھانت بھانت کے تبصرے سُننے کو ملتے ہیں کہ اپنے ہی شہریوں کو فتح کرنے کے لئے فوج ہے وغیرہ وغیرہ، لیکن جب اُن کے خلاف یہ دہشت گرد کاروا،ئیاں ہوتی ہیں، تو یہ سب لوگ دم دبا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی دیر کر کے ہم نے ایسے عناصر کو اتنا مضبوط کر دیا ہے کہ اب کھلے عام وہ ملیشیا بنا کر اپنی مرضی کا قانون زبردستی چلوا رہے ہیں اور اب اگر اُن کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تو قبائلی علاقہ ہی نہیں ہر علاقہ اُن کی سورش سے متاثر ہو گا۔
اور ہاں قبائلی علاقے سے ایک اور بات اُن لوگوں کے لئے جو زور شور سے بیان داغتے ہیں کہ یہاں کبھی کوئی فوج کامیاب نہیں ہوئی اور قبائلی ہمیشہ سے آزاد ہیں؟ اُس ہمیشہ کی آزادی کا ثمر کیا ہے، وہاں سڑکوں کا جال بچھا ہے؟ تعلیم اتنی عام ہے کہ سارے محسود جنگجو یا تو دین میں عالم ہیں یا پھر پی ایچ ڈی ہیں؟ جن کو یہ لوگ آزادی کہتے ہیں وہ کچھ نہیں سوا سرداروں کی غلامی کے، اُن سرداروں کا جب جی چاہے، کسی کو مروا دے کسی کو ذلیل کر دے۔ خدا کے لئے یہ سرداروں کی حمایت میں بولنا چھوڑ دیں اور وہاں کی عوام کو بھی پاکستانی بننے کا موقع دیں، اُن کو بھی اتنی آزادی کا اور وسائل کا موقع دیں جتنا پاکستان کے دوسرے علاقوں میں لوگوں کو ہے، اور غلط روایات کو ختم کریں، یہ کوئی فخر کی بات نہیں کہ اسلحہ ہماری شان ہے، فخر کی بات یہ ہے کہ وہ اسلحہ آپ لوگوں کی حفاظت کے لئے استعمال کریں نا کہ انہیں دبانے کے لئے۔
اب کون یہ اسلحہ لوگوں کی حفاظت کے لئے استعمال کرتا ہے اور کون بم باندھ کر عوام کی جان لیتا ہے، یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی۔ اللہ ہمہیں ظالم کو ظالم کہنے کی ہدایت دے۔

تبصرہ جات

“میرے گاؤں میں دہشت گردی ۔” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. آپ ٹھیک کہتے ہیں‌کہ ہم دو گروپوں میں‌بٹے ہوئے ہیں۔ ایک وہ جو سارے فساد کی جڑ موجودہ شخصی اور غیر جمہوری حکومت کو قرار دیتے ہیں اور دوسرے جو دہشت گردی کو طاقت سے دبانا چاہتے ہیں۔
    اس میں ‌تو کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی بڑھی ہے۔ اگر آج جنرل مشرف کی جگہ پر جمہوری حکومت آجائے اور اپنے طریقے سے دہشت گردی ختم کرسکتی ہے۔
    دوسرے دہشت گردی واقعی کبھی بھی طاقت سے کسی ملک سے ختم نہیں‌ہوئی۔ اس کا واحد حل مذاکرات اور دہشت گردوں کو جمہوری عمل کا حصہ بنانے میں‌ہے۔ یہ وجہ ہے کہ امریکہ ویت نام کو کئی سالوں تک فتح نہ کرسکا اور عراق میں‌اب تھک ہار کر سنیوں سے مذاکرات کے بعد دھشت گردی پر کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ حال بھارت، روس اور اسرائیل کا ہے۔ جوں‌جوں آپ مخالف فریق کو بزور طاقت دبانے کی کوشش کریں گے اس کا توں توں رد عمل سامنے آئے گا۔ اب مذاکرات سے بھارت، روس اور اسرائیل کیوں بھاگتے ہیں‌یہ عالمی سازش ہے اور کچھ نہیں۔
    تاریخ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ دشمن کو طاقت کی بجائے ڈپلومیسی سے فتح کرنا زیادھ آسان رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھی ایک نہ ایک دن شمالی علاقوں اور سوات کے لوگوں کیساتھ مذاکرات سے ہی دھشت گردی ختم کرنی پڑے گا۔ تب تک حملے اور جوابی حملے ہوتے رہیں‌گے اور ان کو روکنا کسی فریق کے بس میں نہیں‌ہے۔ یہ کڑوا سچ ہے اس سے مفر ممکن نہیں‌چاہے آپ ہمیں‌فوج کا مخالف کہ لیں‌یا شمالی علاقوں کے لوگوں کا حامی۔

