آئی لوو دِس سانگ ۔ لوشے
ساجد اقبال، وقار علی روغانی مجھے اس کے بول چاہیں ہیں ۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں
آئی لوو دِس سانگ ۔ لوشے
ساجد اقبال، وقار علی روغانی مجھے اس کے بول چاہیں ہیں ۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں
خو پخاور دہ کنا! پر 7 تبصرے ہوئے ہیں
اس بلاگ پر تمام تبصروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔تبصرہ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے خانہ پر اپنا تبصرہ لکھ کر ارسال کریں۔ رومن اردو یا انگریزی میں کئے گئے تبصروں کے شائع کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔
اردو اشتہارات اقبال امریکہ انتخابات انٹرنیٹ ایکسپلورر اوبنٹو اوپرا ایچ ٹی ایم ایل ایڈسینس ایکسڈنٹ باراک اوبامہ بھارت بہار بیس بال جوا خبریں خودی روابط رہن سہن شاعری علوی نستعلیق فائرفاکس فلکر،ٹریفک سائن فیض احمد فیض ماں مذہب مزاح میڈیا نیویارک نیو یارک ورڈپریس ورڈپریس تھیم وصی شاہ ویب ڈیزائن پاکستان پولیس کانکرر کرکٹ کسینو کھیل ہیلری کلنٹن
جمعتہ المبارک,2 نومبر 2007
Pekhawar kho pekhawar de kana : Lyrics
Manam khaista khaista kharoona shta de
Kho de pa tolo bande bar de kana
Da har ze khpal khwandoona khpale maze
Kho pekhawar kho pekhawar de kana….
1- Sanga che khar daase noom khkwale de
pa saree lagi da janan pa shante
dalta budaa khkwale maashum khkwale de
peghle ye nang lari da zwan pa shante
da Malakand pa shante dange ghare
da har zalmi zra ye khyber de kana
2- che pukhtane singare dal u ghwari
da pekhawar na kameez tor u ghwari
da khpal janan na che tohfa ghwari
da khar gulona dre salor u ghwari
che khapero la hom khais zyata wee
da hosan dase jadugar de kana
3- laka sare guloona der uweeni
kho da dilbar tanda pe na mategi
dase ko sok kharoona der uweeni
da pekhawar tanda pe na mategi
har yaw sahar ye da guloono sahar
kho mazigar kho ye mazigar de kana
4- zama na chare heredale na shi
hom de zama hom da janan pekhawar
pradi kharoona me khwarale na shi
kor de zamunga da arman pekhawar
ka da lugo aw ko da shora dak de
kho zamung zra zamung zeegar de kana
5- da pukhtano da saqafat nakha da
da bade wraze pa aman di leedal
da pukhtano da saqafat nakha da
da bade wraze pa aman di leedal
che da sail pa bado na de perzo
kho da abid da zargi sar de kana
جمعتہ المبارک,2 نومبر 2007
ترجمے کیلیے معذرت. یہاں کئی ایک الفاظ کا مجھے ترجمہ نہیں معلوم. میں کسی اور کو زحمت دیتا ہوں وہ صحیح ترجمہ کر دینگے.
ہفتہ,3 نومبر 2007
میں حاضر ہوں !
لیجئے ترجمہ مع پشتو سکرپٹ :
پیخور خو پیخور دے کنہ !
پشاور ، ارے پشاور کا کیا کہنا !
منم خائستہ خائستہ خارونہ شتہ دے ۔
خو دے پہ ٹولو باندے بر دے کنہ !
مانتا ہوں کہ خوبصورت سے خوبصورت شہر موجود ہیں
مگر یہ شھر )پشاور( ، سب پر بالا ہے
د ھر زائے خپل خوندونہ ، خپلے مزے
خو پیخور خو پیخور دے کنہ !
بجا کہ ہرجگہ کی اپنی خوبیاں اور خوبصورتی ہوتی ہے
مگر پشاور وہ شھر ہے جس کا کوئی جواب نہیں ۔
سنگہ چہ خار داسے ئے نوم خکلے دے ، پہ سڑی لگی د اشنا پہ شانے
جس طرح یہ شہر خوبصورت ہے تو اسی طرح اس کا نام بھی دلربا ہے
اور بالکل اپنے محبوب کی طرح محسوس ہوتا ہے
دلتہ بوڈا خکلے ، ماشوم خکلے دے ، پیغلے ئے ننگ لری د زوان پہ شانے
یہاں کے بوڑھے اور بچے خوبصورت ہیں اور یہاں کی دوشیزائیں جوان مردوں کی طرح بہادر ہوتی ہیں
د ملاکنڈ پہ شانے دنگے غڑے ؛ د ھر زلمی زڑہ ئے خیبر دے کنہ !
