خو پخاور دہ کنا!

Tuesday,30 October 2007
از :  
زمرات : پاکستان


آئی لوو دِس سانگ ۔ لوشے
ساجد اقبال، وقار علی روغانی مجھے اس کے بول چاہیں ہیں ۔

تبصرہ جات

“خو پخاور دہ کنا!” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Pekhawar kho pekhawar de kana : Lyrics
    Manam khaista khaista kharoona shta de
    Kho de pa tolo bande bar de kana
    Da har ze khpal khwandoona khpale maze
    Kho pekhawar kho pekhawar de kana….

    1- Sanga che khar daase noom khkwale de
    pa saree lagi da janan pa shante

    dalta budaa khkwale maashum khkwale de
    peghle ye nang lari da zwan pa shante

    da Malakand pa shante dange ghare
    da har zalmi zra ye khyber de kana

    2- che pukhtane singare dal u ghwari
    da pekhawar na kameez tor u ghwari

    da khpal janan na che tohfa ghwari
    da khar gulona dre salor u ghwari

    che khapero la hom khais zyata wee
    da hosan dase jadugar de kana

    3- laka sare guloona der uweeni
    kho da dilbar tanda pe na mategi

    dase ko sok kharoona der uweeni
    da pekhawar tanda pe na mategi

    har yaw sahar ye da guloono sahar
    kho mazigar kho ye mazigar de kana

    4- zama na chare heredale na shi
    hom de zama hom da janan pekhawar

    pradi kharoona me khwarale na shi
    kor de zamunga da arman pekhawar

    ka da lugo aw ko da shora dak de
    kho zamung zra zamung zeegar de kana

    5- da pukhtano da saqafat nakha da
    da bade wraze pa aman di leedal

    da pukhtano da saqafat nakha da
    da bade wraze pa aman di leedal

    che da sail pa bado na de perzo
    kho da abid da zargi sar de kana

  2. ترجمے کیلیے معذرت. یہاں کئی ایک الفاظ کا مجھے ترجمہ نہیں معلوم. میں کسی اور کو زحمت دیتا ہوں وہ صحیح ترجمہ کر دینگے.

  3. میں حاضر ہوں !

    لیجئے ترجمہ مع پشتو سکرپٹ :

    پیخور خو پیخور دے کنہ !
    پشاور ، ارے پشاور کا کیا کہنا !

    منم خائستہ خائستہ خارونہ شتہ دے ۔
    خو دے پہ ٹولو باندے بر دے کنہ !
    مانتا ہوں کہ خوبصورت سے خوبصورت شہر موجود ہیں
    مگر یہ شھر )پشاور( ، سب پر بالا ہے

    د ھر زائے خپل خوندونہ ، خپلے مزے
    خو پیخور خو پیخور دے کنہ !
    بجا کہ ہرجگہ کی اپنی خوبیاں اور خوبصورتی ہوتی ہے
    مگر پشاور وہ شھر ہے جس کا کوئی جواب نہیں ۔

    سنگہ چہ خار داسے ئے نوم خکلے دے ، پہ سڑی لگی د اشنا پہ شانے
    جس طرح یہ شہر خوبصورت ہے تو اسی طرح اس کا نام بھی دلربا ہے
    اور بالکل اپنے محبوب کی طرح محسوس ہوتا ہے

    دلتہ بوڈا خکلے ، ماشوم خکلے دے ، پیغلے ئے ننگ لری د زوان پہ شانے
    یہاں کے بوڑھے اور بچے خوبصورت ہیں اور یہاں کی دوشیزائیں جوان مردوں کی طرح بہادر ہوتی ہیں

    د ملاکنڈ پہ شانے دنگے غڑے ؛ د ھر زلمی زڑہ ئے خیبر دے کنہ !
    ان دوشیزائوں کے گردن مالاکنڈ پہاڑ کی طرح بلند اور یہاں‌ کے ہر جوان کا دل خیبر (کے پہاڑوں ( کی طرح مضبوط ۔