  2. رضوان says:

    بھائی جہاں زیب اب نہ شہر محفوظ ہیں نہ گاؤں۔ ہم سب کو اپنی اپنی بساط بھر کوشش کرنی چاہیے کہ سرحد اور بلوچستان میں امن قائم ہو تو سارا پاکستان سُکھ کی سانس لیگا۔

  3. Faisal says:

    نہ جانے مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ یہ پوسٹ لکتے وقت آپ انتہائی غصے میں تھے جسکا اثر آپکی تحریر پر بھی پڑا ہے۔ آپ نے ایک طرف کی ساری بات کہہ دی اور سارے معاملے کو انتہائی سادہ بنا کر پیش کر دیا۔ میرے بھائی یہ سب کچھ ایسا نہیں جیسا نظر آ رہا ہے اور دکھایا جا رہا ہے۔ میں اسوقت ڈیرہ اسماعیل خان میں بیٹھا ہوں جہاں ایسا کچھ ہو رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو ہماری حکومت اور فوج اب تک کرتے چلے آئے ہیں۔ یہ ایک فرضی جنگ ہے اور دونوں طریفین در اصل ایک ہی ہیں۔ مختصراً یہ کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے تو کھائے گا کیا؟ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔
    ویسے آپ ایک دھماکے سے اتنے غصے میں آ گئے تو جن لوگوں کے پورے پورے خاندان اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں انکے نہ جانے کیا احساسات ہونگے؟ اللہ کرے کہ یہ جنگ سرحد اور بلوچستان سے نکل کر ذرا وسطی اور شمالی پنجاب کی جانب چلی جائے تا کہ اسکا جلد کوئی حل نکلے!

  4. جہابزیب بھائی !

    آپ نے قبائیلی علاقوں کی بات کی ہے ۔ کل ہی میں عجمان میں ایک قبائیلی جوان سے ملا ہو جو خیبر ایجنسی کے علاقہ باڑہ سے یواےای ہوا تھا ۔ وہ پہلے بھی یہاں دس بارہ سال مزدوری کرچکا ہے لیکن پھر پاکستان جاکر پشاور اور باڑہ میں ٹیکسی چلایا کرتا تھا اور اپنے خاندان کے ساتھ خوش تھا کہ اچانک علاقے میں لشکر اسلام اور انصار اسلام کا ظہور ہوا جس نے علاقے کا امن ، کاروبار اور پوری زندگی تباہ کردی اور کئی گھر اجھاڑ دیئے ۔ اس جوان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے علاقے میں عجیب سی صورتحال بن گئی ہے اور اس کے لئے وہاں رہنا ممکن نہ رہا نہ اپنی محنت مزدوری کرنا اس لئے واپس یو اے ای آگیا ہے ۔

    قبائیلی علاقے میں بھی کبھی بھی ایسی صورتحال نہیں رہی تھی وہاں ایک طرح کی برابری تھی ۔ کوئی کسی پر ہاتھ آٹھانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچتا کیونکہ اس کے نتیجے میں اسے ایک آدمی سے نہیں پورے قبیلے کا سامنے کرنا پڑتا تھا لیکن اب وہ سارا نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور معلوم نہیں‌ آگے کیا ہوگا ۔