ان دوشیزائوں کے گردن مالاکنڈ پہاڑ کی طرح بلند اور یہاں کے ہر جوان کا دل خیبر (کے پہاڑوں ( کی طرح مضبوط ۔
چہ پختانے سنگار یدل اوغواڑی ؛ د پیخور نہ قمیص تور غواڑی
پختون دویشزائیں اپنے بنائو سنگار کے لئے اور اپنے حسن میں اضافے کے لئے پشاور کے کالی قمیص کی طالبگار ہرتی ہیں ) “اپنے عیسیٰ خیلوں کی قیمص تیری کالی مدنظر رکھیئے“
د خپل جانان نہ چہ تحفہ اغواڑی : د خار گلولونہ درے ثلور غواڑی
اور جب کبھی اپنے محبوب سے تحفہ کا چاہتی ہیں تو یہ پشاور کے چند پھولوں کا مطالبہ ہوتا ہے ۔
چہ خورو تہ ھم خائست زیاتوی : د حسن داسے جادوگر دے کنہ !
یہ شھر حسن کا ایسا جادوگر ہے کہ اگر خور جنت بھی کبھی ادھر آنکلے تو اس کا حسن بھی دوبالا ہوجائے ۔ یعنی اس کے حسن میں اضافہ ہوجائے ۔
لکہ سڑی گلونہ ڈیر اوینی ؛ خو د دلبر مینہ پرے نہ ماتیگی
داسے کہ سوک خارونہ ڈیر اوینی ؛ د پیخور تندہ پرے نہ ماتیگی
چاہے آدمی دنیا جہاں کے شہر دیکھ لے مگر پشاور کی محبت کی پیاس نہیں بھجتی اور یہ ایسا ہی کہ آدمی بہت سے خوبصورت اور خوش نما پھول دیکھنے کے بعد بھی اپنا دلبر کے محبت کا پیاسا ہوتا ہے ۔
ھر یو سحر ئے د گلونو سحر ؛ خو مازیگر ئے مازیگر دے کنہ !
اس شہر بے مثال کی صبح ، پھولوں کی صبح کہلاتی ہے ولیکن اس کا وقت عصر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے “یہ تو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ غروب آفتاب کے فورا بعد اگر آپ پشاور کے کھلی فضا میں نکلیں تو عجیب سی مستی اور سرور کا احساس ہوتا ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے مگر شاعر نے اچھی کوشش کی ہے“
زما نہ چرے ھیریدلے نہ شی ؛ ھم دے زما ، ھم د جانان پیخور
میں اسے کسی طور بھلا نہیں سکتا کیونکہ یہ میرا بھی شھر ہے اور میرے محبوب کا بھی ۔
پردی خارونہ مے خوڑلے نہ شی ؛ کور دے زمونگہ د ارمان پیخور
پرائے شھر ہمیں ہضم نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہمارے ارمانوں کا مرکز پشاور ہی ہے ۔
کہ د لوگو اور د شورہ نہ ڈک دے ؛ خو زمونگ زڑہ ، زمونگ زیگر دے کنہ !
کیا ہوا کہ یہ شھر کالے دھویں اور شور سے لبریز ہے ؛ ہے تو ہمارے دل و جگر کا ٹکڑا نا !
د پختونو د ثقافت نخہ دہ ؛ د بدے ورزے پہ امان دے وی تل
پختونوں کی ثقافت کا نشان ہے یہ شھر ، خدا اسے ہمیشہ برے دنوں سے اپنے حفظ و امان میں رکھے )آمین(
چہ د سائل پہ بدو نہ شی پیرزو ؛ خو د عابد د زڑگی سر دے کنہ !
