کبھی کبھی مجھے پاکستان میں جاری بحث مباحثے دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہے۔ دانش وروں کی باتیں پڑھ اور سُن کر ایسا لگتا ہے کہ اِن کا دانش سے ہی کوئی تعلق نہیں ہے، اُن کی دانش صرف اُن چیزوں پر صرف ہوتی ہے جِن کے بارے میں اُنہیں اور سے متحرک کیا جائے، خود کسی مسلے پر عمل درآمد کرنا ہمارے دانشوروں میں ناپید ہو رہا ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں حدود آرڈینیس کی بات چلی تو ہر کوئی اِس بحث میں اُلجھ گیا ، ایک طرف یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ شاید اس آرڈینینس کی وجہ سے ہی تمام معاشرتی برائیوں نے جنم لیا ہے، اور دوسری طرف والوں کا یہ کہنا تھا کہ اگر یہ ایک آرڈینینس نہیں ہوتا تو پاکستانی معاشرہ اتنا پاکیزہ نہیں ہوتا جتنا یہ آج ہے ۔ ان مباحثوں میں حدود آرڈینینس کے مخالفین کا ایک نقطہ نظر یہ بھی رہا تھا کا اِس کا استعمال دُرست طور پر نہیں ہو رہا ہے اور اکثر مظلوم ہی اس کے تحت سزا پا لیتے ہیں (میرے خیال میں زیادتی کے شکار افراد پر حدود آرڈینینس نہیں مجرمانہ قوانین کا اجرأ ہونا چاہیے) ۔
وہ تمام لوگ جو حدود آرڈیننس کے خلاف اور اس بات پر کہ اُس کا درست استعمال نہیں ہوتا ہے، آج جامعہ حفصہ کے مسلہ پر کہاں ہیں؟ اور اُن تمام لوگوں کی طرف سے کسی ایک طرف سے بھی جامعہ حفصہ کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے خلاف عدالت میں رجوع کیوں نہیں کیا گیا ہے؟ ہم سے بہت سے لوگوںں کو یہ بات بڑی مضحکہ خیز لگتی ہے کہ چار عینی گواہوں کی موجودگی کی کوئی تُک نہیں بنتی ہے۔ مگر اِس بات کی خوبی آنٹی شمیم والے واقعے میں جامعہ حفصہ کے اقدامات میں ظاہر ہوتی ہے جہاں صرف محلے والوں کی شکایات پر ہی عمل کر دیا گیا۔ کیا جامعہ حفصہ کے پاس آنٹی شمیم کے خلاف چار عینی شاہد موجود ہیں؟ اور اگر ایسے چار گواہ موجود تھے بھی تو کیا کسی نے عدالت میں جانے کی زہمت کی۔
میری ناقص رائے میں تو جامعہ حفصہ کے خلاف حدود آرڈنینس کے تحت مقدمہ ہونا چاہیے ہے اور اگر وہ اسلام میں موجود تمام شقیں( ایسے چار گواہ جنہوں نے آنٹی شمیم کو خود اپنی آنکھوں سے وہ تمام افعال انجام دیتے دیکھا ہو جس کا اُس پر الزام لگایا ہے) پوری نہیں کر سکتے، تو جامعہ پر حدود کے تحت سزا کا نفاذ ہونا چاہیے۔
لیکن میں ابھی تک اُن دانش وروں کی تلاش میں ہوں جو احتجاج میں پیش پیش تھے کہ کب تک وہ صرف دکھاوے کا اختجاج ہی کرتے رہیں گے؟
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





اتوار,24 جون 2007
کبھی کبھی دکھ ہوتا ہے؟

یعنی اکثر آپ کو ایسے مباحثے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے؟
اتوار,24 جون 2007
محترم ۔ آپ حدود کے سلسلہ میں قرآن و حدیث کا مطالع کیجئے ۔ حدود آرڈیننس تو نافذ کر دیا گیا تھا لیکن پراسیکیوشن کا طریقہ انگریزوں کی غلامی کے دور کا تھا اور نفاذ کرنے والے بد کردار ہونے کی وجہ سے اس کا صحیح اطلاق بہت کم ہوا ۔ اس سلسلہ میں میری مندرجہ ذیل ٹحریر آپ کی شائد کچھ راہنمائی کر سکے
http://iftikharajmal.wordpress.com/2006/03/30/
جہاں تک جامعہ حفصہ یا فیدیہ کے غلط اقدامات کا تعلق ہے تو روشن خیال حکومت ان کے خلاف سخت قدم اُٹھانے سے اس لئے ڈرتی ہے کہ جہاں جہاں بھی وہ اُنگلی رکھ رہے ہیں وہاں غلاظت حکمرانوں ہی نے پھیلائی ہوئی ہے ۔ اصل حالات کوئی چھاپ نہیں رہا ۔ شمیم کے ساتھ اگر زیادتی ہوئی تھی تو اس نے یا حکومت نے کیوں حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کروایا تاکہ جھوٹا الزام لگانے والوں کو اسی اسی کوڑوں کی سزا ملتی ؟ صرف جامعہ حفصہ یا فریدیہ پر ہی مقدمہ درج کروانے کا زور کیوں ہے ؟
آپ یہ بتائیے کہ ہیلتھ و مساج سینٹر ۔ سیکٹر ایف 8 کی چینی عورتیں تین مردوں کی رات ساڑھے بارہ اور ڈھائی بجے کے درمیان کونسی مالش کر رہی تھیں ؟
اور پِمس کے نرسنگ ہوسٹل کا کیا قصہ تھا جس کو رفع دفع کرنے کیلئے وہاں توہینِ رسول کا پروپیگنڈہ کیا گیا ؟
اتوار,24 جون 2007
انکل اجمل میں نے حدود آرڈینینس کی نہیں اسلام میں حدود کے قوانین کی بات کی ہے، اور جامعہ حفصہ کے خلاف زور اس لئے ہے کہ وہ دینی تعلیم دیتے ہیں اور اسی کا غلط استعمال کر رہے ہیں.