    چہ پختانے سنگار یدل اوغواڑی ؛ د پیخور نہ قمیص تور غواڑی
    پختون دویشزائیں اپنے بنائو سنگار کے لئے اور اپنے حسن میں اضافے کے لئے پشاور کے کالی قمیص کی طالبگار ہرتی ہیں ) “اپنے عیسیٰ خیلوں کی قیمص تیری کالی مدنظر رکھیئے“

    د خپل جانان نہ چہ تحفہ اغواڑی : د خار گلولونہ درے ثلور غواڑی
    اور جب کبھی اپنے محبوب سے تحفہ کا چاہتی ہیں تو یہ پشاور کے چند پھولوں‌ کا مطالبہ ہوتا ہے ۔

    چہ خورو تہ ھم خائست زیاتوی : د حسن داسے جادوگر دے کنہ !
    یہ شھر حسن کا ایسا جادوگر ہے کہ اگر خور جنت بھی کبھی ادھر آنکلے تو اس کا حسن بھی دوبالا ہوجائے ۔ یعنی اس کے حسن میں اضافہ ہوجائے ۔

    لکہ سڑی گلونہ ڈیر اوینی ؛ خو د دلبر مینہ پرے نہ ماتیگی
    داسے کہ سوک خارونہ ڈیر اوینی ؛ د پیخور تندہ پرے نہ ماتیگی

    چاہے آدمی دنیا جہاں کے شہر دیکھ لے مگر پشاور کی محبت کی پیاس نہیں بھجتی اور یہ ایسا ہی کہ آدمی بہت سے خوبصورت اور خوش نما پھول دیکھنے کے بعد بھی اپنا دلبر کے محبت کا پیاسا ہوتا ہے ۔

    ھر یو سحر ئے د گلونو سحر ؛ خو مازیگر ئے مازیگر دے کنہ !
    اس شہر بے مثال کی صبح ، پھولوں کی صبح کہلاتی ہے ولیکن اس کا وقت عصر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے “یہ تو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ غروب آفتاب کے فورا بعد اگر آپ پشاور کے کھلی فضا میں نکلیں تو عجیب سی مستی اور سرور کا احساس ہوتا ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے مگر شاعر نے اچھی کوشش کی ہے“

    زما نہ چرے ھیریدلے نہ شی ؛ ھم دے زما ، ھم د جانان پیخور
    میں اسے کسی طور بھلا نہیں سکتا کیونکہ یہ میرا بھی شھر ہے اور میرے محبوب کا بھی ۔

    پردی خارونہ مے خوڑلے نہ شی ؛ کور دے زمونگہ د ارمان پیخور
    پرائے شھر ہمیں ہضم نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہمارے ارمانوں کا مرکز پشاور ہی ہے ۔

    کہ د لوگو اور د شورہ نہ ڈک دے ؛ خو زمونگ زڑہ ، زمونگ زیگر دے کنہ !

    کیا ہوا کہ یہ شھر کالے دھویں اور شور سے لبریز ہے ؛ ہے تو ہمارے دل و جگر کا ٹکڑا نا !

    د پختونو د ثقافت نخہ دہ ؛ د بدے ورزے پہ امان دے وی تل
    پختونوں کی ثقافت کا نشان ہے یہ شھر ، خدا اسے ہمیشہ برے دنوں‌ سے اپنے حفظ و امان میں رکھے )آمین(

    چہ د سائل پہ بدو نہ شی پیرزو ؛ خو د عابد د زڑگی سر دے کنہ !

