امریکی جرگہ

Thursday,20 November 2008
از :  
زمرات : نیو یارک, امریکہ

کہتے ہیں دو امور انجام دیتے وقت آپ کو امریکی شہری ہونے کا احساس ہوتا ہے، ایک رائے دہی کا حق استعمال کر کے اور دوسرا منصفی کے فرائض انجام دے کر ۔پچھلے مہینے یکے بعد دیگرے ان دونوں امور سے میرا واسطہ رہا ۔
فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی  انصاف میں کلیدی حثیت  ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں  لیکن نا مکمل ہے ۔ امریکہ میں دو مختلف قسم کی جیوری عدالتی امور میں فرائض انجام دیتی ہیں ۔

گرینڈ جیوری کا کمرہ

پیٹٹ یا ٹرائل جیوری ۔
یہ وہ جیوری ہے جس کا ذکر شروع میں کیا تھا،یا ایک عام شخص کے ذہن میں عدالت کا جو تصور ہوتا ہے، جس میں ایک جج، دو وکیل، ملزم، گواہ، پولیس اور ثبوت اور ان کے متعلق مباحث اور دلائل موجود ہوتے ہیں، یہ جیوری نیویارک میں نو سے بارہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جو سب دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہیں، جس کی روشنی میں جج سزا یا رہا کرنے کا فیصلہ سناتا ہے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ معصوم یا مجرم کا فیصلہ جیوری کرتی ہے نا کہ جج، اور فیصلے کو جج نہیں بدل سکتا، جج قانون کے مطابق اس پر سزا سناتا ہے ۔اور انصاف کے مراحل میں یہ سب سے آخری مرحلہ ہوتا ہے ۔ٹرائیل جیوری صرف ایک مقدمہ سنتی ہے، اور عموماً چار سے پانچ دن میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاتی ہے ۔

گرینڈ جیوری ۔
نیویارک میں گرینڈ جیوری 23 افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اور کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے 12 افراد کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی مقدمہ پر کم از کم 16 افراد کا موجود ہونا لازمی ہے ۔
ٹرائل جیوری کے برعکس گرینڈ جیوری میں جج، وکیلِ صفائی اور زیادہ تر مقدمات میں ملزم موجود نہیں ہوتا ۔ یہ انصاف کا دوسرا مرحلہ ہے، سب سے پہلے پولیس کسی شخص کو گرفتار کرتی ہے، یا اس کے خلاف ثبوت تیار کرتی ہے، جسے ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں بھیجا جاتا ہے، ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اس مقدمہ پر ایک وکیل کے فرائض لگاتا ہے، جسے پراسیکیوٹر کہتے ہیں ۔ یہ پراسیکیوٹر مقدمہ گرینڈ جیوری کے سامنے پیش کرتا ہے، مقدمہ میں ثبوت اور گواہان اور پولیس افسران جنہوں نے مقدمہ تیار کیا ہے، جیوری کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری نہ صرف ان سب کے دلائل اور ثبوت سنتی ہے، بلکہ سوالات پوچھ سکتی ہے، کسی ابہام کی صورت میں مزید گواہوں کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود گرینڈ جیوری مقدمہ میں کسی کو بری یا مجرم نامزد نہیں کر سکتی، بلکہ تمام مہیا کردہ ثبوتوں کی روشنی میں اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا مقدمہ اس قابل ہے کہ اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جہاں پھر ٹرائل جیوری دونوں فریقین کا نکتہ نظر سنے گی ۔ یا پھر مقدمہ کو رد کر دیا جائے، گرینڈ جیوری سے رد کیا جانے والا مقدمہ عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہو، تو وہ اسی وقت آزاد اور اس پر لگائے الزامات واپس لے لئے جاتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری ایک مہینے تک فرائض انجام دیتی ہے، اور اس دوران مختلف مقدمات پر شواہد اور ثبوت دیکھتی ہے ۔

