بہار آئی

Thursday,1 May 2008
از :  
زمرات : میری پسند

Spring in New York
بہار آئی تو جیسے اِک بار
لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کہ ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں
جو تیرے عشاق کا لہو ہیں

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے
ملالِ احوالِ دوستاں بھی
خمارِ آغوشِ مہوشاں بھی
غبارِ خاطر کے باب سارے
تیرے ہمارے
سوال سارے، جواب سارے
بہار آئی تو کُھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے۔

فیض احمد فیض۔

تبصرہ جات

“بہار آئی” پر 2 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. طاہر اقبال says:

    پہلا مصرہ کچھ یس طرح ہونا چاہیے:
    “بہار آئی تو جیسے یکبار”

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