دانيال کی پوسٹ سے متاثر ہو کر لکھا ہے اور صرف انہيں کے سوالوں کے جوابات دينے کے لئے يہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔
اسرائيل ايک غاصب ملک ہے جس نے طاقت کے زور پر فليسطينی علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں کے رہنے والوں کو بے گھر کر ديا اور ١٩٦٨ کی جنگ ميں اپنے علاقوں ميں غير قانونی طور پر توسيع کی۔ اس لئے اسرائيل کی حمائت غاصبيت کی حمائت اور کمزوروں کی دل شکنی کا باعث ہے۔
استنبول ملاقات سے پہلے آپ نے کتنی مرتبہ اپنے بلاگ پر فلسطین کے بارے میں کیا کچھ لکھا ہے؟ لنکس فراہم کریں۔>
کبھی بھی نہيں لکھا اور اس لکھنے کا محرک بھی آپ کی تحرير ہے۔اصل ميں ميرا بلاگ لکھنا وقت گزارنے کا ايک بہانہ ہے ميں نے کبھی بھی اپنے بلاگ کے لئے کوئی موضوع تجويز نہيں کيا وہ ميرے ارد گرد کے حالات اور جس وقت ميں پوسٹ لکھ رہا ہوتا ہوں اس وقت کے مزاج پر منحصر ہوتا ہے۔
ميرے خيال ميں يہ ميں پہلے سوال ميں کہہ چکا ہوں غاصبيت کی حمائت کرنا کمزوروں کی دل شکنی کا باعث ہے۔ اور بے بسی ميں انسان آخری حدوں تک چلا جاتا ہے۔ بہت سادہ الفاظ ميں اسے يوں کہوں گا جسے آج ہم دہشت گردی کہتے ہيں اس ميں اضافہ ہو گا اس طرح کے رويوں سے۔ اور الٹا ميں يہ سوال پوچھنا چاہوں گا کہ اسرائيل کو تسليم کرنے سے ہميں کيا فائدہ ہو گا؟ دفاعی فائدہ؟ ميرا نہيں خيال ايسا ہونا ممکن ہے اسرائيل کی اکانومی اسلحہ سازی کی صنعت پر منحصر ہے اور وہ اپنا فائدہ ديکھے گا کہ کس جگہ سے اس کے تحفظات ہيں۔ اگر ہم سمجھتے ہيں کہ اسرائيل کو تسليم کرنے کے بعد وہ بھارت کو اسلحہ فروحت نہيں کرے گا تو يہ ايک بے بنياد بات ہے۔ اگر اس بات کا مشاہدہ کرنا ہو تو اسرائيل کی چين کے ساتھ فيلکن ريڈار بيچنے کے معاہدے کو ديکھ ليں جسے امريکہ نے زيادہ پيسے ادا کر کے روک ديا تھا۔ تو اسرائيل اسی سمت جائے گا جہاں اسے فائدہ ہو گا۔
تقريبا ١٥-٢٠ کے درميان اسرائيلوں کو اور صرف جانتا نہيں ہوں بلکہ انکے ساتھ کام کرتا ہوں۔ جب سے ميں نيو يارک آيا ہوں تقريبا ٥ سال ہونے والے ہيں تب سے ميں اسرائيلی باس کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ ويسے اس سوال کا مقصد کيا تھا؟
اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے اور اسرائیلی نقطہ نظر کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟>
کہ اسرائيل يہوديوں کا حق ہے جہاں سے انکو سلطان صلاح الدين ايوبی کے دور حکومت ميں بے دخل کر ديا گيا تھا۔ اور يہ ميرے نہيں ميرے باس کے الفاظ ہيں۔
باقی اگر آپ کو دونوں طرف کی ہسٹری پڑھ کر خود کچھ اندازہ لگا نا ہے تو مختصر تاريخ يہاں پر ديکھ سکتے ہيں۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





منگل,6 ستمبر 2005
آپ نے بی بی سی کا لنک دے کر اچھا کیا ورنہ ہمارے نام نہاد روشن خیال لوگ کہتے کہ لکھنےوالے متعصب ہیں اور یہودیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں وغیرہ ۔ اقوام متحدہ کا انصاف مجھے یاد ہے فلسطین میں 6 فیصد زمین کے مالکوں کو فلسطین کی 56 فی صد زمین دیے دی اور بیت المقدس کو بھی بین الاقوامی بنا دیا تھا ۔ بعد میں اسرائیل نے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ اللہ مسلمانوں کو اصلی مسلمان بنائے ۔
Posted iftikharajmal
بدھ,7 ستمبر 2005
Jahanzaib…. thats a good post even though i don’t have an isreali friend.. but i m agree with u
Posted shaper
جمعرات,8 ستمبر 2005
Suddenly Israel ko sir per kyun charhaa liya hai, yeh baat samaj se bahir hai. Ager us ko tasleem hi karna hai ya relations rakhni hain to pehle din se aisa kyun nahi kia. ab jub ek policy bana rakhi thi to us ko follow karen. mujhe yeh nahi samaj aati k yeh jo sawal uthaatay hain k un se baat na kar k kiya faaida ho ga ya us ko tasleem karnay ka kiya nuqsaan ho ga.
main counter question poochna chahoun ga k us ko tasleem karnay ka kiya faaida ho ga? kiya duniya mein technolöogy sirf israel k paas hai ya humaari zarooret ki cheezen israel hi export karta hai? kiya faaida ho sakta hai us ko tasleem karnay ka? jub k its crystal clear k wo USA se bhi ziada dhokay baaz qaum hai even said in Quran by Allah k yeh log kabhi tumhaaray dost nahi ho saktay.
aur un ko na tasleem kar kay atleast hum palestine kosupport to kar rahay hain na politicaly..
Posted Zaheer
جمعرات,8 ستمبر 2005
diplomatic disaster.
misbah
Posted Anonymous
اتوار,11 ستمبر 2005
asalam o alikum
as pointed out by zaheer bhai usko tasleem karny ka kia faida ho skata ha? mujhy bhi samjh nhi ati
likin ik baat ha isreal k sath hamaray taluqat thy..or hain bhi…ye or baat ha phly un officially hotay thy..ab ye sab kuch officially hoga
mein yahan 2 links deti houn…ager mujhy online wo articels miltay hain toh..do read..
http://www.jang.com.pk/jang/sep2005-daily/08-09-2005/editorial/col7.gif
Posted tashfeen
اتوار,11 ستمبر 2005
and here is the 2nd
thora lamba hoga..likin apkay sab sawaloun k jawab hain yahan
http://www.jang.com.pk/jang/sep2005-daily/10-09-2005/editorial/col7.gif