کیا مسلمان، کیا ہندو۔

Wednesday,21 January 2009
از :  
زمرات : متفرق

Girl marries to frog
مسلمانوں میں پیدا ہونے سے پہلے بات پکی کرنے کا رواج، جائیداد سمیٹنے کے نام پر قرآن سے شادی کرنے کا رواج، اور کئی مفتیوں کا اس بات پر اسرار کہ لڑکی آٹھ سال میں عاقل اور بالغ ہو جاتی ہے، ہی کم نہیں تھا، کہ ہندوستان میں مینڈک کے ساتھ لڑکی کی شادی خبر آ گئی ۔ دلہا کی شادی کے موقع پر لی گئی تصویر دیکھیں ۔

Girl marries dog
اسی سے کچھ عرصہ قبل ایک کتے کے ساتھ لڑکی کی شادی بھی تازہ ہو گئی ۔ وہ دلہا بھی دیکھیں ۔

انسانیت اکیسویں صدی میں بھی ناپید ہے ۔

تبصرہ جات

“کیا مسلمان، کیا ہندو۔” پر 8 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. جیسا دیس ویسا بھیس

  2. انسان کی جہالت کا جتنا بھی ماتم کیا جاے کم ہے، کاش قرآن کے ساتھ شادیوں کی بھی تصاویر ملتیں‌ آپ کو!

  3. یہ جو آپ نے آٹھ سال کی لڑکی بالغ ہونے کی بات مفتیوں کے حوالے سے کی ہے ۔ یا تو آپ تک کسی نے غلط پہنچائی ہے یا آپ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے ۔ حکم یہ ہے کہ جب لڑکی آٹہ سال کی ہو جائے تو اسے علیحدہ سلایا جائے ۔ عام رواج ہےکہ بیٹا اور بیٹی کو ایک کمرے میں اور بعض گھروں میں چھوٹی عمر کے بیٹا بیٹی کو ایک بستر پر سلایا جاتا ہے ۔ آپ کسی گائیناکالوجسٹ سے معلوم کر لیں وہ آپ کو واضح کر دے گا کہ یہ اصول درست ہے ۔ ویسے لڑکیاں عام طور پر گیارہ سال کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں گو کہ امریکہ میں دس سالہ لڑکیاں مائیں بن چکی ہیں ۔ دین کے مطابق سولہ سالہ لڑکی کی شادی کی اجازت ہے ۔

  4. بھارت کی مشہور جوڑی کے بارے میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کے مانگلک ہونے کی وجہ سے پہلی شادی درخت کے ساتھ کی گئی تھی. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب پڑھے لکھے اور مشہور لوگوں کے اعتقاد کا یہ عالم ہو تو پھر گاؤں کے لوگوں کے رویے کی کیا شکایت کرنی.

  5. شکاری says:

    قران سے یا دوسری اشیاء سے شادی کرنے کا رواج میرے خیال سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ہے. یہ سب جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے بدقسمتی سے بلوچستان میں تعلیم کا فقدان بھی بہت زیادہ ہے باقی صوبوں کی نسبت.

  6. السلام علیکم
    میں معذرت چاہتا ہوں لیکن شکاری آپ کو خیال درست نہیں ہے. بلوچستان میں تعلیم کا فقدان ضرور ہے. لیکن بلوچستان میں قرآن پاک سے شادی ، ونی ، کاروکاری جیسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں. طارق علی کی اک کتاب میں میں نے پڑھا تھا کہ مخذوم امین فہیم کے تین بہنوں کی شادی قرآن سے کردی گئی.
    شکریہ

  7. اجمل صاحب، جہاں میں نے مفتیوں والی بات کہی ہے، اس کے ساتھ ربط ہے جس میں سعودی عرب کے مفتی اعظم نے آٹھ سالہ لڑکی کی ایک سینتالیس سالہ شخص کے ساتھ شادی کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے .
    اور اس شادی کے خلاف درخواست کرنے والی لڑکی کی ماں تھی، جس کے مطابق لڑکی کے باپ نے ادھار چکتا کرنے کے لئے بچی کو اس شخص سے بیاہ دیا .

  8. اصل میں ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم اصل میں کسی مفتی سے جا کر پوچھنے کی بجاے سی این این یا بی بی سی سے پوچھتے ہیں اسی لیے ہم ماڈرن مسلمان ہیں

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