پاکستان میں اور خصوصاً پنجاب میں لوگوں کے خیالات سِکھوں کے بارے میں عجیب سے ہیں، وہ اُنہیں اِنسان کی بجائے کوئی مزاحیہ شے تصور کرتے ہیں ۔ یہ شائد ایسے لطائف کا اثر ہے جِن میں سکھوں کا ذکر ایک بے وقوفانہ انداز میں کیا گیا ہوتا ہے۔ امریکہ آنے سے پہلے میں بھی سرداروں کو کوئی انوکھی مخلوق سمجھتا تھا، مگر یہاں آتے ہی ہمارے پڑوس میں سردار رہتے تھے، جِن سے ہمارے کافی اچھے مراسم قائم ہو گئے جو کہ اب تک ہیں، لیکن جب میں نے پہلی دفعہ کسی سرادار کو پگڑی میں دیکھا تو مجھے خود بہت ہنسی آ رہی تھی ۔
اِس دفعہ پاکستان گیا تو موٹروے پر لاہور سے سرگودھا جاتے ہوئے سکھیکی کے قریب ہم لوگ پٹرول ڈلوانے رُکے تو وہاں ایک سردار جی بمعہ اپنی بیگم موجود تھے، میرے سارے کزنز اور ارد گرد تمام لوگ اُن کو دیکھ کر محفوظ ہو رہے تھے کہ جیسے پتہ نہیں کوئی انوکھی مخلوق دیکھ لی ہے، اور وہ سب کی عکس بندی میں مصروف تھے، میں نے کہا کہ ایسے دیکھنا بُرا لگتا ہے جا کر اُن سے بات کر لو، ساتھ میں نے یہ بھی کہا کہ اِن کا تعلق امریکہ یا کنیڈا سے ہے۔ اُنہوں نے کہا تم پُوچھو جا کر، میں نے جا کر اُن سے سلام دُعا کی تو وہ ٹورنٹو کے رہنے والے تھے، آہستہ آہستہ باقی لوگ بھی قریب آ گئے اور اُن کا احوال اور پاکستان کے متعلق خیالات پوچھنا شروع ہو گئے، سردار جی حسن ابدال جا رہے تھے اور موٹروے کے بارے میں کہہ رہے تھے ” کمال دی ہائی وے بنائی اے” اُس کے بعد ہم لوگ وہاں سے چلے گئے ۔

اِس سب تحریر کرنے کا محرک بی بی سی کی خبر ہے جس کے مطابق لاہور میں پہلا سِکھ پولیس افسر ٹریفک کنٹرول پر معمور ہوا تو ٹریفک جام ہونے لگ گئی۔
حد ہی نہیں ہو گئی، اب اتنی زندہ دلی بھی اچھی نہیں ہوتی، وہ سرادار آپ کا چالان کاٹنے کا بھی مجاز ہے ۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





جمعرات,26 اپريل 2007
پاکستان میں صرف سکھ ہی نہیںبلکہ کسی بھی ملک کا باشندہ چلا جائے تو لوگ اسے دوسری دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ الیکڑونک میڈیا کے عام ہونے سے غیرملکیوں سے پاکستانی مانوس ہونا شروع ہوجائیںگے۔
جمعرات,26 اپريل 2007
ویسے اپنا شجرہ نسب جب میں نے پڑھا تھا تو تب معلوم ہوا تھا کے ہم بھی کبھی سردار تھے!!! کوئی روہیل سنگھ تھے جو حلقہ اسلام میں داخل ہوئے!!! پتا چلا ہے کہ تمام جٹ کبھی سکھ تھے!!!
اِس لئے اہل پنجاب کی ایک مخصوص تعداد کو تو حیران نہیں ہونا چاہئے!!!