اور جہاں تک حدود کے قوانین پڑھ کر میری ناقص عقل میں بات آتی ہے وہ یہی ہے کہ اسلام گھر اور چار دیواری کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، نا کہ صرف محلے والوں کے یہ کہہ دینے پر سزا نافذ نہیں ہو جاتی کہ کوئی یہاں دھندا کر رہا تھا، کیا جامعہ حفصہ نے آنٹی شمیم کے خلاف گھر اور چار دیواری کی حدود کو پامال نہیں کیا؟
ویسے تو میرے خیال میں پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علما نے بھی جامعہ کے اقدامات کو غیر اسلامی قرار دیا ہے، مجھے تو نہیں شاید انہیں دین کا کچھ علم ہو گا ہی؟
اتوار,24 جون 2007
Lal masjid molvi’s own words;
غازی عبدالرشید کا کہنا تھا کہ کسی اچھے مقصد کے لیے اگر غلط راستہ اپنایا جائے تو اُسے ٹھیک نہیں کہا جا سکتا۔
http://tinyurl.com/2dlfnx
Except he is saying this for someone lese…doesn’t want to apply on himself.
Molvis and hypocrisy seems to go hand in hand these days….others (politicians etc.) are hypocrites too but at least they don’t call themselves mama (as in Punjabi) of Islam, like maulanas do..>
می صاحب امید ہے اگلی دفعہ تبصرہ کرتے وقت آپ درست ای میل کا استعمال کریں گے۔
پير,2 جولائي 2007
جہانزیب ،
آنٹی شمیم کا قصہ تو زبان زد عام ہو چکا اب اور شاید تم نے پوری کہانی نہیں پڑھی وہ پورا ایک اڈہ چلا رہی تھی اور آخر میں تو اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے خلاف کاروائی ہوئی تو قومی اسمبلی کے 200 جی ہاں 200 کے قریب ممبران کا نام بتا دوں گی جو ادھار پر چل رہے ہیں.
اس پر ایک پورا کالم منو بھائی کا ہے جو مشہور سوشلسٹ ہیں اور سرخے کی حیثیت آج بھی برقرار ہے ان کی. آنٹی شمیم روپوش ہیں اور میرا نہیں خیال کہ اب واپس آئیں گی.
منگل,3 جولائي 2007
محب آنٹی شمیم جو کر رہی تھی نہ ہی میں نے اُسے درست کہا ہے اور نہ ہی میں آنٹی شمیم کی وکالت کر رہا ہوں یہاں۔ آنٹی شمیم چاہے فحاشی کا اڈا چلا رہی تھی یا ائیرپورٹ، یہ بھی میری تحریر کا موضوع نہیں ہے۔
آنٹی شمیم غلط کر رہی تھی مگر جامعہ خفصہ والوں نے جو کیا وہ بھی غلط تھا، مُلکی قانون کے مطابق بھی اور اسلام کے مطابق بھی، یا کم از کم میں جتنا اسلام کو سمجھتا ہوں اُس کی رو سے جامعہ خفصہ کے اقدامات غیر قانونی ہیں۔ غلط کام کسی بھی جانب سے ہو ہمیں اُس کو غلط کہنے کا حق ہونا چاہیے، اور میرے خیال میں ایک برائی کو ختم کرنے کے لئے دوسری برائی کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔
جمعتہ المبارک,27 جولائي 2007
اصولی طور پر دیکھا جائے تو تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے جہانزیب کہ یہ اقدام غیر قانونی اور غیر اسلامی تھا مگر اس کے بعد سوالات کا ایک سلسلہ ہے جو رکتا نہیں ہے. قانون کے تحت جو کام کیا جا رہا تھا وہ غیر قانونی تھا اور ہے مگر قانون اس کے خلاف حرکت میں آنے سے قاصر تھا کہ ملک میں قانون بااثر اور طاقتور طبقہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے لیے کام کرتا ہے جو خرابیوں کی اصل جڑہے.