    جب سائل )مراد پشتو کے مشہور شاعر رحمت شاہ سائل( کو یہ گوارا نہیں کہ اس شھر کو کوئی دکھ پہنچے تو سمجھئے کہ یہ شھر بے مثال عابد )اس گیت کے خالق؛ جن کا بدقسمتی سے مجھے مکمل نام یاد نہیں‌ آرہا( کے لئے جان جگر ہے ۔

    نوٹ : یہ لاجواب ملی اور قومی گیت عابد صاحب نے لکھا ہے اور نوجوان فنکار عرفان خان نے بڑی خوبصورتی سے گایا ۔ اس نے ہر جگہ پختونوں میں مقبولیت حاصل کی ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت میری نظر میں یہ ہے کہ اس میں کئی ماضی کے یادگار ملی اور قومی گیتوں کے ٹکڑے بڑے مہارت کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں ؛ جس سے سننے والا کہیں سے کہیں‌ پہنچ جاتا ہے اور اس طرح یہ گیت اپنے جاندار بول کے زور پر اپنے سامعین کو مسحور کردیتا ہے ۔ اس کے بول اس بات کے ثبوت ہیں کہ پختون ایک طرح سے کتنے قوم پرست اور وطن پرست ہوتے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ اچھی بات ہے اور ہر قوم کو اپنے وطن سے محبت کرنی چاہیئے ۔ ایک اور بات جس کی طرح میں اشارہ کرنا ضروری سمجھوں گا کہ جس طرح پاکستان کے پختون پشاور اور کوئٹہ سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں اسی طرح یہ جذباتی تعلق وہ کابل ، جلال آباد اور قندھار کے ساتھ بھی رکھتے ہیں کیونکہ کبھی وہ شھر بھی ہمارے آبائو اجداد کے مسکن رہے ہیں اور ہم اب بھی ان پر اپنا حق جتانے ہیں کہ یہ ہمارے شھر ہیں جسے افغان بھی مانتے ہیں اور افغانستان کے پختون بھی اسی طرح کا جذباتی تعلق پشاور اور کوئٹہ سے رکھتے ہیں ۔

    ہم پختون اپنے شھروں‌ کو زندہ ہستی کی طرح سمجھتے ہیں ۔جس کا ایک ثبوت رحمت شاہ سائل کا وہ گیت ہے ، جو انہوں نے اسی کے دہائی کے اوئل میں لکھا تھا ۔ جب پشاور میں بم دھماکے زوروں پر تھے ۔ اس گیت طرف مذکورہ بالا گیت کے آخر میں اشارہ بھی کیا گیا ہے ۔ اپنے اس گیت میں سائل کہتے ہیں کہ اس کے محبوب شھر کا جسم بموں کے پرزوں سے چھلنی ہورہا ہے اور اس سے خون رس رہا ہے اور شاعر کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسا یہ سب کچھ اس کے زندہ دل کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔ وہ پشاور کو اس گیت میں ایک زندہ محبوب کی طرح مخاطب کرتے ہیں کہ اے میرے شھر ، اے میرے محبوب مجھے یہ گوارا نہیں کہ تمہارے جسم پر بم پھٹتے اور بارود بکھرتا رہے ۔

    امید ہے آپ کو یہ شکستہ سا ترجمہ پسند آئے گا ۔ مع سلام

  4. ساجد اور وقار آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ
    اور ساجد کیا آپ کو پشتو نہیں آتی؟

  5. میں ساؤتھ کا رہنے والا ہوں. ہماری پشتو تھوڑی مختلف ہے اور یہ ٹھیٹھ پشتو میں ہے. اسمیں کئی الفاظ میرے سر پر سے گزر جاتے ہیں.
    فرضی بھائی سے اس سے ملتا جلتا ترجمہ کروایا تھا، لیکن روغانی بھیا نے پہلے پوسٹ کر دیا۔ 🙂

  6. وقار علی روغانی says:

    ارے ساجد !

    کوئی حرج تو نہیں ، آپ بھی وہ ترجمہ پوسٹ کردیں ۔ شائد ہم کچھ سیکھ پائیں ؛ کیونکہ میری اردو اتنی اچھی نہیں ۔

  7. واہ بھئی بہت اچھا ترجمہ کیا روغانی صاحب نے.. ترجمے ساتھ تبصرہ لاجواب ہے…. ..
    شکر ہے ساجد نے میرا ترجمہ پوسٹ نہیں کیا ورنہ روغانی صاحب کے ترجمے کے سامنے پھیکا پڑ جاتا 🙂

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