چشمِ نَم جامِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پو شیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو
دست افشاں چلو
مست و رقصاں چلو
خاک بَر سر چلو
خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو
خاکمِ شہر بھی
مجمع عام بھی
صبحِ ناشاد بھی
روز ناکام بھی
تیرِ الزام بھی
سنگ دُشنام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب با صفا کون ہے؟
دست قاتل شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو، دل فگارو چلو
پھر ہم ہی قتل ہوں، یارو چلو ۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





جمعرات,9 اگست 2007
اچھی ہے!!!!
جمعتہ المبارک,10 اگست 2007
پسند کرنے کا شکریہ شعیب
جمعتہ المبارک,31 اگست 2007
بہت اعلی.