بھیانک غلطی

Wednesday,2 June 2010
از :  
زمرات : اردو

میری گذشتہ تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندوستان سے شعیب نے گوگل مترجم میں ایک غلطی کی نشاندہی کی تھی، جو غلطی سے زیادہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے ۔ یہ شرارت گوگل میں کام کرنے والے کسی ہندوستانی کی بھی ہو سکتی ہے یا Contribute better translation کا استعمال کرتے ہوئے ایک سے زیادہ لوگوں کی اجتماعی کوشش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ۔
Screenshot
تفصیل یوں ہے کہ اگر آپ گوگل پر اردو میں “پاکستان”، “کراچی” اور “افغانستان” لکھ کر ہندی میں ترجمہ کریں تو ہندی میں ان تمام الفاظ کا ترجمہ “بھارت” لکھا آتا ہے ۔ کسی بیچارے کی معصوم خواہش ۔

گوگل کو اردو سکھائیں

Sunday,30 May 2010
از :  
زمرات : کمپیوٹر, اردو

میرے دو دوستوں کے ہاں چند دن کے وقفہ سے بیٹے پیدا ہوئے، اب دونوں کی عمر ماشااللہ تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب ہے ۔ لیکن ایک ہی عمر کے ہونے کے باوجود پہلی دفعہ ملنے والا شخص فوراً ایک فرق محسوس کرتا ہے، کہ ایک بچہ فر فر نا صرف اردو بلکہ چند جملے انگریزی کے بھی بول سکتا ہے، جبکہ دوسرا صرف ابھی اماں اور بابا کے علاوہ کوئی مکمل جملہ ادا نہیں کر سکتا ۔ اس کی بنیادی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے یہی ہے کہ جو بچہ پورے جملے بول لیتا ہے اس کے تین بڑے بھائی بہن ہیں جبکہ دوسرا والدین کی پہلی اولاد ہے، اور اس سے ہر وقت باتیں کرنے والا یا اس کے دماغ میں نئے الفاظ کے ڈیٹا شامل کرنے والے کم افراد ہیں ۔

گوگل نے ابھی حال ہی میں اردو کے لئے ترجمہ کی سہولت مہیا کی ہے، جو فی الحال ابتدائی مراحل میں ہے، اگر آپ اس وقت کسی بھی دستاویز یا ویب صحفہ کا اردو سے انگریزی یا اس کے متضاد ترجمہ کریں تو نہ صرف وہ ترجمہ مجہول ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات دونوں تراجم کے مابین قوسین کے فاصلہ جتنا فرق بھی پایا جا سکتا ہے ۔ مطلب ابھی اس سہولت سے صرف مسکرانے کا لطف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

گوگل نے زبانوں کے مابین مترجم سہولت کا آغاز اقوام متحدہ میں مستعمل چھ زبانوں کو بنیاد بنا کر کیا تھا، اور ان چھ زبانوں کے مابین ایک ہی جیسے مواد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی لائبریری سے استفادہ لیا گیا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ ان چھ زبانوں کے مابین ترجمہ کرتے وقت اگر آپ گوگل مترجم کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو نوے فیصد تک درست ترجمہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس ترجمہ کی بنیاد پر آپ ایک زبان سے تقریباً پوری عبارت دوسری زبان میں سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔

اردو کے لئے یہ سہولت نہیں ہے البتہ ایک مزید سہولت گوگل نے کچھ عرصہ پہلے متعارف کروائی تھی جس کا فائدہ اٹھا کر ہم گوگل کی اردو کو نستعلیق بنا سکتے ہیں۔ اس سہولت کا نام ہے گوگل مترجم ٹول کٹ، جس کا استعمال انتہائی آسان ہے ۔

آپ گوگل ٹول کٹ کی ویب سائٹ پر جائیں اپنی گوگل آئی ڈی جو کہ جی میل یا بلاگ سپاٹ والی آئی ڈی ہے کے ذریعے رسائی حاصل کریں تو جی میل سے ملتا جلتا ایک صحفہ کھل جائے گا ۔


