حجاب

Friday,24 August 2007
از :  
زمرات : پاکستان, مذہب

حجاب کے بارے میں یورپ میں ایک عرصے سے بحث جاری ہے، عموماً مغربی معاشروں میں ایک ایسی خاتون جو کہ حجاب میں ہو، اُس کے بارے میں یہ خیال بہت پُختہ ہے، کہ ایسی خواتین کو دبایا جاتا ہے، اور وہ مجبور اور بے بس ہیں کہ اپنی “خوبصورتی” کو چھپا کر رکھیں۔

تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی دوسری وجوہات کی بنیاد پر عائد کی گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ جس بات پر وزن دیا جاتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مذہب کے نام پر کسی قسم کی تفریق نہیں ہونی چاہیے ہے۔ میں چونکہ ایسے کسی مُلک میں رہتا نہیں ہوں اِس لئے مجھے اِس بارے میں صرف سُنی سُنائی، پڑھی پڑھائی اور اب یو ٹیوب کی بدولت کچھ دیکھی باتیں معلوم ہیں، لیکن اس بحث کے بارے میں تفصیلاً کچھ اتنا معلوم نہیں ہے، اور نہ ہی میری اِس تحریر کا مقصد اِس بات پر بحث ہے۔

میرا سوال ہے کہ کیا حجاب عورت کی ترقی میں، اُس کی ذہنی نشوونُما میں حائل ہے؟
جو لوگ عورت کی صلاحیتوں کا اعتراف اُس کا لباس دیکھ کر کرتے ہیں، وہی اصل طبقہ ہے جو عورت کو اپنے مقاصد کی خاطر دبانا چاہتا ہے ۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو ذیل کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیے ۔ جو کہ ماشااللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ٹی وی شو کا کلپ ہے۔


تبصرہ جات

“حجاب” پر 5 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. اجمل says:

    مسئلہ یہ نہیں کہ ٹی وی کیا کہتا ہے یا حکمران یا سُپر پاور کیا کہتی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم مسلمان ہیں ؟ اور اگر ہیں تو کیا ہم نے اللہ کا حکم ماننا ہے یا کہ اللہ سے دور بھاگے ہوئے لوگوں کا ؟

  2. جب بھی حجاب کی بحث ہوتی ہے ہمارے ذہن میں‌ایک ہی سوال آتا ہے۔ ہر معاشرے کے آزادی کے اپنے اپنے اصول ہیں۔ مغرب میں‌عورت حجاب نہیں‌لیتی مگر جسم کے زیادہ تر حصے کو ڈھانپتی ہے۔ اسی طرح مرد کام کے دوران اپنے جسم کو عورتوں کے مقابلے میں‌زیادہ ڈھانپتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا ہے ہر معاشرے کو کوئی نہ کوئی ضابطہ اخلاق طے کرنا ہوتا ہے۔ اسلام اس میں‌حجاب کو بھی شامل کرلیتا ہے جبکہ مغرب حجاب کے علاوہ باقی کپڑوں کا استعمال کرتا ہے۔ اگر آزادی ہی درکار ہے تو پھر معاشرہ الف لللہ ننگا کیوں نہیں‌ہوجاتا یا پھر عورت ہی اپنی ٹانگیں اور بازو ننگے کرکے کیوں‌گھومتی ہے مرد کیوں نہیں۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام نے عورت پر پابندیاں‌لگائی ہیں تو یورپ بھی پیچھے نہیں‌ہے۔ یورپ میں‌بھی وہی عورت زیادہ ترقی کرے گی جو مرد کو اپنی طرف کھینچے گی۔ ڈسکرمینیشن یورپ میں‌بھی ہے۔

  3. انتہائی شرمناک….
    ایسی فضول بحثوں سے ترقی کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں.
    اللہ کا حکم حرفِ‌آخر ہے، اسمیں فضول تاویلات گھڑنا تباہی کو دعوت دینا ہے اور کچھ نہیں…

  4. افضل صاحب آپ کی بات سے مجھے تھوڑا سا اختلاف ہے کہ معاشرہ دُنیا میں موجود کسی ایک گروہ کے رسوم و رواج کو کہتے ہیں جب کہ اسلام ہر معاشرے کے لئے ہیں، اسلام ایک مذہب ہے نا کہ name of arabic supermac۔
    دوسری بات جو اس ویڈیو میں قابل ذکر تھی وہ ان صاحب کا استدلال تھا کہ اگر حجاب کا مقصد عورت کو دوسروں کی نظروں سے بچانا ہے تو زیادہ لوگ اُسی کو دیکھتے ہیں جو عورت حجاب کرتی ہے۔ بالکل دیکھتے ہوں گے خاص طور پر مغربی ممالک میں یہ بات زیادہ دُرست ہے، لیکن جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں، کیا وہ، وہ دیکھ پاتے ہیں۔ گلی محلے میں خاص طور پر مضربی ممالک میں جن کو ہم روشن خیال سمجھتے ہیں آپ پانچ منٹ سڑک پر کھڑے ہو جائیں تو کیا جب کوئی پرکشش خاتون گزرتی ہے لوگ اُس کے اعضاء کے بارے میں تبصرے نہیں کرتے؟ یہاں تو منہ پر کہہ دیتے ہیں you have nice ….. آگے آپ اپنے پسندیدہ اعضاء کا نام لکھ دیں۔ لیکن کسی با حجاب خاتون کے اعضاء کے بارے میں کوئی ایسی بےہودہ بات کہتا ہے، لوگ چاہے لاکھ باتیں اور کریں، اُس کے اعضاء کے بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا۔
    دوسرا استدلال جو کہ اور بھی بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ کیا “مرد ذات” ہمیشہ ہی یا تمام مرد ہی عورت کی جنسیت ہی کو دیکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ نہیں تمام نہیں مگر کچھ ضرور کرتے ہیں اور اُنہی کچھ کا آپ کو نہیں پتہ کہ کونسے والے ہیں وہ، اور اُن کی گندی نظروں سے بچنے کے لئےآپ سب سے حجاب کرتے ہیں۔
    اور تیسری بات اسلام میں حجاب صرف عورت کا نہیں بلکہ مرد کا بھی ہے، بلکہ سورہ نُور میں جہاں حجاب کا ذکر آتا ہے وہاں مرد کے حجاب کا ذکر پہلے ہے اور خواتین کا بعد میں۔ دونوں کے حجاب کی صورتیں جسمانی اعضاء کے لحاظ سے مختلف ہیں، تو صرف عورت کا حجاب ہی کیوں ہمیشہ بحث کا موضوع ہے۔ یہ کہیں اس لئے تو نہیں کہ جس پر ہمارا حق نہیں ہم وہ دیکھنا چاہتے ہیں؟

  5. راہبر says:

    بہت اچھا استدلال ہے ماشاء اللہ. کاش کہ بے پردگی کو روشن خیالی کی دلیل سمجھنے والے اس حقیقت کو سمجھیں.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