يومِ پاکستان پريڈ نيويارک

Thursday,18 August 2005
از :  
زمرات : پاکستان, نیو یارک

نيويارک ميں ميڈيسن ايونيو پر ہر سال پاکستان ڈے پريڈ کا انعقاد کيا جاتا ہے جس ميں کثير تعداد ميں پاکستانی نا صرف نيويارک سے بلکے نيو جرسی کنکٹيکٹ پنسلوانيا ، ميساچيوسٹس سے بھی شرکت کرتے ہيں، اور تعداد ہزاروں ميں ہوتی ہے۔پريڈ عموما ١٤ اگست کے دو ہفتے بعد والے اتوار کو منعقد کی جاتی ہے اور ہندوستان کی پريڈ عموما پاکستان کی پريڈ سے ايک ہفتہ پہلے ہوتی ہے۔ ہم سب دوست بھی پچھلے ٣ سال سے اس پريڈ ميں شرکت کر رہے ہيں۔نو جوانوں کی زيادہ تعداد تو فنکاروں کی وجہ سے آتی ہے اور ہم جيسے ايک سال بعد اتنے سارے پاکستانيوں کو اکھٹا ديکھنے کے شوق ميں چلے جاتے ھيں۔
اب ايک بات جو ميری سمجھ سے باہر ہے وہ ہے بيرونِ ملک بھی گروہوں ميں بٹا رہنا ہے۔آپکو نيويارک ميں ہی پاکستان پيپلز پارٹی، مسلم ليگ فلاں گروپ فلاں گروپ اور ايسی ايسی جماعتوں کے دفاتر مليں گے جن کو پاکستان ميں کوئی جانتا ہی نہيں ہے۔ملک سے باہر آکر بھی بجائے ملک کی نمايندگی کريں اپنے اپنے گروہوں کی نمايندگی کر رہے ہوتے ہيں۔ عموما پاکستان کی تمام بڑی جماعتوں کے نمايندوں کو دعوت دی جاتی ھے اور انکو خطاب کرنے ديا جاتا ہے تو تين سال پہلے کی پريڈ ميں شہباز شريف کو بھی مدعو کيا گيا تھا اور جب وہ اپنی باری پر خطاب کرنے آئے جو کچھ لوگوں نے شور مچانا شروع کر ديا اور حد يہ کہ اپنے جوتے اتار کر دکھانا شروع کرديے اور اسی ہلڑ بازی کی وجہ سے نيويارک کے مير جو کہ مہمانِ خصوصی تھے کو جلدی جانا پڑا۔اور جوتے والی تصاوير اگلے دن نيويارک کے اخباروں ميں پاکستان ڈے پريڈ کی خبر کے ساتھ آ گئی اور ملک کی ساکھ ميں اضافے کا باعث بنی۔
اب اس سال مجھے يہ پتا نہيں چل رہا ہے کہ آيا پريڈ ہو رہی ہے يا کہ نہيں جو کہ ٢٨ تاريخ کو طے تھی۔اس کی بنيادی وجہ بھی ہمارا گروہوں ميں بٹا رہنا اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی وجہ سے ہے۔ہر سال پريڈ کے دوران ايک گروہ دوسرے گروہ پر الزامات لگاتا رہتا ہے کہ کھا گئے اور اصل بات يہ ہے کہ ہميں کھانے ميں شامل نہيں کيا ہے۔ان دو گروہوں کی چپقلش بہت سالوں سے جاری تھی اور تان اس سال آ کر اس بات پر ٹوٹی ہے کہ ايک گروہ دوسرے گروہ کو عدالت ميں لے گيا ہے جس کی وجہ سے ہم جيسے پاکستانی جو کہ پورا سال پريڈ ميں شرکت کا سوچتے رہتے ہيں شايد اس دفعہ پريڈ سے محروم رہ جائيں۔ابھی آج ھی آخبار ميں ايک گروہ کی طرف سے اشتہار شائع کيا گيا ہے کہ ہمارا مقصد پريڈ کو منسوخ کروانا بالکل نہيں ہے بلکہ اسکو قبضہ گروپ سے چھڑوانا ہے۔آخر ميں تان وہاں ہی آ کر ٹوٹتی ہے اصل بات پاکستانيوں کی خدمت نہيں ہے ٹرسٹيوں کا حصول ہے اور اس سے ذاتی فوائد کا حصول ہے دوسرے لفظوں ميں نمبر بنانے کا چکر۔چاہے کسی گروپ کو بھی پريڈ کے حقوق مليں اگر اس سال پريڈ نہيں ہوئی تو ہم جيسے جو مہينوں پہلے پلان کرتے رہتے ہيں انہی کا نقصان ہے۔اس سلسلے ميں يھی کہوں گا کہ پاکستانی قونصليٹ کو پريڈ کا انتظام کرنا چاہيے جيسا کہ ہندوستانی کرتے ہيں تا کہ کسی قسم کا کوئی جھگڑا ھی نا رہے۔

تبصرہ جات

“يومِ پاکستان پريڈ نيويارک” پر ایک تبصرہ ہوا ہے
  1. Anonymous says:

    you are rite in saying. 

    Posted Saira

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