![]()
ڈیوڈ الیگزنڈر پیٹرسن نے آج ایلیٹ سپٹزر کے استعفی کے بعد باقاعدہ طور پر ریاست نیویارک کے گورنر کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ ڈیوڈ پیٹرسن پہلے سیاہ فام امریکی ہیں جو گورنر کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں، ساتھ ہی وہ پہلے نابینا شخص بھی ہیں جو کسی ریاست کے گورنر بنے ہیں ۔
ویسے اِس لڑکی
کی وجہ سے پچھلے گورنر کو یہ دِن دیکھنا پڑا ہے ۔
ویسے امریکہ میں اب سب کام ہی تاریخ ساز ہونے لگے ہیں ۔ پہلے کبھی کوئی سینیٹر کبھی صدارتی الیکشن نہیں جیت سکا تھا، اب کی بار تینوں امیدوار ہی سینیٹر ہیں ۔ ہیلری بنی تب پہلی عورت صدر، اوبامہ بنا تب پہلا سیاہ فام صدر، مکین بنا تب سب سے بڈھا صدر ۔
لیکن کیا سینیٹر کا کام سینیٹ میں موجود رہنا نہیں ہے؟ کیونکہ پچھلے ایک سال سے یہ تینوں سینیٹرز اپنی اپنی سیاسی مہم چلا رہے ہیں، ساتھ ہی اپنی تنخواہ وصول کر رہے ہیں ۔ کیا یہ اپنی جاب کے ساتھ ڈنڈی مارنے میں شمار نہیں ہو گا؟ لوگوں نے تمام مذکور افراد کو سینیٹ کے لئے منتخب کیا تھا، اور وہ بہتر جاب کی دوڑ میں جس جاب کے لئے منتخب ہوئے تھے اُس میں کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟
اور اس کے علاوہ اس ہفتے نیویارک شہر میں ایک تعمیراتی کرین ایک عمارت پر گرنے سے اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ نیویارک شہر میں حالیہ تاریخ میں سب سے المناک تعمیراتی حادثی تھا ۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





بدھ,19 مارچ 2008
نیویارک کے گورنر والے معاملے میں تو میں امریکی نظام میں بڑوں کے احتساب کا معترف ہوں.. رہا صدر بننے کا معاملہ تو یہ تو عجیب سی صورت اختیار کرتا جارہا ہے .. ہر روز کوئی نئی پھلجڑی چھوٹتی ہے اور کرکٹ کے گیم کی طرح پانسہ کبھی ادھر کبھی ادھر .. ویسے کہا یہی جارہا ہے کے ابتدائی الیکشن کو اتنا طول دینا ڈیموکریٹس کو نقصان پہچائے گا اور جو کام ریپبلیکن امیدوار کو کرنا تھا وہ ڈیموکریٹ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر خود ہی کر رہے ہیں… امریکی عوام کو اگر انکے ڈنڈی مارنے پر اعتراض نہیں تو ہم چہ پدی اور چہ پدی کا شوربہ
بدھ,19 مارچ 2008
راشد میں بقلم خود بھی تو امریکی عوام ہوں .
جمعرات,20 مارچ 2008
چلیں “ہم” کو “میں” سے تبدیل کر لیں اور بحیثیت امریکی عوام میں آپ کا بھی قائل ہوں:)