اوپر والی تصویر میں نیا ترجمہ شروع کرنے کے لئے upload کا بٹن دبانے سے ایک نئی ونڈو کھلے گی جو ذیل کی تصویر میں دکھائی گئی ہے ۔

اگر آپ کے پاس کمپوٹر پر کوئی بھی ایسی دستاویز پڑی ہے جسکا ترجمہ آپ کر سکتے ہیں اُسے پہلے والی ترجیح Local File سے upload کیا جا سکتا ہے ۔اس طریقہ سے اگر آپ کے کمپیوٹر یا گھر میں کسی کتاب کا اردو اور انگریزی ترجمہ موجود ہے تو اس کو گوگل پر upload کر دینے سے کافی سارا کام ویسے ہو جائے گا۔

دوسری ترجیح Web Page کی ہے، جسے کم از کم اردو بلاگ دانوں کو ضرور استعمال کرنا چاہیے، یہاں آغاز کے طور پر آپ اپنے بلاگ کی تحریروں کا ترجمہ شروع کر سکتے ہیں، اور گوگل سے منظوری کے بعد شائد آپکا اپنا ترجمہ ہی استعمال کیا جائے گا ۔ بالکل اسی طرح اگر آپ انگریزی بلاگ پڑھتے ہیں تو پسندیدہ تحریروں کو اردو میں واپس ترجمہ بھی کر سکتے ہیں، انگریزی بلاگرز بھی اپنے بلاگ کے ساتھ یہی سب کر سکتے ہیں لیکن اس کا امکان کم ہی ہو شائد ۔

سب سے بہتر ترجیح Wikipedia article کے ترجمہ والی ہے، اگر آپ کسی Wikipedia پر موجود صحفہ کا ترجمہ کریں گے تو گوگل اسے Wikipedia پر post to the source پر کلک کرنے سے متعلقہ زبان میں ارسال کر دے گا۔

اسی طرح گوگل Knol پر موجود صحفات کا ترجمہ کر دینے سے بھی گوگل واپس اسے Knol پر ڈال دے گا ۔


ان سب طریقوں میں سے کسی ایک کو بھی منتخب کرنے سے گوگل اصل عبارت اور اس کے متوازی مشینی ترجمہ کو کھول دے گا، جسے پھر آپ آہستہ آہستہ درست کرتے جائیں گے ۔ اس کا مشاہدہ ذیل کی تصویر سے کیا جا سکتا ہے ۔

سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جوں جوں آپ تراجم کرتے جائیں گے، آپ کی ٹرانسلیشن میموری بڑھتی جائے گی، اور ایک ہی جملے کا ترجمہ آپکو ہر بار درست نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح گروپ بنا کر ترجمہ کرنے سے ایک رکن کے ترجمہ کرنے کی صورت میں سب ارکان کی ٹرانسلیشن میموری بڑھ جائے گی ۔ اصل دنیا میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فرض کریں آپ اپنے بلاگ کی ایک تحریر کا ترجمہ کرتے ہیں، اب بلاگ کا ہیڈر، سائیڈ بار کا پہلی بار آپکو ترجمہ درست کرنا پڑے گا، لیکن جب آپ دوسری تحریر کا ترجمہ کریں گے تو ان تمام کا جملوں کا درست ترجمہ پہلے ہی درست ہو گا جس کا ترجمہ آپ پہلے کر چکے ہوں گے، اور آپ کو صرف تحریر اور چاہیں تو تبصروں کا ترجمہ ہی درست کرنا پڑے ۔ اسی طرح جب آپ صرف اپنی تحاریر کا ہی ترجمہ کرنا چاہتے ہوں، اور تبصروں کو چھوڑنا چاہتے ہوں تو تحاریر کا ترجمہ مکمل کرنے کے بعد Edit میں جا کر Translation Complete کو منتخب کر سکتے ہیں ۔

