چشمِ نَم جامِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پو شیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو
دست افشاں چلو
مست و رقصاں چلو
خاک بَر سر چلو
خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

خاکمِ شہر بھی
مجمع عام بھی
صبحِ ناشاد بھی
روز ناکام بھی
تیرِ الزام بھی
سنگ دُشنام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب با صفا کون ہے؟
دست قاتل شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو، دل فگارو چلو
پھر ہم ہی قتل ہوں، یارو چلو ۔


یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں

کلامِ شاعر بزبانِ شاعر پر 3 تبصرے ہوئے ہیں

اس بلاگ پر تمام تبصروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔تبصرہ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے خانہ پر اپنا تبصرہ لکھ کر ارسال کریں۔ رومن اردو یا انگریزی میں کئے گئے تبصروں کے شائع کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

Trackbacks/Pingbacks