ورچوئل زندگی

Sunday,11 January 2009
از :  
زمرات : کمپیوٹر

آج کل کمیوٹر کا دور ہے اور کمپیوٹر کی مداخلت زندگی کے ہر شعبہ میں بڑھتی جا رہی ہے ۔ بہت سے لوگوں کو کمپیوٹر کی اس بڑھتی ہوئی مداخلت پر بہت سے تخفظات ہیں جیسے کہ مالی معاملات پر۔ جہاں کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنے سے آپ کو آسانیاں ہیں وہیں اس سے آپ کی نجی زندگی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت بھی بہتر ہے کہ اب صرف مالی معاملات جیسے کریڈٹ کارڈ کے استعمال کے ریکارڈ سے آپ کا پتہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اور مستقبل میں جب اصل زر استعمال کرنا انتہائی کم ہو جائے گا اس کی افادیت اور بڑھ جائے گی ۔ اسی طرح جرائم کی دنیا میں بھی بنک لوٹنے کا خطرہ مول لینے کی بجائے کریڈٹ کارڈ کی معلومات اڑا لی جاتی ہیں ۔
اسی طرح اب دوستی کرنے کے بھی کمپیوٹری ذرائع بن چکے ہیں، سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس جیسے آرکٹ، فیس بک اور مائی سپیس مقبولیت میں پہلے درجہ میں آتی ہیں ۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ذہنی طور پر ہم جتنا ان سوشل نیٹ ورکس کے مطیع ہوتے جا رہے ہیں، عملی طور پر لوگوں سے اتنا ہی دور ہوتے جا رہے ہیں ۔
اسی طرح میچ میکنگ کی ویب سائٹ ہیں، جہاں پر آپ کی پسند کو دیگر لوگوں کی پسند سے ملا کر مطابقت رکھنے والے لوگوں کی فہرست آپ کو دکھا دی جاتی ہے ۔ اب کیا آپ بالکل اپنے جیسے ہی ایک اور شخص سے زندگی گزار سکتے ہیں؟ میں تو نہیں گزار سکتا اسی لئے تو جیون ساتھی کو نصف بہتر بھی کہتے ہیں ۔ کہ جو خامیاں مجھ میں ہوں انہیں وہ پورا کرے ۔

تبصرہ جات

“ورچوئل زندگی” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. 😛 اب تو ہر چیز ورچوئل ہو گئی ہے تعلیمی ادارے تک مجھے تو لگتا ہے چند سال بعد کھانا پینا بھی ورچوئل ہی ہو جائے گا 😛

  2. برادر!
    “احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات”

  3. ڈفر says:

    ابو شامل کے تبصرے سے بالکل متفق ہوں
    یہ جو نئی ورچوئل زندگی متعارف کروائی گئی ہے یہ اس ساری دنیا سے معاشرتی اقدار کو قتل کر دے گی اور واقعی ہمیں ذہنی معذور بنا دے گی. آخر میں بچے گا صرف وہ طبقہ جو اس سے بالکل بے بہرہ ہو گا. دنیا کے اگلے حکمران آج کی تیسری دنیا کے غربا ہوں‌گے

  4. بدتمیز says:

    کیا آپ نے وہ خبر دیکھی ہے جس میں اسکولوں میں داخلے کے لئے امیدوار کا کالج یونیورسٹی تک چل کر جانا لازمی نہیں. اب وہ سکائپ استعمال کرتے ہوئے طالب علم سے گھر بیٹھے ہی انٹرویو کر لیتے ہیں. یہ خبر اس لئے بڑی تھی کہ ایسے اسکول کا ذکر تھا جو انڈرگریجویٹ کے لئے بھی یہی پریکٹس کر رہا تھا.

  5. آپ نے بہت شاندار موضوع نکالا ہے.. میں اس سلسلے کو دراز کرنے کا سوچ رہا ہوں اور آج ہی اس پر پوسٹ لکھنے کا ارادہ ہے امید ہے اور بلاگرز بھی اس سلسلے میں بلاگز لکھیں گے. اس وقت ایک چھوٹی سی مثال یاد آرہی ہے کہ چھری بذات خود بری نہیں ہوتی دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کس کے ہاتھ میں ہے اور یہی حال ٹیکنالوجی کا بھی ہے کہ دراصل ٹیکنالوجی بری نہیں اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے.

  6. ڈفر says:

    آہو جی، راشد صاحب کی چھری والی مثال تو عمدہ ہے
    کچھ خربوزے کے بارے میں بھی بتائیں نا 😀

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