دوسرا کام جو بلاگر خواتین و حضرات شائد کرنا چاہیں گے، وہ ٹرانسلیشن ٹول بار کا اپنے بلاگ پر اضافہ کا ہے، جیسا کہ اس بلاگ پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایسا کرنے کے لئے اس ربط پر موجود کوڈ کو نقل کر کے اپنے سانچہ میں چسپاں کر دیں ۔ یہاں سے بھی گاہے بگاہے آپ ترجمہ کو بہتر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، کسی تحریر کا ترجمہ کروا کے جب آپ ماوس کو تحریر پر لے جائیں گے تو Suggest a better translation ظاہر ہو جائے گا، اس کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔

اب کتنے عرصہ میں گوگل کا اردو بچہ درست اردو بولنے لگے گا، یہ اس کے بہن بھائیوں یعنی ہم پر منحصر کرتا ہے کہ کتنی جلدی ہم اسکو زبان سکھاتے ہیں ۔

دیسی مرد

Friday,22 January 2010
از :  
زمرات : پاکستان, امریکہ

دیسی خواتین کی شکایت
مگر اس بات پہ بہت غصہ آتا ھے یورپ میں چاھے ھم شلوار قمیض میں ھوں یا سکارف یا جینز میں کوئ نہیں دیکھتا اگر کہیں کوئ پاکستانی ھو تو وہ ضرور آپ کو دیکھے گا
دیسی مرد کا جواب
آپ اس چکر میں مجھے کیوں دیکھتی ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ نہیں؟

آپ کتنے بہادر ہیں؟

Saturday,17 October 2009
از :  
زمرات : پاکستان

تنہائی اور نیٹ گردی میں راز داری کی قدر مشترک ہے، کسی دوسرے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اِس دوران آپ کیا گل کھلاتے ہیں ۔ جو صارف پچھلے سات آٹھ سال سے مسلسل نیٹ گردی کی عادت میں مبتلا ہیں، وقت کے ساتھ ان کی ترجیحات میں بھی یقیناً بہت تبدیلی آئی ہو گی ۔
میری نیٹ گردی میں اب تقریباً نوے فی صد وقت یو ٹیوب پر گزرتا ہے، اتنا کہ میں گوگل میں تلاش کرنے سے پہلے میں یو ٹیوب میں تلاش کرتا ہوں ۔ بالفاظ دیگر میری نیٹ گردی کو یو ٹیوب گردی کا نام دیا جا سکتا ہے ، جس کا عکس اب بلاگ پر بھی اکثر ویڈیوز کی صورت نظر آتا رہتا ہے ۔
Fear Factor کسی زمانہ میں ٹیلی ویژن پر میرا پسندیدہ پروگرام تھا، سو ایک دِن اس کی ویڈیوز دیکھتے ہوئے متعلقہ ویڈیوز میں ایک باپردہ لڑکی کو دیکھ کر تجسس سے اُسے کھولنے پر خلاصہ کچھ یوں نکلا “آپ کا Dare ہے کہ اس بھینس کے ہونٹوں پر Kiss کرنا ہے”
لو جی Fear Factor کا دیسی چربہ بنام Living on the Edge آپ کے سامنے ہے ۔ پھر مزید ویڈیوز دیکھنے پر آیڈیشن کی ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں محب وطن پاکستانی لڑکی، پھر ایسی لڑکی جو کیمرہ کے سامنے وہ سب کرنے کو بہادری کہہ رہی تھی جو بقول اس کے باقی کیمرہ کے پیچھے کرتی ہیں اور سب سے بہترین حیدر آباد کا لڑکا جو برہنہ حیدرآباد میں دوڑ لگانے پر نہ صرف تیار تھا بلکہ آڈیشن میں باقاعدہ طور پر برہنہ ہو بھی گیا ۔
اور میں یہ سوچ رہا تھا، کہ پاکستان ہے تو میں کہاں رہتا رہا ہوں ۔ اور جو امریکہ میں کھلم کھلا میڈیا پر نہیں دکھایا جاتا وہ پاکستانی میڈیا پر کیسے چل رہا ہے؟ بلکہ شائد مقبول بھی ہے ۔
خیر اب جو اس بہادری کی ویڈیو ملی ہے، اسے دیکھتے ہیں ۔

