جتنے لوگ ہر سال امریکہ کو اپنا مسکن بناتے ہیں شائد ہی کوئی اور ملک اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکے، قانونی اور غیر قانونی تارکین کا وطن جہاں اس وقت غیرقانونی تارکین وطن کو قانونی دائرہ کار میں لائے جانے کے بارے میں بحث جاری ہے اور ۱۲ ملین لوگوں کے لئے یہ بحث اس وقت سب سے اہمیت کی حامل ہے، ان کے لئے نہ عراق کی جنگ اہم ہے نہ ہی کچھ اور بلکہ اہم ہے تو کیا ان کو امریکہ میں قانونی حثیت حاصل ھو جائے گی کہ نہیں، لیکن اتنے زیادہ تارکین وطن لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی عوامی سطح پر تارکین وطن کے خلاف کسی قسم کا کوئی تعصب نہیں پایا جاتا ہے، کچھ ایکٹوسٹ بہرحال غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حثیت دئے جانے کے خلاف ضرور ہیں مگر ان تارکین کے خلاف نہیں، گلوبلائزیشن اگر تمام دنیا کے لوگوں کے ایک جگہ دیکھے جانے کو کہا جاتا تو اسکو ہم امریکہ کی سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں جہاں چین سے لے کر چلی تک ہر قوم کا فرد اور زبان آپ کو دیکھنے اور سننے میں ملتی ہے، ہر کوئی اپنے کام میں مگن، کسی کو کسی سے گلہ نہیں۔
اس کے برعکس ہمارا ملک ہے، بنیادی طور پر چار ریاستیں(صوبے)، ثقافت میں حد درجہ تک ہم آہنگی، قدرتی طور پر صدیوں سے اکھٹے رہنے والے مگر شکائتیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، ہر کوئی دوسرے سے نالاں، اگر ایک شخص کو نوکری ملتی ہے تو اس کی محنت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی قومیت کو اس کی وجہ قرار دینا اتنا عام ہو گیا ہے کہ سمجھ نہیں آتا کیا کیا جائے، اس کی وجہ کیا ہے؟ تعلیم کی کمی؟ لیکن جو پڑھے لکھے ہیں وہی تو اس میں سب سے آگے ہیں۔
مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کے بارے میں سیاسی، فوجی جو بھی نقطہ نظر ہے وہ ایک الگ بحث ہے، لیکن میرے خیال میں سب سے بڑی وجہ عوام میں دوری تھی، ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ نہ ہونے میں تھا جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو انہیں اپنی من پسند کے حقائق بتانے کا کھلا موقع تھا۔ آج ہم پھر ویسی ہی صورتحال کا شکار ہیں ہر کوئی دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہا ہے، وجہ وہی ہے رابطہ نہ ہونا، جس پر آپ انگلیاں اٹھا رہے ہیں وہاں جا کر دیکھیں کہ کیا وہ آپ جیسے نہیں ہیں، آپ کی طرح نہیں رہتے، ہم سب کے ایک ہی مسائل ہیں اور ہم سب کو اکھٹا مل کر ان کا حل سوچنا ہے، تعصب سے اپنے آپ کو آزاد کرنا ہے کیونکہ تعصب تخریب کی طرف لے جاتا ہے اور ہمیں تعمیر کی جانب جانا ہے پنجابی، پٹھان، بلوچ اور سندھی مل کر ہی پاکستانی بنتا ہے۔


یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں

ایک پاکستانی پر 3 تبصرے ہوئے ہیں

اس بلاگ پر تمام تبصروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔تبصرہ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے خانہ پر اپنا تبصرہ لکھ کر ارسال کریں۔ رومن اردو یا انگریزی میں کئے گئے تبصروں کے شائع کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

  1. Mehar Afshan

    Galib ki rooh say mazrat kay saath,
    Pakistanion ki hay kami Galib hazaar dhondo to aik milta hay,

  2. Anonymous

    true jahanzaib!

    bardasht khatam ho gayi hai.

    pakistan mai ye haal hai..k ager koi app k saath seedha chaley..tu ouss pay shak kiya jata hai..k iuss ko koi matlab ho ga….ya koi sach boley tu ouss ko b ghalat kaha jata hai..ye humrey baro ka haal hai…tu bachay tu hotey pagal hain.

    lalah

  3. saad

    Main nain Crab climbing k baaray main sunaa thaa mager practically implemented aajkal office main dekh reha huun. Duusray lafzon main yuun kehna chaahiye, k “Taang Khaichna…”. Ager baat yehin tak rehti tau chalo phir theek thaa, mager haal yehaan yeh hai k kisi nain ager achaa kaam kiaa ho tau uska immediate boss saara credit le jaata hai…and the life goes on

Trackbacks/Pingbacks