روشن پاکستان

Tuesday,6 November 2007
از :  
زمرات : پاکستان

آج سرِراہ ایک سوڈانی مسلمان سے ملاقات ہو گئی، پہلا سوال ہی ایسا تھا کہ میرا دل خوش ہو گیا “پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟” بہت کم لوگ مجھے دیکھ کر پاکستان سے میرا تعلق جوڑتے ہیں ۔ میں نے بھی دلچسپی لیتے ہوئے اُلٹا سوال کردیا ” ہمم پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟” اُس نے اب براہ راست سوال پوچھ لیا “مشرف کیا کر رہا ہے؟” ، گفتگو کے دوران پاکستان کے بارے میں اُس کی معلومات دیکھ کر مجھے انتہائی حیرت ہوئی، نہیں تو بچپن میں کچھ سفرناموں میں پڑھا تھا کہ لوگوں کو پاکستان کا بتانے کے بعد باقاعدہ طور پر اُس کا حدود اربعہ بیان کرنا پڑتا تھا کہ یہ مُلک کہاں پایا جاتا ہے، ویسے یہاں کچھ گورے بھی پاکستان کو کوئی عرب ملک خیال کرتے ہیں جو فلسطین کے آس پاس کہیں ہے، اور ایک امریکی تو ایسا بھی ملا جو مجھ سے زیادہ پاکستان کے علاقوں کو جانتا تھا، چترال سے گوادر تک، لیکن اُس کا کام ہی یہی ہے کیونکہ وہ ڈسکوری چینل میں کام کرتا ہے اور پاکستان میں ۳أ۴ سال کا عرصہ گزار چکا ہے ۔
لیکن ان سب باتوں کے بعد بھی سوال وہیں کا وہیں ہے ۔ “پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟” اور “مشرف کیا کر رہا ہے؟” مشرف کی تقریر سُنی تو یقین ہو گیا کہ یہ شخص گمراہ کُن حد تک اِس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہی ایک ہے جو مُلک کو صیح طریقے سے چلا سکتا ہے، لیکن کیا آپ کو تقریر سُننے کے بعد ایسا تو نہیں لگا کہ یہ پاکستان کا صدر ہے بھی یا نہیں؟ پاکستان کے صدر کو اپنی زبان تک بولنا نہیں آتی ۔ آج کل میرا ایک شوق یہاں کنزرویٹیو ٹالک ریڈیو سُننا بھی ہے، سب سے پہلے اُس پر مشرف کی تقریر کا انگریزی والا حصہ سُنا اور میں سمجھ رہا تھا مشرف نے خطاب انگریزی میں کیا ہو گا، لیکن بعد میں پوری تقریر سُنی تو پتہ چلا کہ نہیں انگریزی صرف دوستوں کے لئے بولی تھی ۔
لیکن ایمرجنسی نما مارشل لا کے بعد میرے خیال میں سب سے زیادہ تشویش ناک بات جو ہے، وہ پاکستان کا سیاسی بانجھ بن ہے، جو لوگ اختجاج کر رہے ہیں، وہ سیاسی نہیں ہیں اور جو سیاست میں ہیں وہ شائد ڈیل کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ اقتدار کی ہوس میں صرف مشرف ہی نہیں ہمارے تمام چیدہ سیاست دان بھی ملوث ہیں، جو اقتدار کی ہوس کی وجہ سے کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر کوئی تحریک چلانے کے بھی اہل نہیں ہیں۔ بی بی کو بھی کونڈالیزا رائس کی طرح ایمرجنسی کا پہلے سے پتہ تھا (شائد یہی دوست تھے جن سے مشرف نے پہلے مشورہ کیا تھا) ، لیکن انہوں نے بھی ببانگ دہل اس کی مخالفت کی ہے، جو میرے خیال میں صرف لِپ سروسنگ ہے اندرون خانہ سب آپس میں کچھڑی ہیں ۔
لیکن ان سب حالات کے باوجود بھی میں نا امید نہیں ہوں، نہ ہی میں اس بات سے متفق ہوں کہ یہ “انجام کا آغاز” ہے ۔ بلکہ میرے خیال میں اب پاکستان میں شعور کی بیداری کا سب سے سنہرا موقع ہے، اب عوام کے جاگنے کا وقت ہے، اور اس مشکل وقت میں کئے گئے فیصلے مستقبل کے روشن پاکستان کی ضمانت ہوں گے۔ بس ذرا ہمت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

تبصرہ جات

“روشن پاکستان” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بدتمیز says:

    سلام
    ہر وقت تو کلین شیو رہتے ہیں۔ کوی کیوں کر پاکستان سے ناطہ جوڑے گا۔ میری طرح ہلکی سی شیو رہنے دیا کریں پھر دیکھیں ہر کوئی ایک ہی بات کہے گا پاکستان میں‌کیا ہو رہا ہے 😀

    سیاسی بانجھ پن کی کیا خوب بات کہی۔ ہماری اپوزیشن قیادت انہتای مسخ ہے۔ اور کچھ اچھے خاصے سمجھدار لوگ ان کو معصوم گردانتے ہیں اور خود کو بےوقوف۔

  2. سیاسی جماعتوں اور لوگوں‌ کے بارے میں‌ کیا کہنا ۔ جناب انہوں نے تو ابھی تک اپنے وجود کا اثبات تک نہیں کیا ۔ ہم تو ڈھونڈ رہے ہیں کہ کہاں ہیں پاکستان کے سیاسی جماعتیں اور سیاسی لوگ ۔

  3. بجا فرمایا. اس بحران میں ہمیں بحیثیت قوم ابھرنے کا موقع ملا ہے. اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں. لیکن مایوس کن بات یہ ہے کہ اکثریت کو یہاں سیاست و مارشل لاء وغیرہ سے کوئی دلچسپی ہی نہیں. مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم انتہائی بزدل ہو چکے ہیں.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