کیا پاکستان میں میڈیا کے لئے کچھ ضوابط ہیں؟
زنا بالجبر کے اعتراف پر قانون کی کیا ذمہ داری ہے؟

جلن

Tuesday,13 October 2009
از :  
زمرات : میری زندگی

عرصہ دراز بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ہے، اور ایسا وقت چنا ہے جب ایچ ون این ون نامی بَلا سے بندے کا پہلے ہی “تراہ” نکلا ہو ۔ نیویارک کے اطراف میں تین افراد اِس موذی وائرس کا شکار بن چکے ہیں ۔ ویسے بھی بیماری کی حالت میں لوگ شکرانہ بجا لاتے ہیں کہ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جھڑ جاتے ہیں، سات آٹھ سال بیمار نہ پڑنے سے مجھے شک سا ہونے لگا تھا کہ میں کوئی چھوٹا گناہ کرتا ہی نہیں ۔
بیماری کی حالت اور جیل جانے میں ایک مماثلت اپنے ساتھ وقت گزارنا بھی ہے، جو روزمرہ کے معمولات کے باعث انسان کو کم میسر ہوتا ہے ۔ امریکی جیل خانوں (یہاں خان سے مراد قوم نہیں) متعین مذہبی علماء کے مطابق اسی تنہائی اور یکسوئی کی بدولت انسان کا رجحان مذہب کی جانب زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ پاکستانی جیلوں میں کہنے والے کہتے ہیں کہ عادی مجرم بن کر نکلتا ہے ۔
بیمار بھی خدا کے قریب ہوتا ہے اسی لوگ دعا کروانے بھی عیادت کو پہنچ جاتے ہیں،گھر میں بیمار پڑنے اور جیل جانے میں ایک فرق کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بھی ہے، اس لئے بیماری میں خدا کے قریب ہوتے ہوئے بھی جیل جیسی ذہنی یکسوئی حاصل نہیں ہو پاتی۔ البتہ اس بارے سوچنے کا وقت ضرور مل جاتا ہے کہ میں بیمار ہوا کیوں؟
کافی سوچ بیچار کے بعد معلوم ہوا کہ حسد سے، اوپر تلے کچھ بلاگ ایسے پڑھے جنہوں نے ذہن میں ایک ہی سوال کو ابھارا “یار مُجھ میں کیا کمی ہے؟” لیکن جاننے والے کہتے ہیں کہ کمی کا تو نہیں البتہ فریق مخالف کے ساتھ جو زیادتی ہو گی اُس کا ضرور معلوم ہے، اللہ غارت کرے بورن اندسٹری والوں کو سب راز افشاء کر دئے ۔ البتہ اب اگر کوئی آپ کو “آئی لَوو یُو” کہے، سر راہ “مسز بننے ” کی دعوت دے یا “سکور کردہ سینچری” کے جوش میں میچ کو نشر مکرر سے پہلے اُن کا سوچ لیا کریں جن کے ہاتھ ابھی بیٹ ہی نہیں لگا بقول محبوب عزمی


لڑکی کہاں سے لاؤں میں شادی کے واسطے
شاید کہ اس میں، میرے مقدر کا دوش ہے
عذرا، نسیم، کوثر و تسنیم بھی گئیں
“اِک شمع رہ گئی ہے،سو وہ بھی خموش ہے”

ایسے “بیچارے” جلن سے بیمار ہو سکتے ہیں ۔

فوجی عدالت

Thursday,1 October 2009
از :  
زمرات : پاکستان

ہاتھیوں کی لڑائی میں فصلوں کے نقصان کا سُنا تھا، ویڈیو شئرنگ ویب سائٹ کی بدولت دیکھ پہلی دفعہ رہے ہیں ۔طالبان کے ہاتھوں ایک لڑکی کو سرعام کوڑے مارنا ظلم تھا تو ذیل کی ویڈیو میں دکھایا گیا فوجی انصاف اُس سے کہیں بدتر ہے ۔