جب سائل )مراد پشتو کے مشہور شاعر رحمت شاہ سائل( کو یہ گوارا نہیں کہ اس شھر کو کوئی دکھ پہنچے تو سمجھئے کہ یہ شھر بے مثال عابد )اس گیت کے خالق؛ جن کا بدقسمتی سے مجھے مکمل نام یاد نہیں آرہا( کے لئے جان جگر ہے ۔
نوٹ : یہ لاجواب ملی اور قومی گیت عابد صاحب نے لکھا ہے اور نوجوان فنکار عرفان خان نے بڑی خوبصورتی سے گایا ۔ اس نے ہر جگہ پختونوں میں مقبولیت حاصل کی ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت میری نظر میں یہ ہے کہ اس میں کئی ماضی کے یادگار ملی اور قومی گیتوں کے ٹکڑے بڑے مہارت کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں ؛ جس سے سننے والا کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اور اس طرح یہ گیت اپنے جاندار بول کے زور پر اپنے سامعین کو مسحور کردیتا ہے ۔ اس کے بول اس بات کے ثبوت ہیں کہ پختون ایک طرح سے کتنے قوم پرست اور وطن پرست ہوتے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ اچھی بات ہے اور ہر قوم کو اپنے وطن سے محبت کرنی چاہیئے ۔ ایک اور بات جس کی طرح میں اشارہ کرنا ضروری سمجھوں گا کہ جس طرح پاکستان کے پختون پشاور اور کوئٹہ سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں اسی طرح یہ جذباتی تعلق وہ کابل ، جلال آباد اور قندھار کے ساتھ بھی رکھتے ہیں کیونکہ کبھی وہ شھر بھی ہمارے آبائو اجداد کے مسکن رہے ہیں اور ہم اب بھی ان پر اپنا حق جتانے ہیں کہ یہ ہمارے شھر ہیں جسے افغان بھی مانتے ہیں اور افغانستان کے پختون بھی اسی طرح کا جذباتی تعلق پشاور اور کوئٹہ سے رکھتے ہیں ۔
ہم پختون اپنے شھروں کو زندہ ہستی کی طرح سمجھتے ہیں ۔جس کا ایک ثبوت رحمت شاہ سائل کا وہ گیت ہے ، جو انہوں نے اسی کے دہائی کے اوئل میں لکھا تھا ۔ جب پشاور میں بم دھماکے زوروں پر تھے ۔ اس گیت طرف مذکورہ بالا گیت کے آخر میں اشارہ بھی کیا گیا ہے ۔ اپنے اس گیت میں سائل کہتے ہیں کہ اس کے محبوب شھر کا جسم بموں کے پرزوں سے چھلنی ہورہا ہے اور اس سے خون رس رہا ہے اور شاعر کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسا یہ سب کچھ اس کے زندہ دل کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔ وہ پشاور کو اس گیت میں ایک زندہ محبوب کی طرح مخاطب کرتے ہیں کہ اے میرے شھر ، اے میرے محبوب مجھے یہ گوارا نہیں کہ تمہارے جسم پر بم پھٹتے اور بارود بکھرتا رہے ۔
امید ہے آپ کو یہ شکستہ سا ترجمہ پسند آئے گا ۔ مع سلام
منگل,6 نومبر 2007
ساجد اور وقار آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ
اور ساجد کیا آپ کو پشتو نہیں آتی؟
بدھ,7 نومبر 2007
میں ساؤتھ کا رہنے والا ہوں. ہماری پشتو تھوڑی مختلف ہے اور یہ ٹھیٹھ پشتو میں ہے. اسمیں کئی الفاظ میرے سر پر سے گزر جاتے ہیں.
فرضی بھائی سے اس سے ملتا جلتا ترجمہ کروایا تھا، لیکن روغانی بھیا نے پہلے پوسٹ کر دیا۔
جمعرات,8 نومبر 2007
ارے ساجد !
کوئی حرج تو نہیں ، آپ بھی وہ ترجمہ پوسٹ کردیں ۔ شائد ہم کچھ سیکھ پائیں ؛ کیونکہ میری اردو اتنی اچھی نہیں ۔
جمعتہ المبارک,9 نومبر 2007
واہ بھئی بہت اچھا ترجمہ کیا روغانی صاحب نے.. ترجمے ساتھ تبصرہ لاجواب ہے…. ..
شکر ہے ساجد نے میرا ترجمہ پوسٹ نہیں کیا ورنہ روغانی صاحب کے ترجمے کے سامنے پھیکا پڑ جاتا