  5. میرا پاکستان ، میں آپ کی بات سے سو فی صد متفق ہوں کہ بات چیت سے مسائل کرنے چاہیے ہیں، لیکن یہ تب ہوتا ہے جب دوسرا فریق بات چیت کی آڑ لے کر ظلم برپا نہیں کرے . اب ایک طرف بات چیت اور دوسری طرف لوگوں کے کاروبار جلانا، پھانسی پر لٹکانا، ایسے فریق سے بات چیت کیسے ہو سکتی ہے؟ کیونکہ ایسی بات چیت کا مطلب وہاں کی عوام کو بھیڑیوں کے آگے ڈال دینے کے مترادف ہو گا.
    شاہ فیصل، حکومت اور فوج کے اعمال کے ساتھ ساتھ ذرا انصاف سے وہاں موجود لشکر، جیش، سپاہ وغیرہ کے کردار پر بھی روشنی ڈال لیں . مجھے اس بات کا نتہائی دکھ ہوتا ہے کہ کچھ سرکشوں کی وجہ سے ان لوگوں کی جان بھی جاتی ہے جن کا س سے تعلق نہیں ہے، لیکن کیا جب یہ گروہ کسی کا گلا کاٹ کر اس کی ویڈیو بنا کر پوری دنیا میں پیش کرتے ہیں یا لوگوں کو کھمبوں کے ساتھ لٹکا کر مار دیتے ہیں تو اس پر کہیں زیادہ افسوس ہوتا ہے . اور جہاں تک آپ کی بد دعا نما دعا کا تعلق ہے تو اللہ ایسے حالات سے مخفوظ ہی رکھے .
    وقار بھائی میری پوسٹ سے شائد غلط نتجہ نکال رہے ہیں میں قبائلیویں کے خلاف ہر ہرگز نہیں لیکن جو لوگ ان معصوم قبائلیویں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال رتے ہیں ان کے بہت زیادہ خلاف ہوں .

  6. وقار علی روغانی says:

    وہ تو میں بھی ہوں ۔ جہانزیب

    آپ نے لکھا : جن کو یہ لوگ آزادی کہتے ہیں وہ کچھ نہیں سوا سرداروں کی غلامی کے، اُن سرداروں کا جب جی چاہے، کسی کو مروا دے کسی کو ذلیل کر دے۔ خدا کے لئے یہ سرداروں کی حمایت میں بولنا چھوڑ دیں ۔“

    قبائیلی علاقے میں کوئی سرداری سسٹم نہیں ۔ وہاں ملک ہوتے ہیں اور وہ نظام بھی اپنے فطری طریقے سے بالکل خاتمے کے قریب ہے ۔ یہ ملک سسٹم بھی انگریزوں کا پیداکردہ اور پاکستانی حکومتوں کا پروردہ ہے ۔ ورنہ قبائیلی علاقوں ، بلکہ تمام پختون علاقوں کا، نظام اصل میں جرگہ چلاتا تھا ؛ جس میں علاقے کے بزرگ ، جوان ، مالدار ، غریب سب شریک ہوتے ہیں اور سب کو بولنے کا حق حاصل ہوتا تھا ۔ آپ اسے ایک ایسا پارلیمنٹ کہہ سکتے ہیں جس میں بیٹھنے کے لئے آپ کو اپنی چند گھڑیاں نکالنی ہوتی تھیں ۔ اس میں فریقین جرگے کے سامنے اپنا اپنا موقف ، دلائل کے ساتھ رکھتے اور فریقین کو سننے کے بعد جرگہ اپنا فیصلہ سناتا تھا ۔ لیکن بعد ازاں اس نظام کو بہت ہی کرپٹ کیا گیا ۔ انگریزوں کی طرف سے بھی اور پاکستانی حکومتوں کی طرف سے بھی ۔ فی الوقت فاٹا میں “پولیٹیکل نظام“ ہے جس میں تمام انتظامی اختیارات سترہ گریڈ کے پولیٹیکل ایجنٹ کو حاصل ہوتے ہیں ۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