سوال وہیں ہے کہ معاشرے میں انصاف ہونا چاہیے، لیکن انصاف کا مطلب صرف چیف جسٹس کی بحالی نہیں، بلکہ ایسا نظام کا نفاذ ہے جس میں لوگوں کو یقین ہو کہ ان پر ظلم کرنے والے کو پوچھا جائے گا ۔

دودھ دھلے

Thursday,10 September 2009
از :  
زمرات : پاکستان

پاکستان میں سب ہی سیاسی جماعتیں اور اُن کے رہنما دودھ کے دُھلے ہیں، اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ میں اُس جماعت کا رکن ہوں، اب وہ چاہے جو مرضی کر لیں وہ غلط ہو ہی نہیں سکتے ۔
آپ تحریک انصاف کے کارکن سے کہیں کہ عمران خان کا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ درست نہیں تھا، مسلم لیگ نواز کے کارکن سے کہیں کہ ضلعی حکومتوں کا نظام ہمارے مفاد میں ہے اسے جاری رہنا چاہیے، پیپلز پارٹی کے جیالے سے کہیں کہ بلاول کو زرداری بھٹو بنا کر جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے، جماعت اسلامی کے کارکن سے کہیں کہ طالبان کی کھلی مخالفت نہ کر کے نوجوانوں کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں، اور ایم کیو ایم کے کارکن سے کہہ کر دیکھ لیں کہ جب جماعت پاکستان کی ہے تو سربراہ بھی پاکستانی ہونا چاہیے نہ کہ برطانوی شہری ۔ اِن سب سوالات کے جوابات میں وہ کارکن شائد لٹھ لے کر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے ۔ کیوں؟
میرے خیال میں ہمارے ہاں ایک رویہ پنپ چکا ہے، کہ جو ہمارا پسندیدہ ہو اُس کی ہر خامی کو ہم خوبی سمجھتے ہیں، اور جو نا پسند ہو اس میں موجود خوبیاں بھی خرابیاں بن جاتی ہیں ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک اچھا شخص مکمل طور پر اچھا ہو یا ایک برا شخص مکمل مجسم برائی ہو ۔ یہ ماننے میں کیا ہرج ہے کہ انسان اچھائی اور برائی یا غلطی کہہ لیں کا مرکب ہے؟
ایک جماعت سے وابستگی رکھتے ہوئے کیا اپنی جماعت پر تنقید کا حق ہم کھو دیتے ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جماعت کا رکن ہوتے ہوئے اس کی پالیسی یا کسی رہنما کی حرکت پر تنقید کر کے بھی اُسی جماعت سے منسوب رہوں ۔ میرے خیال میں تو یہ ایک جمہوری عمل ہے پھر بھی ہمیں اپنے ہاں ایسے لوگ کیوں نظر نہیں آتے جو اپنی ہی جماعت پر تنقید کر رہا ہو، جنہوں نے ایسا کیا وہ جماعتوں کا حصہ نہیں رہے بلکہ جماعتوں سے خارج کر دئیے گئے ۔
پچھلی تحریر میں مصطفیٰ کمال کی ایک ویڈیو اور اُس پر فرحان دانش کا تبصرہ دیکھ کر ذاتی طور پر تو مجھے افسوس ہوا، لیکن یہ سوالات تھے جو ذہن میں آئے، مصطفیٰ کمال نے بلاشبہ اچھے کام کئے ہیں لیکن اُن کو اس قسم کا کوئی حق نہیں پہنچتا جو اِس ویڈیو میں انہوں نے خواتین کے ساتھ روا رکھا ہے، عزت نفس بہت قیمتی اثاثہ ہے جس کی انہوں نے دھجیاں بکھیری ہیں۔ اگر وہ صرف آرام سے خواتین کی بات سُن لیتے اور نرمی سے صرف دلاسہ دے دیتے تو شائد خواتین مطمعن ہو جاتیں، اِس ویڈیو میں جو شائد آپ کو نظر نہیں آیا وہ میں بتاتا ہوں کہ حفاظتی حصار کے باہر سے واویلا کر کے خواتین مصطفیٰ کمال کے پاس اس یقین کے ساتھ آئیں تھیں کہ وہ بات سنیں گے، لیکن اس نے تو ان کا وقار مجروح کر دیا ۔ میں مصطفیٰ کمال کو اچھا منتظم تو مان سکتا ہوں لیکن اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اچھا انسان بالکل بھی نہیں مان سکتا۔ یہ میری رائے ہے اور اس کا مجھے حق ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ جہاں میں رہتا ہوں وہاں کا مئیر اگر کسی سے اس لہجے سے بات کرتا تو وہ سابق مئیر ہوتا ۔ لیکن یہی تو فرق ہے جمہوریت میں اور پارٹی بازی میں ۔