جیورر یا منصف بننے کے مرحلے کا آغاز ایک عدد خط سے ہوتا ہے، جو آپ کو جس ریاست میں آپ میں رہائش پذیر ہیں کے محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے، یہ ایک عام سا خط ہوتا ہے لیکن پندرہ دن کے اندر اس کا جواب دینا لازم ہے، اس خط کے جواب میں آپ اپنی معلومات لکھتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ آیا آپ جیوری ڈیوٹی انجام دینا چاہتے ہیں کہ نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں، وجوہات میں امریکی شہری نہیں، انگریزی بول اور سمجھ نہیں سکتا، یہ انکار کی سب سے سہل وجوہات ہیں، اگر آپ پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا تو پھر آپ دیگر وجوہات کے خانہ میں اپنی معذوری کی وجہ بیان کر سکتے ہیں، جیسے ایک ماں جس پر ۱۲ سال سے کم عمر کے بچوں کی ذمہ داری ہے اس سے مستثنیٰ ہے ۔ مجھے پچھلے پانچ سال سے یہ خطوط آ رہے تھے، پہلے میں امریکی شہری نہیں تھا، بہت سے دیسی دوسری ترجیع کا استعمال بھی کرتے ہیں، لیکن اب یہ اتنی قابل قبول نہیں کہ امریکی شہری بننے کی ایک شرط انگریزی بھی ہے ۔

