nypatersondavida.jpg
ڈیوڈ الیگزنڈر پیٹرسن نے آج ایلیٹ سپٹزر کے استعفی کے بعد باقاعدہ طور پر ریاست نیویارک کے گورنر کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ ڈیوڈ پیٹرسن پہلے سیاہ فام امریکی ہیں جو گورنر کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں، ساتھ ہی وہ پہلے نابینا شخص بھی ہیں جو کسی ریاست کے گورنر بنے ہیں ۔
ویسے اِس لڑکیkritin-dupre.jpg کی وجہ سے پچھلے گورنر کو یہ دِن دیکھنا پڑا ہے ۔
ویسے امریکہ میں اب سب کام ہی تاریخ ساز ہونے لگے ہیں ۔ پہلے کبھی کوئی سینیٹر کبھی صدارتی الیکشن نہیں جیت سکا تھا، اب کی بار تینوں امیدوار ہی سینیٹر ہیں ۔ ہیلری بنی تب پہلی عورت صدر، اوبامہ بنا تب پہلا سیاہ فام صدر، مکین بنا تب سب سے بڈھا صدر ۔
لیکن کیا سینیٹر کا کام سینیٹ میں موجود رہنا نہیں ہے؟ کیونکہ پچھلے ایک سال سے یہ تینوں سینیٹرز اپنی اپنی سیاسی مہم چلا رہے ہیں، ساتھ ہی اپنی تنخواہ وصول کر رہے ہیں ۔ کیا یہ اپنی جاب کے ساتھ ڈنڈی مارنے میں شمار نہیں ہو گا؟ لوگوں نے تمام مذکور افراد کو سینیٹ کے لئے منتخب کیا تھا، اور وہ بہتر جاب کی دوڑ میں جس جاب کے لئے منتخب ہوئے تھے اُس میں کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟

اور اس کے علاوہ اس ہفتے نیویارک شہر میں ایک تعمیراتی کرین ایک عمارت پر گرنے سے اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ نیویارک شہر میں حالیہ تاریخ میں سب سے المناک تعمیراتی حادثی تھا ۔


یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں

سب کچھ تاریخی۔ پر 3 تبصرے ہوئے ہیں

اس بلاگ پر تمام تبصروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔تبصرہ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے خانہ پر اپنا تبصرہ لکھ کر ارسال کریں۔ رومن اردو یا انگریزی میں کئے گئے تبصروں کے شائع کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

  1. راشد کامران

    نیویارک کے گورنر والے معاملے میں تو میں امریکی نظام میں بڑوں کے احتساب کا معترف ہوں.. رہا صدر بننے کا معاملہ تو یہ تو عجیب سی صورت اختیار کرتا جارہا ہے .. ہر روز کوئی نئی پھلجڑی چھوٹتی ہے اور کرکٹ کے گیم کی طرح پانسہ کبھی ادھر کبھی ادھر .. ویسے کہا یہی جارہا ہے کے ابتدائی الیکشن کو اتنا طول دینا ڈیموکریٹس کو نقصان پہچائے گا اور جو کام ریپبلیکن امیدوار کو کرنا تھا وہ ڈیموکریٹ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر خود ہی کر رہے ہیں… امریکی عوام کو اگر انکے ڈنڈی مارنے پر اعتراض نہیں تو ہم چہ پدی اور چہ پدی کا شوربہ

  2. جہانزیب

    راشد میں بقلم خود بھی تو امریکی عوام ہوں .

  3. راشد کامران

    چلیں “ہم” کو “میں” سے تبدیل کر لیں اور بحیثیت امریکی عوام میں آپ کا بھی قائل ہوں:)

Trackbacks/Pingbacks