دو نمبر مئیر

Wednesday,9 September 2009
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

تمام دنیا کے شہری ناظمین میں دوسرا درجہ حاصل کرنے والے ناظم کا “رعایا” کو تسلی دینے کا ایک اشٹائل۔

سیب اور دو دو

Tuesday,25 August 2009
از :  
زمرات : نیو یارک

نیویارک اور بڑا سیب مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اتوار کو بڑے سیب میں سیبوں کی نمائش کھلے عام کی گئی، پر میرا تو روزہ تھا ۔

لاہور کے شیر

Monday,24 August 2009
از :  
زمرات : متفرق

مزاح لکھنا آسان نہیں ہے، مزاح لکھنے کے لئے انسان کا ڈفر یا پھر رانا ہونا ضروری ہے، ویسے تو بلو یا بلا سے بھی کام چل جاتا ہے ۔
میرے جیسے انسان مزاح میں بھی “گیس پیپر” کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر “بوٹیاں” لے کر مزاح لکھتے ہیں، جیسے میرا ایک تکیہ کلام بلکہ کئی ایک “تکیے” بوٹیوں کی بدولت ہیں، زیادہ تر مزاحیہ بوٹیاں میں نیویارک کے ایک اردو کالم نگار کے کالموں سے اڑاتا ہوں نام یاد نہیں آ رہا اور فی الوقت میرے پاس اخبار موجود نہیں، شائد وجاہت کر کے نام ہے ۔ (وجاہت علی عباسی ۔ ترمیم)
ویسے تو میں نے سُنا ہے کہ پنجابی کے فی البدیہہ واہیات ڈرامے جنہیں مزاحیہ کہہ کر بیچا اور دیکھا جاتا ہے وہ بھی یونس بٹ یا گل نو خیز اختر جیسے لوگوں کی بوٹیاں ہی لگاتے ہیں، جب سے میں نے گل نو خیز اختر کی ٹائیں ٹائیں فِش پڑھی ہے، مجھے یقین ہے یہی بندہ پنجابی ڈراموں کی جگتیں لکھتا ہے ۔
ویسے حقیقت میں مجھے سمجھ بھی انہی کی جگتوں ، معاف کجیئے گا مزاح کی آتی ہے، نہیں تو عطاء الحق قاسمی یا مشتاق احمد یوسفی کے مزاح پر تو ایک دن بعد بلکہ بعض اوقات ہفتہ بھر بعد اُس کی کسی سے تشریح کروا کر ہنسی آتی ہے ۔
دماغی حالت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہماری ایک نئی نویلی اردو بلاگر عنیقہ یا انیقہ؟ ناز کی تحریریں پڑھنا شروع کروں تو لگتا ہے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے، تحریر کے اختتام تک پہنچ کر تبصرہ کرنے لگو تو دماغ ساتھ چھوڑ جاتا ہے کہ کہا کیا گیا ہے ۔
“اینی وے” مزاح کے لئے میں ابھی ایک ویڈیو کی بوٹی لگا رہا ہوں، کچھ لوگوں کو یہ جگتیں یا چوولیں بھی لگ سکتی ہیں، پر میرا تو ہاسا نکل جاتا ہے عزیزی انکل کی باتیں سُن کر ۔