بات ہو رہی تھی انتخابات کی، اور انتخابات ہوں اور سیاست کا ذکر نہ ہو؟ ویسے جب سیاست کا ذکر آتا ہے تو آپ کے ذہن میں کیا خیالات آتے ہیں؟ عموماً پاکستان ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر میں ہی سیاستدان سے مُراد کوئی جوڑ توڑ کا ماہر کیوں سمجھا جاتا ہے، سیاست سے ہمارے ذہن میں خدمت کا تصور کیوں نہیں آتا؟ اس کا ایک جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہ در پہ سیاستدانوں کو آزمانے کے بعد سیاست اور سیاستدانوں کا یہی نقشہ سامنے آتا ہے، لیکن اگر کوئی ایسے سیاستدان منتخب ہوتے ہیں تو ان کو منتخب کرنے میں کلیدی کردار ہمارا آپ کا ہی ہے اور اگر اچھے لوگ منتخب نہیں ہوتے تب بھی قصور اپنا ہی نکلتا ہے ۔
اب بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے چونکہ الیکشن میں کوئی قابل اُمیدوار ہے ہی نہیں اس لئے ہم اپنا ووٹ صائع کرنے کی بجائے گھر بیٹھیں گے، میرے بھائی ووٹ نہ دے کر ہی آپ اپنا ووٹ ضائع کر رہے ہیں، اور دوسری بات کہ قابل اور اچھے اُمیدوار سے مراد کیا ہے؟ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہوتی ہے اور خامیوں سے پاک صرف اللہ کی ذات ہے، اب اللہ تو آ کر الیکشن میں حصہ لینے سے رہا، میرے خیال میں صرف خامیاں مت دیکھیں، لوگوں میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور اگر کسی کی خامیاں اُس میں موجود خوبیوں سے زیادہ ہیں تو اُسے ووٹ مت دیں، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کے انتظار میں اتنی دیر مت کر دیں کہ فرشتے لینے آ پُہنچیں، چلو بھائی وقت پُورا ہو گیا ہے ۔


یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں

الیکشن پر 2 تبصرے ہوئے ہیں

اس بلاگ پر تمام تبصروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔تبصرہ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے خانہ پر اپنا تبصرہ لکھ کر ارسال کریں۔ رومن اردو یا انگریزی میں کئے گئے تبصروں کے شائع کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

  1. زیک

    صحیح کہا اسی لئے ہمیں اوبامہ کو ووٹ دینا چاہیئے.

  2. جہانزیب

    مجھے بھی اوبامہ باقی امیدواروں سے زیادہ پسند ہے، لیکن وہ پرائمری تو جیتں پہلے پھر ووٹ بھی دیں لیں گے .

Trackbacks/Pingbacks