جمعرات,26 اپريل 2007
شعیب ذرا یہ شجرہ نسب کسی دن بلاگ پر پوسٹ تو کر دیں اگر ہو سکے تو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہم جٹ کتنے عرصے سے سکھ نہیں رہے
ویسے بھی اکثر جٹوں کے حوالے سے بڑے مزے مزے کی بکواس پڑھنے یا سننے کو مل جاتی ہے اور پھر میں بتاتا بھی نہیں کہ میاں میں جٹ ہوں
اہل پاکستان دراصل اب انڈے میں بند مخلوق ہیں لہذا سنی سنائی باتوں پر اعتبار بھی کر لیتے ہیں اور ان کو آگے بیان کرنے سے بھی ذرا نہیں چوکتے اور اگر کوئی باہر سے نازل ہو جائے تو اس کو دیکھ دیکھ کر مار دیتے ہیں۔ ویسے دیکھنے میں تو ہم بھی شیر ہیں لیکن ۔۔۔۔ آہم آہم
جمعتہ المبارک,27 اپريل 2007
بدقسمتی سے ہماری قوم کی اکثریت بالخصوص پنجاب میں بسنے والے ایک عجیب ذہنی اُلجھاؤ یا دماغی وہم کا شکار ہیں ۔ ان کا پہلا عقیدہ ہم چناں دیگرے نیست یعنی جو ہم ہیں وہ کوئی نہیں ہو سکتا ہے ۔ چِٹی چمڑی والے کے پاؤں دھونے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور باقیوں کو حقیر سمجھا اور ان کا مذاق اُڑایا جاتا ہے ۔ دو تین دہائیاں قبل عربوں کے متعلق بھی ہمارے لوگ ایسے ایسے واقعات سناتے تھے کہ جن پر یقین کرنا ہی بیوقوفی کی علامت ہو مگر لوگ یقین کرتے تھے ۔ یہی نہیں کہ ان کے نام سے لطیفے سنائیں بلکہ ان لوگوں کے منہ پر ایسی باتیں کہہ بھی دیتے ۔ میرے سامنے کئی واقعات پیش آئے ۔ طوالت کے ڈر سے میں سے صرف دو بتاتا ہوں ۔ ایک شخص کی ایک سکھ کے ساتھ بحث ہو گئی ۔ بحث لمبی ہو گئی کیونکہ سکھ ٹھیک کہہ رہا تھا مگر ہمارے بھائی نے اسے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ تم تو ہو ہی سکھ تمہیں کیا پتہ کہ صحیح کیا ہے ۔ میں اپنے باس کے ساتھ جو مجھ سے پندرہ سال بڑے ہیں ۔ پوسٹ گریجؤیٹ انجنیئرنگ برطانیہ سے کی تھی اور اس واقعہ سے پہلے چھ سال برطانیہ میں اور تین سال ترکی میں پاکستانی سفارتخانوں میں رہ چکے تھے ۔ ان کے ایک دوست جو سینیئر انجنیئر تھے کے گھر گیا ۔ میزبان کہنے لگے جانتے ہیں کہ یہ عرب فیملی کار [سٹیشن ویگن] کیوں خریدتے ہیں ؟ کل میں نے دیکھا کہ ایک عرب اس میں اُوتٹ لے جا رہا تھا ۔ میرے باس نے فوراً مان لیا اور ہنسنے لگ گئے ۔ میں نے کہا جناب آپ مذاق کر رہے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا تو فرمانے لگے کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ جب بحث طول پکڑنے لگی تو میں نے کہا چلئے میں اپنے دفتر کی سب سے بڑی آٹھ سیٹوں والی فیملی کار لے کر آتا ہوں اور آپ مجھے اُونٹ تو کیا اُونٹ کا بچہ اس میں بٹھا کر دکھا دیجئے ۔ تب وہ خاموش ہوئے ۔
جمعتہ المبارک,27 اپريل 2007
مین سیکھ ھون اور جاٹ بھی۔ میرا پاکیستان سفر مازیدار رھا۔
http://sidhusaaheb.blogspot.com/2006/07/pakistan-visit-part-8.html
ِ
میں سِکھ ہوں اور جاٹ بھی۔ میرا پاکستان کا سفر مزیدار رہا ۔
http://sidhusaaheb.blogspot.com/2006/07/pakistan-visit-part-8.html
جمعتہ المبارک,27 اپريل 2007
I do not know much Urdu, but have attempted a comment above. As I have written above, I am a Jatt Sikh. I am from India and visited Pakistani Punjab in April 2006, along with my family. I have written about it in the blog-post mentioned above and the seven posts preceding it. Thanks Jahanzaib, for clearing some misconceptions about the Sikhs! It is also great to see them actively serving in the armed forces and police in Pakistan. I also saw a comment about the Jatts here. I believe that the Muslim and Sikh Jatts come from the same stock as is evident from our common surnames (last names), but some of our ancestors chose Islam and some others chose Sikhism in the middle ages. It was great to interact with some of my Muslim Jatt brethern, while in Pakistan.
جمعتہ المبارک,27 اپريل 2007
Oops! It seems my brief comment in Urdu has disappeared. The blog-post link is http://sidhusaaheb.blogspot.com/2006/07/pakistan-visit-part-8.html
جمعتہ المبارک,27 اپريل 2007
Sidhu Sahib welcome to my blog,I’ll read your posts about visiting pakistan. And yes Muslims jatts and Sikh Jatts are members of same clan. in pre history era most jatts were bhudist, then some converted to islam and some after Guru Nanik Sahib turned to sikhism, and then later on from sikhism to islam, our goth embraced islam in late 18th century. But majority of my Goth are Sikhs. Once again Thanx for visting and trying writing Urdu.
جمعتہ المبارک,27 اپريل 2007
پاکستانیوں کا بھی حال کوئی نہیں، ابھی چند دن پہلے بالکل یہی ہوا، موٹر وے پہ کافی سارے سکھ آئے ہوئے تھے اور سارے لوگ انہیں دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہورہے تھے، ہوسکتا ہے دو آدھ نے آٹوگراف بھی لے لئے ہوں
دیکھیں اس بیچارے کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے!
ہفتہ,28 اپريل 2007
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ لاہوری شہری ایسے کرتے ہیں۔ہمارے گاؤں میں ایک سکھ حکیم آتے ہیں، ہمارے گاؤں کے لوگ تو بالکل نارمل رویہ رکھتے ہیں اُن کے ساتھ۔۔
اتوار,29 اپريل 2007
ساجد اسی لئے تو میں نے لکھا ہے کہ اتنی زندہ دلی بھی اچھی نہیں ہوتی، کیونکہ زنادہ دلان بسنت پر بندے مارنے کو بھی زندہ دلی میں ہی لیتے ہیں .