آپ اس وقت تقابل پڑھ رہے ہیں ۔ یہ تحریر مورخہ جمعتہ المبارک,7 اکتوبر 2005 کو جہانزیب نے پاکستان کے زمرہ میں ارسال کی تھی ۔
اس تحریر پر ہونے والے تبصروں سے آگاہ رہنے کے لئے Comments RSS کو اپنے فیڈ ریڈر میں بُک مارک کر لیں ۔
اس تحریر سے اپنی تحریر منسلک کرنے کے لئے ٹریک بیک پتہ ذیل میں دیا گیا ہے
Trackback URL
پاکستان کے دو ادارے پاکستان آرمی اور پوليس ۔ ايک عزت دار پيشہ دوسرا بدنام ترين۔ ايک کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت دوسرے ہر وقت حالت جنگ ميں مگر پھر بھی بدنام۔ دونوں ميں شموليت کے لئے بظاہر ايک جيسا معيار تو پھر اتنا فرق کيوں ہے۔۔ ہم دو نوجوانوں کا جائزہ ليتے ہيں جنہوں نے ايف اے کيا ہے ايک آرمی ميں جاتا ہے دوسرا پوليس ميں ۔ ايک کا پہلا عہدہ سکينڈ ليفٹيننٹ ہے دوسرے کا پہلا عہدہ سب انسپکٹر ہے۔ ايک کو سيکنڈ ليفٹيننٹ بنتے ہی تمام اعلی درجے کی سہوليات ميسر ہيں جس میں گھر گاڑی اور الاؤنسز شامل ہيں اور اسے عوام سے دور رکھ کر باور کرايا جاتا ہے ہم اعلی ہيں we are not bloody civilians اور ہر جگہ پر اسے فوقيت ہے کسی دفتر ميں عوام ميں ہر جگہ وھ لفٹين صاحب ہيں۔۔ دوسرا سب انسپکٹر بن کر سڑک پر آ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے حوالے جو کام کيا جاتا ہے اس کے لئے بھی ناکافی سہوليات ہيں۔ جو تنخواہ اسے دی جاتی ہے وہ اس کے لئے نہيں بلکہ کسی کے لئے بھی کافی نہيں ہے۔
آرمی ميں جانے والے کے سامنے ايک لائحہ عمل ہوتا ہے جس پر عمل کر کے وہ ترقی کی منازل بغير کسی رکاوٹ کے طے کر سکتا ہے۔ سب انسپکٹر کے سامنے ايسا کوئی لائحہ عمل نہيں ہے بلکہ اس کے سامنے سياسی بھرتيوں والے ڈائريکٹ انسپکٹر حتی کہ ڈائرئکٹ ايس پی تک موجود ہيں۔ جس سے اس کی ترقی کے امکانات کم سے کم تر ہوتے جاتے ہیں اور وہ سالوں جس جگہ پر آتا ہے وہيں رکا رہتا ہے۔ اس پر ہمارے سسٹم ميں ايک اور چيز اے سی آر ہے جس کی بدولت وہ اپنی اے سی آر جس پر ترقی کا دارومدار ہوتا ہے کو صيح رکھنے کے لئے بجائے اپنا کام کرے وہ اپنے افسران کی جی حضوری ميں لگا رہتا ہے اور افسران ناراض نا ہو جائيں ، يہی اس کی سب سے بڑی پريشانی ہے۔
جہاں ايک طرف پورے پاکستان کی پوليس بدنام ہے وہيں ايک طرف موٹر وے پوليس ہے جس کی ہر کوئی تعريف کرتا ہے تو کيا وجہ ہے جب وہی پوليس والے عام پوليس ميں ہوتے ہيں تو ان کی تعريف نہيں کی جاتی جبکہ موٹروے پوليس ميں جاتے ہی ان کی تعريفيں شروع ہو جاتی ہيں۔۔ ہر شخص ايک عزت دار طريقے سے روزی کمانا چاہتا ہے۔ موٹروے پوليس ميں تنخواہيں تين گنا ہيں تو انہی پوليس والوں کو جو بدنام تھے جب عزت کی روٹی ملی انہوں نے اپنا آپ منوا کر بھی دکھايا۔ پھر ہم لوگ پوليس کی کوتاہی سے فورا ہی ان کا ترقی يافتہ ممالک کی پوليس سے تقابل شروع کر ديتے ہيں۔ صرف نيويارک پوليس کا بجٹ پاکستان پوليس کے بجٹ سے زيادہ ہے۔ يہاں ايک پوليس والا بغير کسی خوف کے کسی کو بھی غيرقانونی حرکت پر روک سکتا ہے اور اسے ڈر نہيں کہ اسکی روزی چلی جائے گی يا اسے کھڈے لائن لگا ديا جائے گا۔ کيا آپ نے پڑھا نہيں تھا کہ صدر بش کی بيٹي کو شراب نوشی کر کے گاڑی چلانے پر حوالات کا منہ ديکھنا پڑا تھا اور کيا اس کے بعد کسی نے يہ بھی سنا کہ اس پوليس افسر کا تبادلہ کر ديا گيا يا اس کو معطل کر ديا گيا؟ اتنے بجٹ اور وسائل کے باوجود بھی قتل کے ٤٠ فی صد کيسز حل طلب ہيں مگر اسکے باوجود کوئی پوليس پر انگلی نہيں اٹھاتا ہے۔
ہمارے ملک کی پوليس ميں بھی سياسی بھرتيوں کو بند ہونا چاہيے ہے کيونکہ جو سياسی بھرتی سے پوليس ميں آئے گا وہ عوام کی نہيں اپنے سياسی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے کام کرے گا۔ پوليس ميں داخلے کے لئے ڈائريکٹ ايس پی اور انسپکٹر کی بھرتی بند ہونی چاہيے اور آرمی کی طرح سب کو سب انسپکٹر کے عہدے سے آغاز کروانا چاہيے اور اسکے لئے اے سی آر سے زيادہ اس کی ملازمت کا ريکارڈ ديکھ کر اور امتحانات لے کر ترقی متعين کی جائے۔ ويسے کبھی آپ نے آرمی ميں کسی کو ڈائريکٹ کپتان بھرتی ہوتے ديکھا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر پوليس کو ايک باعزت روزگار مہيا کيا جائے اگر اسے چار ہزار ہی دينے ہيں تو يقينا ايک ايسی نوکری ميں جو ٢٤ گھنٹے پر محيط ہو وہ اپنا پيٹ کہاں سے پالے گا۔ يقينا وہ غير قانونی ذرائع کا سہارا لے گا۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں
جمعتہ المبارک,7 اکتوبر 2005
موٹر وے پولیس سے تو میرا واسطہ نہیں پڑا۔
میں ایک دفعہ ٹرک پر سفر کر ہا تھا ہائی وے پر تو میں نے ایک جگہ دیکھا کے ایک افسر گاڑی لگا کر کھڑا ہے اور اس کے ماتحت ہر گزرنے والے ٹرک سے رشوت اکٹھی کر رہے ہیں۔
وہاں اتنی لمبی لائن لگی تھی آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔
آرمی والا پولیس والے کے کان پکڑوا سکتا ہے۔(مرغابنانا)اور میں ایسے شخص کو جانتا ہوں۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے میری نانی کہ رہی تھی کہ کیا کرنا ہے کمپوٹر پڑھ کے؟
لفٹین بن جا۔
جمعتہ المبارک,7 اکتوبر 2005
پاكـ فوج كى كيا بات ەے جى ــ
پاكـ فوج جوائيں كريں اور پاكستان كا صدر بننے كے مواقعےحاصل كريں ـ
ہفتہ,8 اکتوبر 2005
مشرف کے آنے کے بعد سے فوج کا وقار بھی گرا ہے ان کے کچھ کام ہی ایسے رہے
ہفتہ,8 اکتوبر 2005
جیسا تقابل آپ نے پو لیس اور فوج کا کیا ہے۔ ایسا ہی تقابلی جائزہ جاوید چوہدری نے فوج اور سول سروس کا کیا ہے اہنی کتاب زیرو پوانٹ میں