میرا جیورر کارڈ
یہ کرنے کے بعد آپ جب سب کچھ بھول جاتے ہیں، تو ایک عدد خط اور آ جاتا ہے، لیکن یہ طلبی کا پروانہ ہوتا، جس میں اپنے علاقے کی سپریم کورٹ میں کمشنر آف جیوررز کے آفس میں بقلم خود جانا ہوتا، اس کے لئے بھی آپ کے پاس پندرہ دن ہوتے ہیں ۔وہاں ایک دفعہ پھر آپ اپنی معلومات دیتے ہیں، اور اگر جیوری ڈیوٹی نہیں کر سکتے تو اپنا عذر پیش کرتے ہیں ۔
تیسرے مرحلہ میں پکے وارنٹ مطلب عدالت کی طرف سے طلبی کا نوٹس آتا ہے، جہاں پر دن، وقت اور مقام بتایا گیا ہوتا ہے، اور آپ کس قسم کی جیوری میں فرائض انجام دیں گے لکھا ہوتا ہے ۔
مقررہ دن حاضر ہونے پر، عدالتی عملہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہے، میرے ساتھ 150 افراد اور لوگ بھی موجود تھے، سب لوگوں کے آ جانے پر ایک جج فرائض ادا کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور گرینڈ جیوری کے متعلق ابتدائی معلومات دیتا ہے، اور پھر جیوری کا چناو کرتا ہے ۔ ہم 150 لوگوں میں سے چھ عدد جیوررز کے پینل بنائے گئے، ہر پینل 23 افراد پر مشتمل تھا، یعنی 12 افراد کو پینل میں نہیں چنا گیا، یہ اضافی لوگ، کسی کے نہ آنے کی صورت میں بلوائے جاتے ہیں ۔چناؤ کے لئے سب کے نام ایک ڈبے میں ڈال کر، باری باری ایک ایک نام نکالا جاتا ہے ۔ ہر پینل باری باری ایک مہینہ تک فرائض انجام دیتا ہے ۔ اس کے بعد جس پینل میں آپ کا انتخاب ہوا ہو، اس کی مقرر کردہ تاریخ پر آپ کو واپس عدالت جانا ہونا ہے ۔
مقررہ تاریخ کو پہلا دن تو صرف ویڈیوز دیکھتے، گزر جاتا ہے، اس کے علاوہ کمشنر آف جیوررز آپ کو فرائض کے بارے میں بتاتا ہے، اور اسکی اہمیت کو انصاف کے حصول کے لئے اجاگر کرتا ہے، ساتھ میں آپ کو ایک عدد کتابچہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں وہی باتیں دوبارہ لکھی ہوتی ہیں ۔
اصل کام اگلے دن سے شروع ہوتا ہے، پراسیکیوٹر، ایک عدد سٹینوگرافر کے ساتھ وارد ہوتا ہے، اور اپنا کیس پیش کرتا ہے، اس کے بعد گواہان کو ایک ایک کر کے سامنے لایا جاتا ہے، جیوری سب کو سنتی ہے، ان کے بیانات کا موازنہ کرتی ہے، مزید سوالات پوچھتی ہے، اور اگر پھر بھی کچھ واضح نہ ہو تو مزید گواہ طلب کر سکتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لئے 12 افراد کی حمایت ہونا لازمی ہے ۔ ایک اور بات جو گرینڈ جیوری میں ہے، فرض کریں پہلا پراسیکیوٹر پہلا مقدمہ لاتا ہے، اور ساتھ ایک گواہ پہلے دن پیش کرتا ہے، لیکن ہو سکتا ہے مقدمہ میں دوسرا گواہ ایک، یا دو ہفتہ بعد آئے، تو مقدمات کو گڈمڈ کرنے کی بجائے گرینڈ جیورر ہر مقدمے کے نوٹس تیار کرتے ہیں، ایک مقدمہ پر تمام ثبوت مکمل ہونے پر، پراسیکیوٹر جیوری سے ووٹنگ کی درخواست کرتا ہے، لیکن جب جیوری ووٹنگ کے مرحلہ میں ہو، تو سوا جیوری کے کسی بھی فرد کو جیوری کے کمرہ میں موجود ہونے کی اجازت نہیں، یہاں سب جیوررز بحث کرتے ہیں، پھر ووٹ دے کر کہ مقدمہ کو آگے بھیجا جائے یا یہیں خارج کر دیا کا فیصلہ کرتے ہیں ۔
اس ایک مہینے میں ہمارے پینل نے 81 مقدمات سنے، اور اسی معاشرے میں رہتے ہوئے جو تصویر آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے، کا بغور مشاہدہ کیا ۔جب آپ جیوری روم میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اکثر اوقات منظر جذباتی ہوتا ہے، مثلاً ایک مقدمہ ہمارے پاس آیا جس میں ایک لڑکی جب نو سال کی تھی، تب سے اس کا باپ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا، اور اس وقت اسکی عمر 17 سال تھی ۔ اس مقدمہ سے پہلے میں سوچتا تھا کہ جن خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ عدالت کا رخ کیوں نہیں کرتی ہیں؟ اور جواب مقدمہ دیکھ کر مل گیا، کہ انہیں دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ بہت اچھا تجربہ تھا، جہاں آپ کو محسوس ہوتا ہے، کہ ملک کی اصل طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے ۔

تبصرہ جات

“امریکی جرگہ” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بہترین تحریر .. آپ نے اچھا کیا اس بارے میں لکھ کر. خاص کر ہم لوگوں کے لیے جن کا خیال ہے کہ شہری ہونا کوئی ذمہ داری نہیں اور ہر کام حکومت نے کرنے ہیں.

  2. زیک says:

    آئ فون سے اردو لکھ رہا ہوں

  3. عثمان says:

    یار..
    لکھا تو بہت اچھا ہے
    لیکن پھر بھی موضوع کا حق ادا نہیں کیا کہ یہ بہت جاندار موضوع ہے اور بہت کچھ لکھا جانا چاہیے.
    کینیڈا میں بھی جیوری سسٹم ہے لیکن محدود پیمانے پر. مجھے اس بارے میں کوئی اتفاق نہیں ہوا اس لئے لاعلم ہے.
    کئی سوالات ہیں ذہن میں لیکن فی الحال ایک ہی پوچھنے پر اکتفا کرتا ہوں.
    کیا آپ مقدمہ کے متعلق معلومات کو باہر عام لوگوں سے سئیر کر سکتے ہیں؟ یا اس بارے میں کوئی عدالتی پابندی ہوتی ہے؟

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